نہ دید ہے نہ سخن اب نہ حرف ہے نہ پیام
نہ دید ہے نہ سخن اب نہ حرف ہے نہ پیام کوئی بھی حیلۂ تسکیں نہیں اور آس بہت ہے امید یار نظر کا مزاج درد کا رنگ تم آج کچھ بھی نہ پوچھو کہ دل اداس بہت ہے
نہ دید ہے نہ سخن اب نہ حرف ہے نہ پیام کوئی بھی حیلۂ تسکیں نہیں اور آس بہت ہے امید یار نظر کا مزاج درد کا رنگ تم آج کچھ بھی نہ پوچھو کہ دل اداس بہت ہے
دل رہین غم جہاں ہے آج ہر نفس تشنۂ فغاں ہے آج سخت ویراں ہے محفل ہستی اے غم دوست تو کہاں ہے آج
یہ خوں کی مہک ہے کہ لب یار کی خوشبو کس راہ کی جانب سے صبا آتی ہے دیکھو گلشن میں بہار آئی کہ زنداں ہوا آباد کس سمت سے نغموں کی صدا آتی ہے دیکھو
زنداں زنداں شور انا الحق محفل محفل قل قل مے خون تمنا دریا دریا دریا دریا دریا عیش کی لہر دامن دامن رت پھولوں کی آنچل آنچل اشکوں کی قریہ قریہ جشن بپا ہے ماتم شہر بہ شہر
اور کچھ دیر میں جب پھر مرے تنہا دل کو فکر آ لے گی کہ تنہائی کا کیا چارہ کرے درد آئے گا دبے پاؤں لیے سرخ چراغ وہ جو اک درد دھڑکتا ہے کہیں دل سے پرے شعلۂ درد جو پہلو میں لپک اٹھے گا دل کی دیوار پہ ہر نقش دمک اٹھے گا حلقۂ زلف کہیں گوشۂ رخسار کہیں ہجر کا دشت کہیں گلشن دیدار کہیں لطف کی ...
موتی ہو کہ شیشہ جام کہ در جو ٹوٹ گیا سو ٹوٹ گیا کب اشکوں سے جڑ سکتا ہے جو ٹوٹ گیا سو چھوٹ گیا تم ناحق ٹکڑے چن چن کر دامن میں چھپائے بیٹھے ہو شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں کیا آس لگائے بیٹھے ہو شاید کہ انہیں ٹکڑوں میں کہیں وہ ساغر دل ہے جس میں کبھی صد ناز سے اترا کرتی تھی صہبائے غم ...
درد تھم جائے گا غم نہ کر، غم نہ کر یار لوٹ آئیں گے، دل ٹھہر جائے گا، غم نہ کر، غم نہ کر زخم بھر جائے گا غم نہ کر، غم نہ کر دن نکل آئے گا غم نہ کر، غم نہ کر ابر کھل جائے گا، رات ڈھل جائے گی غم نہ کر، غم نہ کر رت بدل جائے گی غم نہ کر، غم نہ کر
مجھے معجزوں پہ یقیں نہیں مگر آرزو ہے کہ جب قضا مجھے بزم دہر سے لے چلے تو پھر ایک بار یہ اذن دے کہ لحد سے لوٹ کے آ سکوں ترے در پہ آ کے صدا کروں تجھے غم گسار کی ہو طلب تو ترے حضور میں آ رہوں یہ نہ ہو تو سوئے رہ عدم میں پھر ایک بار روانہ ہوں
پھر کوئی آیا دل زار نہیں کوئی نہیں راہرو ہوگا کہیں اور چلا جائے گا ڈھل چکی رات بکھرنے لگا تاروں کا غبار لڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ سو گئی راستہ تک تک کے ہر اک راہ گزار اجنبی خاک نے دھندلا دیئے قدموں کے سراغ گل کرو شمعیں بڑھا دو مے و مینا و ایاغ اپنے بے خواب کواڑوں کو ...
چلو پھر سے مسکرائیں چلو پھر سے دل جلائیں جو گزر گئیں ہیں راتیں انہیں پھر جگا کے لائیں جو بسر گئیں ہیں باتیں انہیں یاد میں بلائیں چلو پھر سے دل لگائیں چلو پھر سے مسکرائیں کسی شہ نشیں پہ جھلکی وہ دھنک کسی قبا کی کسی رگ میں کسمسائی وہ کسک کسی ادا کی کوئی حرف بے مروت کسی کنج لب سے ...