ماہر آروی کے تمام مواد

4 غزل (Ghazal)

    در آپ کا ہم چھوڑ کے اب جائیں کہاں اور

    در آپ کا ہم چھوڑ کے اب جائیں کہاں اور ہے ترک تعلق میں خود اپنا ہی زیاں اور آسان اٹھانا نہ تھا کچھ بار خلافت جز میرے اٹھاتا بھی کوئی بار گراں اور دل ہے کہ کوئی چوب تر و تازہ و شاداب جب آگ سلگتی ہے تو اٹھتا ہے دھواں اور ہے فصل بہاراں میں چمن شعلہ بداماں اب دیکھیے کیا ہوتا ہے ...

    مزید پڑھیے

    داغ دل اپنا کسی طرح دکھائے نہ بنے

    داغ دل اپنا کسی طرح دکھائے نہ بنے اور چاہوں جو چھپانا تو چھپائے نہ بنے دامن دل میں وہ جب چاہیں لگا دیں اک آگ ہم اگر چاہیں بجھانا تو بجھائے نہ بنے تم کو منظور نہیں اپنے تغافل سے گریز ہم پہ بن آئی ہے ایسی کہ بنائے نہ بنے اف رے یہ تیرہ نصیبی یہ اندھیرے کا فروغ دیپ آنکھوں کا جلاؤں ...

    مزید پڑھیے

    ایسا نہیں کوئی کہ شناسا کہیں جسے

    ایسا نہیں کوئی کہ شناسا کہیں جسے ملتا کہاں ہے کوئی ہم اپنا کہیں جسے اک مرکز خیال ہے دنیا کہیں جسے کوئی نظر تو آئے کہ تم سا کہیں جسے سایہ بھی بھاگتا ہے جہاں اپنی ذات سے وہ ہے سراب دشت تمنا کہیں جسے زلف دراز بن کے الجھتی رہی مدام اک تار عنکبوت ہے دنیا کہیں جسے ماہرؔ وہی نہ کہتے ...

    مزید پڑھیے

    کب اشک شب ہجر سمندر نہ ہوا تھا

    کب اشک شب ہجر سمندر نہ ہوا تھا ہاں قطرۂ نیساں ابھی گوہر نہ ہوا تھا پر نور ہوا خانۂ دل ان کے قدم سے اس سے کبھی پہلے یہ منور نہ ہوا تھا زلفیں تو سنورتی ہی رہیں بارہا لیکن آئینہ کبھی رخ کے برابر نہ ہوا تھا ہم زاد کی صورت رہی تا عمر اسیری اس سے جو رہا ہونا مقدر نہ ہوا تھا ملنا تھا نہ ...

    مزید پڑھیے