ہمارے دم سے ہے کوئے جنوں میں اب بھی خجل
ہمارے دم سے ہے کوئے جنوں میں اب بھی خجل عبائے شیخ و قبائے امیر و تاج شہی ہمیں سے سنت منصور و قیس زندہ ہے ہمیں سے باقی ہے گل دامنی و کج کلہی
ہمارے دم سے ہے کوئے جنوں میں اب بھی خجل عبائے شیخ و قبائے امیر و تاج شہی ہمیں سے سنت منصور و قیس زندہ ہے ہمیں سے باقی ہے گل دامنی و کج کلہی
صبا کے ہاتھ میں نرمی ہے ان کے ہاتھوں کی ٹھہر ٹھہر کے یہ ہوتا ہے آج دل کو گماں وہ ہاتھ ڈھونڈ رہے ہیں بساط محفل میں کہ دل کے داغ کہاں ہیں نشست درد کہاں
ترا جمال نگاہوں میں لے کے اٹھا ہوں نکھر گئی ہے فضا تیرے پیرہن کی سی نسیم تیرے شبستاں سے ہو کے آئی ہے مری سحر میں مہک ہے ترے بدن کی سی
دیدۂ تر پہ وہاں کون نظر کرتا ہے کاسۂ چشم میں خوں ناب جگر لے کے چلو اب اگر جاؤ پئے عرض و طلب ان کے حضور دست و کشکول نہیں کاسۂ سر لے کے چلو
جاں بیچنے کو آئے تو بے دام بیچ دی اے اہل مصر وضع تکلف تو دیکھیے انصاف ہے کہ حکم عقوبت سے پیشتر اک بار سوئے دامن یوسف تو دیکھیے
مے خانوں کی رونق ہیں کبھی خانقہوں کی اپنا لی ہوس والوں نے جو رسم چلی ہے دلدارئ واعظ کو ہمیں باقی ہیں ورنہ اب شہر میں ہر رند خرابات ولی ہے
فکر سود و زیاں تو چھوٹے گی منت این و آں تو چھوٹے گی خیر دوزخ میں مے ملے نہ ملے شیخ صاحب سے جاں تو چھوٹے گی
ان دنوں رسم و رہ شہر نگاراں کیا ہے قاصدا قیمت گلگشت بہاراں کیا ہے کوئے جاناں ہے کہ مقتل ہے کہ مے خانہ ہے آج کل صورت بربادیٔ یاراں کیا ہے
ہم خستہ تنوں سے محتسبو کیا مال منال کا پوچھتے ہو جو عمر سے ہم نے بھر پایا سب سامنے لائے دیتے ہیں دامن میں ہے مشت خاک جگر ساغر میں ہے خون حسرت مے لو ہم نے دامن جھاڑ دیا لو جام الٹائے دیتے ہیں
دیوار شب اور عکس رخ یار سامنے پھر دل کے آئنے سے لہو پھوٹنے لگا پھر وضع احتیاط سے دھندلا گئی نظر پھر ضبط آرزو سے بدن ٹوٹنے لگا