Khushbir Singh Shaad

خوشبیر سنگھ شادؔ

اہم ترین معاصر شاعروں میں شامل، عوامی مقبولیت بھی حاصل

One of the most prominent contemporary poets, also having popular appeal.

خوشبیر سنگھ شادؔ کے تمام مواد

27 غزل (Ghazal)

    سمندر یہ تری خاموشیاں کچھ اور کہتی ہیں

    سمندر یہ تری خاموشیاں کچھ اور کہتی ہیں مگر ساحل پہ ٹوٹی کشتیاں کچھ اور کہتی ہیں ہمارے شہر کی آنکھوں نے منظر اور دیکھا تھا مگر اخبار کی یہ سرخیاں کچھ اور کہتی ہیں ہم اہل شہر کی خواہش کہ مل جل کر رہیں لیکن امیر شہر کی دلچسپیاں کچھ اور کہتی ہیں

    مزید پڑھیے

    چشم حیرت سارے منظر ایک جیسے ہو گئے

    چشم حیرت سارے منظر ایک جیسے ہو گئے دیکھ لے صحرا سمندر ایک جیسے ہو گئے جاگتی آنکھوں کو میری بارہا دھوکا ہوا خواب اور تعبیر اکثر ایک جیسے ہو گئے وقت نے ہر ایک چہرہ ایک جیسا کر دیا آرزو کے سارے پیکر ایک جیسے ہو گئے جب سے ہم کو ٹھوکریں کھانے کی عادت ہو گئی راستوں کے سارے پتھر ایک ...

    مزید پڑھیے

    وحشتیں بھی کتنی ہیں آگہی کے پیکر میں

    وحشتیں بھی کتنی ہیں آگہی کے پیکر میں جل رہا ہے سورج بھی روشنی کے پیکر میں رات میری آنکھوں میں کچھ عجیب چہرے تھے اور کچھ صدائیں تھیں خامشی کے پیکر میں ہر طرف سرابوں کے کچھ حسین منظر تھے اور میں بھی حیراں تھا تشنگی کے پیکر میں میں نے تو تصور میں اور عکس دیکھا تھا فکر مختلف کیوں ...

    مزید پڑھیے

    رفتہ رفتہ منظر شب تاب بھی آ جائیں گے

    رفتہ رفتہ منظر شب تاب بھی آ جائیں گے نیند تو آ جائے پہلے خواب بھی آ جائیں گے کیا پتہ تھا خون کے آنسو رلا دیں گے مجھے اس کہانی میں کچھ ایسے باب بھی آ جائیں گے خشک آنکھوں نے تو شاید یہ کبھی سوچا نہ تھا ایک دن صحراؤں میں سیلاب بھی آ جائیں گے حوصلے یوں ہی اگر بڑھتے گئے تو ...

    مزید پڑھیے

    ہوا کے پر کترنا اب ضروری ہو گیا ہے

    ہوا کے پر کترنا اب ضروری ہو گیا ہے مرا پرواز بھرنا اب ضروری ہو گیا ہے مرے اندر کئی احساس پتھر ہو رہے ہیں یہ شیرازہ بکھرنا اب ضروری ہو گیا ہے میں اکثر زندگی کے ان مراحل سے بھی گزرا جہاں لگتا تھا مرنا اب ضروری ہو گیا ہے مری خاموشیاں اب مجھ پہ حاوی ہو رہی ہیں کہ کھل کر بات کرنا اب ...

    مزید پڑھیے

تمام