لتا حیا کے تمام مواد

5 غزل (Ghazal)

    ہر قدم حادثے ہر نفس تلخیاں

    ہر قدم حادثے ہر نفس تلخیاں زندگی برق طوفاں خزاں آندھیاں رفتہ رفتہ یہی بوجھ لگنے لگیں کیوں بڑی ہو گئیں ماں تری بیٹیاں میری دنیا تری ذات میں قید ہے مجھ کو خیرات میں دے نہ آزادیاں تیرگی خامشی بے بسی تشنگی ہجر کی رات میں خامیاں خامیاں آپ ہی آندھیوں سے الجھتے رہے میں تو لائی ...

    مزید پڑھیے

    میں غزل ہوں مجھے جب آپ سنا کرتے ہیں

    میں غزل ہوں مجھے جب آپ سنا کرتے ہیں چند لمحے مرا غم بانٹ لیا کرتے ہیں جب وفا کرتے ہیں ہم صرف وفا کرتے ہیں اور جفا کرتے ہیں جب صرف جفا کرتے ہیں لوگ چاہت کی کتابوں میں چھپا کر چہرے صرف جسموں کی ہی تحریر پڑھا کرتے ہیں لوگ نفرت کی فضاؤں میں بھی جی لیتے ہیں ہم محبت کی ہوا سے بھی ڈرا ...

    مزید پڑھیے

    میں نے ویرانے کو گلزار بنا رکھا ہے

    میں نے ویرانے کو گلزار بنا رکھا ہے کیا برا ہے جو حقیقت کو چھپا رکھا ہے دور حاضر میں کوئی کاش زمیں سے پوچھے آج انسان کہاں تو نے چھپا رکھا ہے وہ تو خود غرضی ہے لالچ ہے ہوس ہے جن کا نام اس دور کے انساں نے وفا رکھا ہے وہ مرے صحن میں برسے گا کبھی تو کھل کر میں نے خواہش کا شجر کب سے لگا ...

    مزید پڑھیے

    میں پی رہی ہوں کہ زہراب ہیں مرے آنسو

    میں پی رہی ہوں کہ زہراب ہیں مرے آنسو تری نظر میں فقط آب ہیں مرے آنسو تو آفتاب ہے میرا میں تجھ سے ہوں روشن ترے حضور تو مہتاب ہیں مرے آنسو وہ غالباً انہیں ہاتھوں میں تھام بھی لیتا اسے خبر نہ تھی سیلاب ہیں مرے آنسو خیال رکھتے ہیں تنہائیوں کا محفل کا یہ کتنے واقف آداب ہیں مرے ...

    مزید پڑھیے

    قسمت عجیب کھیل دکھاتی چلی گئی

    قسمت عجیب کھیل دکھاتی چلی گئی جو ہنس رہے تھے ان کو رلاتی چلی گئی دل گویا حادثات مسلسل کا شہر ہو دھڑکن بھی چیخ بن کے ڈراتی چلی گئی کاغذ کی طرح ہو گئی بوسیدہ زندگی تحریر حسرتوں کی مٹاتی چلی گئی میں چاہتی نہیں تھی مگر پھر بھی جانے کیوں آئی جو تیری یاد تو آتی چلی گئی آنکھوں کی ...

    مزید پڑھیے