شاعری

ڈھاکہ سے واپسی پر

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد تھے بہت بے درد لمحے ختم درد عشق کے تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد دل تو چاہا پر شکست دل نے مہلت ہی نہ دی کچھ گلے ...

مزید پڑھیے

واسوخت

سچ ہے ہمیں کو آپ کے شکوے بجا نہ تھے بے شک ستم جناب کے سب دوستانہ تھے ہاں جو جفا بھی آپ نے کی قاعدے سے کی ہاں ہم ہی کاربند اصول وفا نہ تھے آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہرباں بھولے تو یوں کہ جیسے کبھی آشنا نہ تھے کیوں داد غم ہمیں نے طلب کی برا کیا ہم سے جہاں میں کشتۂ غم اور کیا نہ ...

مزید پڑھیے

ہجر کی راکھ اور وصال کے پھول

آج پھر درد و غم کے دھاگے میں ہم پرو کر ترے خیال کے پھول ترک الفت کے دشت سے چن کر آشنائی کے ماہ و سال کے پھول تیری دہلیز پر سجا آئے پھر تری یاد پر چڑھا آئے باندھ کر آرزو کے پلے میں ہجر کی راکھ اور وصال کے پھول

مزید پڑھیے

تم ہی کہو کیا کرنا ہے

جب دکھ کی ندیا میں ہم نے جیون کی ناؤ ڈالی تھی تھا کتنا کس بل بانہوں میں لوہو میں کتنی لالی تھی یوں لگتا تھا دو ہاتھ لگے اور ناؤ پورم پار لگی ایسا نہ ہوا، ہر دھارے میں کچھ ان دیکھی منجدھاریں تھیں کچھ مانجھی تھے انجان بہت کچھ بے پرکھی پتواریں تھیں اب جو بھی چاہو چھان کرو اب جتنے ...

مزید پڑھیے

آخری خط

وہ وقت مری جان بہت دور نہیں ہے جب درد سے رک جائیں گی سب زیست کی راہیں اور حد سے گزر جائے گا اندوہ نہانی تھک جائیں گی ترسی ہوئی ناکام نگاہیں چھن جائیں گے مجھ سے مرے آنسو مری آہیں چھن جائے گی مجھ سے مری بے کار جوانی شاید مری الفت کو بہت یاد کرو گی اپنے دل معصوم کو ناشاد کرو گی آؤگی ...

مزید پڑھیے

موضوع سخن

گل ہوئی جاتی ہے افسردہ سلگتی ہوئی شام دھل کے نکلے گی ابھی چشمۂ مہتاب سے رات اور مشتاق نگاہوں کی سنی جائے گی اور ان ہاتھوں سے مس ہوں گے یہ ترسے ہوئے ہات ان کا آنچل ہے کہ رخسار کہ پیراہن ہے کچھ تو ہے جس سے ہوئی جاتی ہے چلمن رنگیں جانے اس زلف کی موہوم گھنی چھاؤں میں ٹمٹماتا ہے وہ ...

مزید پڑھیے

بہار آئی

بہار آئی تو جیسے یک بار لوٹ آئے ہیں پھر عدم سے وہ خواب سارے شباب سارے جو تیرے ہونٹوں پہ مر مٹے تھے جو مٹ کے ہر بار پھر جئے تھے نکھر گئے ہیں گلاب سارے جو تیری یادوں سے مشکبو ہیں جو تیرے عشاق کا لہو ہیں ابل پڑے ہیں عذاب سارے ملال احوال دوستاں بھی خمار آغوش مہ وشاں بھی غبار خاطر کے باب ...

مزید پڑھیے

تم اپنی کرنی کر گزرو

اب کیوں اس دن کا ذکر کرو جب دل ٹکڑے ہو جائے گا اور سارے غم مٹ جائیں گے جو کچھ پایا کھو جائے گا جو مل نہ سکا وہ پائیں گے یہ دن تو وہی پہلا دن ہے جو پہلا دن تھا چاہت کا ہم جس کی تمنا کرتے رہے اور جس سے ہر دم ڈرتے رہے یہ دن تو کئی بار آیا سو بار بسے اور اجڑ گئے سو بار لٹے اور بھر پایا اب ...

مزید پڑھیے

دعا

آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی ہم جنہیں رسم دعا یاد نہیں ہم جنہیں سوز محبت کے سوا کوئی بت کئی خدا یاد نہیں آئیے عرض گزاریں کہ نگار ہستی زہر امروز میں شیرینی فردا بھر دے وہ جنہیں تاب گراں باری ایام نہیں ان کی پلکوں پہ شب و روز کو ہلکا کر دے جن کی آنکھوں کو رخ صبح کا یارا بھی نہیں ان کی ...

مزید پڑھیے

و یبقٰی وجہ ربک(ہم دیکھیں گے)

ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے جو لوح ازل میں لکھا ہے جب ظلم و ستم کے کوہ گراں روئی کی طرح اڑ جائیں گے ہم محکوموں کے پاؤں تلے جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی اور اہل حکم کے سر اوپر جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی جب ارض خدا کے کعبے سے سب بت اٹھوائے جائیں گے ہم اہل صفا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4294 سے 5858