Krishn Adeeb

کرشن ادیب

  • 1915 - 1999

کرشن ادیب کے تمام مواد

7 غزل (Ghazal)

    گو جام مرا زہر سے لبریز بہت ہے

    گو جام مرا زہر سے لبریز بہت ہے کیا جانیے کیوں پینے سے پرہیز بہت ہے شو کیس میں رکھا ہوا عورت کا جو بت ہے گونگا ہی سہی پھر بھی دل آویز بہت ہے اشعار کے پھولوں سے لدی شاخ تمنا مٹی مرے احساس کی زرخیز بہت ہے کھل جاتا ہے تنہائی میں ملبوس کی مانند وہ رشک گل تر کہ کم آمیز بہت ہے موسم کا ...

    مزید پڑھیے

    سر پھری پاگل ہوا کا تیز جھونکا آئے گا

    سر پھری پاگل ہوا کا تیز جھونکا آئے گا حسرتوں کے خشک پتوں کو اڑا لے جائے گا دودھیا آکاش میں کس کو صدا دیتا ہے تو تیرے ماضی کا پرندہ اب نہ واپس آئے گا چھوٹی چھوٹی خواہشوں کا قتل ہوتے دیکھ کر عمر کا احساس رخ پر گرد بن کے چھائے گا وقت اس سے چھین لے گا خود پسندی کا غرور ہاں یقیناً وہ ...

    مزید پڑھیے

    مدرسہ آوارگی اور ہاتھ میں بستہ نہ تھا

    مدرسہ آوارگی اور ہاتھ میں بستہ نہ تھا جو کتابوں میں ہے لکھا اس کو وہ پڑھتا نہ تھا یوں تو دروازے کھلے تھے سارے اس کے واسطے وہ مسافر راستوں کا ایک جا ٹھہرا نہ تھا جو سناتا تھا کبھی آب رواں کی داستاں اس کے ہونٹوں کا مقدر اوس کا قطرہ نہ تھا تشنگی ہی تشنگی تھی اور صحرا کے سراب آنکھ ...

    مزید پڑھیے

    ساحلوں کی خامشی نے جب فسردہ کر دیا

    ساحلوں کی خامشی نے جب فسردہ کر دیا خواہشوں کی کشتیوں کو غرق دریا کر دیا جسم کیا تھا لذتوں کا ایک دریا تھا کبھی ہر کسی نے پی کے جس کو آج صحرا کر دیا آج بیٹھے تک رہے ہیں عمر کا خالی گلاس موسموں کا مے کدہ یہ کس نے سونا کر دیا میں برہنہ جسم اس کا اوڑھ کر پھرتا رہا جامہ پوشی کے جنوں نے ...

    مزید پڑھیے

    دھیما دھیما درد سہانا ہم کو اچھا لگتا تھا

    دھیما دھیما درد سہانا ہم کو اچھا لگتا تھا دکھتے جی کو اور دکھانا ہم کو اچھا لگتا تھا زخم کو اپنے پھول سمجھنا موتی کہنا اشکوں کو عشق کا کاروبار سجانا ہم کو اچھا لگتا تھا دن دن بھر آوارہ پھرنا ایک ہماری عادت تھی رات گئے گھر لوٹ کے آنا ہم کو اچھا لگتا تھا بیٹھ کے یاروں کی محفل میں ...

    مزید پڑھیے

تمام