در آپ کا ہم چھوڑ کے اب جائیں کہاں اور
در آپ کا ہم چھوڑ کے اب جائیں کہاں اور ہے ترک تعلق میں خود اپنا ہی زیاں اور آسان اٹھانا نہ تھا کچھ بار خلافت جز میرے اٹھاتا بھی کوئی بار گراں اور دل ہے کہ کوئی چوب تر و تازہ و شاداب جب آگ سلگتی ہے تو اٹھتا ہے دھواں اور ہے فصل بہاراں میں چمن شعلہ بداماں اب دیکھیے کیا ہوتا ہے ...