شاعری

وہ بے نوا رہ و رسم قلندری جانے

وہ بے نوا رہ و رسم قلندری جانے جو خاک تن پہ لباس تونگری جانے رقیب سے تری پرخاش دیکھ کر اے شوخ وہی ہو خوش جو نہ یہ جنگ زرگری جانے ادا و ناز و تبسم نگاہ گوشۂ چشم سو اس کے کون یہ انداز دلبری جانے جہاں کے قتل سے کیا ہو اسے خطر ہیہات جو شوخ کچھ نہ مآل ستم گری جانے دماغ بحث نہیں خارجی ...

مزید پڑھیے

مٹا کے تیرگی تنویر چاہتا ہے دل

مٹا کے تیرگی تنویر چاہتا ہے دل ہر ایک خواب کی تعبیر چاہتا ہے دل جسے سنبھال کے رکھ لے زمانہ یادوں میں وہ اپنی ذات کی تصویر چاہتا ہے دل میں اپنے آپ سے جب جب سوال کرتا ہوں مرے جواب میں تاثیر چاہتا ہے دل سخن پیام ہو دنیا کے واسطے کوئی دلوں کے واسطے تقریر چاہتا ہے دل نہ چاہتا ہے کہ ...

مزید پڑھیے

خیال و خواب کو پرواز دیتا رہتا ہوں

خیال و خواب کو پرواز دیتا رہتا ہوں میں اپنے آپ کو آواز دیتا رہتا ہوں جو ان کو رکھے گا دنیا میں سرخ رو کر کے میں اپنے بچوں کو وہ راز دیتا رہتا ہوں میں چھیڑتا ہوں سدا شاعری کے تاروں کو اور اپنے فن سے کوئی ساز دیتا رہتا ہوں پلٹ کے آئیں گے اک دن ضرور اچھے دن میں اپنے طور تو آواز دیتا ...

مزید پڑھیے

جاری تو ہو سب کے لئے فرمان محبت

جاری تو ہو سب کے لئے فرمان محبت کر دیجئے دل سے ذرا اعلان محبت اس شخص کو دکھ درد ستاتا بھی نہیں ہے جس دل میں رہا کرتا ہے ایمان محبت آنکھوں سے بدن سے تری زلفوں کی مہک سے کرتا ہوں میں دن رات ہی اے جان محبت کیا کیجیئے میرا نہ ہوا جس کے لئے میں کرتا رہا ہر موڑ پہ سامان محبت کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

اسی سے فکر و فن کو ہر گھڑی منسوب رکھتے ہیں

اسی سے فکر و فن کو ہر گھڑی منسوب رکھتے ہیں غزل والے غزل کو صورت محبوب رکھتے ہیں زباں کی چاشنی سے تر بہ تر غزلوں کو پڑھتا ہوں یہ روحانی غذا ہے ہم جسے مرغوب رکھتے ہیں غزل تہذیب ہے میری غزل میرا تمدن ہے بزرگوں نے جو رکھا تھا وہی اسلوب رکھتے ہیں سناتے ہیں تحت میں جب غزل انداز میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4289 سے 5858