Mani Jayasi

مانی جائسی

  • 1985 - 1963

مانی جائسی کے تمام مواد

16 غزل (Ghazal)

    ہر طرف شور ہے مانیؔ چمن آرائی ہے

    ہر طرف شور ہے مانیؔ چمن آرائی ہے تو بھی پھر درس فغاں دے کہ بہار آئی ہے بے طلب سب نے یہاں داد ستم پائی ہے حشر ہے نالہ نہ کرنے میں بھی رسوائی ہے واقعی کچھ نہیں یا کچھ نظر آتا ہی نہیں دل مہجور یہ ظلمت ہے کہ تنہائی ہے مدعا میرے جنوں کا تو ہے تحسین بہار اور دنیا یہ سمجھتی ہے کہ سودائی ...

    مزید پڑھیے

    زیست کے آثار رخصت ہیں محبت دل میں ہے

    زیست کے آثار رخصت ہیں محبت دل میں ہے کارواں جاتا ہے میر کارواں منزل میں ہے آؤ دم سینے میں باقی ہے نہ حسرت دل میں ہے اب تو جو کچھ ہے وہ چشم منتظر کے تل میں ہے ہاں ازل سے جو مقدر ہے وہی ہوگا مگر جذبۂ تائید قدرت سعئ لا حاصل میں ہے جاں ستاں ہے حسن کیا حسن طلب کی احتیاج وہ تو زینت کے ...

    مزید پڑھیے

    خیر سے زیست کا اے کاش ہو انجام ابھی

    خیر سے زیست کا اے کاش ہو انجام ابھی وقت اچھا ہے زباں پر ہے ترا نام ابھی ہاں لبالب تو ہے لبریز نہیں جام ابھی ضبط میں ہے اثر گردش ایام ابھی وہ نہیں ہیں تو نگاہوں میں ہے دنیا اندھیر کیسے روشن تھے منور تھے در و بام ابھی یہی سمجھیں گے محبت کو حیات جاوید جو سمجھتے ہیں اسے موت کا پیغام ...

    مزید پڑھیے

    یہ کون مانے کہ نا آشنائے راز ہے تو

    یہ کون مانے کہ نا آشنائے راز ہے تو مگر یہی کہ خداوند بے نیاز ہے تو اس آستاں پہ جو سر ہے تو سرفراز ہے تو نیاز مندیٔ عالم سے بے نیاز ہے تو سمجھ میں آئے نہ آئے ادائے چارہ گری مجھے تو ہے یہ بھروسا کہ چارہ ساز ہے تو فنا نہیں ہے اجل عمر جاودانی ہے وجود ہے وہ حقیقت کہ جس کا راز ہے ...

    مزید پڑھیے

    رہ الفت میں یوں تو کعبہ و بت خانہ آتا ہے

    رہ الفت میں یوں تو کعبہ و بت خانہ آتا ہے جبیں جھکتی ہے لیکن جب در جانانہ آتا ہے سفر طے ہو چکا شاید در جانانہ آتا ہے کہ دل سوئے جبیں سجدے کو بے تابانہ آتا ہے تری امید وصل حور ہے اک زہد پر مبنی مگر واعظ مجھے ہر شیوۂ رندانہ آتا ہے ہنسی آئے تجھے یا نیند لیکن آہ مجھ کو تو بس اے بیگانۂ ...

    مزید پڑھیے

تمام