شاعری

ان لبوں کی یاد آئی گل کے مسکرانے سے

ان لبوں کی یاد آئی گل کے مسکرانے سے زخم دل ابھر آئے پھر بہار آنے سے جانے تھی گریز ان کو یا کہ شرم محفل میں رات مجھ سے کترائے وہ نظر ملانے سے راز جو چھپائے تھے آج سب پہ ظاہر ہیں کچھ مری کہانی سے کچھ ترے فسانے سے حال جو ہمارا ہے سب تو ان پہ روشن ہے پھر بتاؤں کیا ہوگا حال دل سنانے ...

مزید پڑھیے

خلق کہتی ہے جسے دل ترے دیوانے کا

خلق کہتی ہے جسے دل ترے دیوانے کا ایک گوشہ ہے یہ دنیا اسی ویرانے کا اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا حسن ہے ذات مری عشق صفت ہے میری ہوں تو میں شمع مگر بھیس ہے پروانے کا کعبہ کو دل کی زیارت کے لیے جاتا ہوں آستانہ ہے حرم میرے صنم خانے کا مختصر ...

مزید پڑھیے

ہم موت بھی آئے تو مسرور نہیں ہوتے

ہم موت بھی آئے تو مسرور نہیں ہوتے مجبور غم اتنے بھی مجبور نہیں ہوتے دل ہی میں نہیں رہتے آنکھوں میں بھی رہتے ہو تم دور بھی رہتے ہو تو دور نہیں ہوتے پڑتی ہیں ابھی دل پر شرمائی ہوئی نظریں جو وار وہ کرتے ہیں بھرپور نہیں ہوتے امید کے وعدوں سے جی کچھ تو بہلتا تھا اب یہ بھی ترے غم کو ...

مزید پڑھیے

گرچہ بنتا نہیں ڈھب سونے کا جاناں سے لپٹ

گرچہ بنتا نہیں ڈھب سونے کا جاناں سے لپٹ ایک دن جاؤں گا پر اس کے میں داماں سے لپٹ اے فلک تجھ سے تمنا ہے کہ اس جاڑے میں سوئیے گرم ہو اس مہر درخشاں سے لپٹ باد مدت جو اسے سیر چمن میں دیکھا میں گیا دوڑ کے اس سرو خراماں سے لپٹ باغباں نے جو نہ دی رفعت گل گشت ہمیں بت سے ہو رہ گئے دیوار ...

مزید پڑھیے

لیے میں قدم جو اس کے تو کیا عتاب الٹا

لیے میں قدم جو اس کے تو کیا عتاب الٹا کہی بات میں نے سیدھی تو دیا جواب الٹا وہ جو غیر ہیں سو ان سے تمہیں بے تکلفی ہے ہمیں دیکھ کر کے اب تم کرو ہو حجاب الٹا یہ وہ دور ہے عزیزو ہے نجیب گردی اس میں چلی باد اب وہ جس سے ورق کتاب الٹا وہیں مہر ذرہ ہو کر لگا آنکھ کو جھپکنے لب بام ان نے رخ ...

مزید پڑھیے

جب یار دیکھنے کو گلزار گھر سے نکلا

جب یار دیکھنے کو گلزار گھر سے نکلا عالم تب اس کے بہر دیدار گھر سے نکلا کرنے کو قتل عاشق وہ تند خو کج ابرو کج رکھ کے سر پہ اپنی دستار گھر سے نکلا دیتا تھا وہ کسی کو گالی کسی کو جھڑکی جس دم نشے میں ہو کر سرشار گھر سے نکلا چنگا بھلا جو آیا پاس اس پری کے ماہرؔ چلتے ہوئے وہ ہو کر بیمار ...

مزید پڑھیے

ہوئے اب ہم سے تم گر دشمن جانی تو بہتر ہے

ہوئے اب ہم سے تم گر دشمن جانی تو بہتر ہے میاں غیروں سے مل کر دل میں یوں ٹھانی تو بہتر ہے نہیں ہے خوب صحبت ہر کسی کم ظرف سے لیکن نہیں گر مانتے از راہ نادانی تو بہتر ہے بجز خوش طبعی و چشمک نہ دیکھا حرف میں تم سے کرو موقوف اگر یہ وضع رندانی تو بہتر ہے ز روئے خیر خواہی تم سے میں کہتا ...

مزید پڑھیے

جدھر منہ اپنے کو وہ عیسیٔ زماں پھیرے

جدھر منہ اپنے کو وہ عیسیٔ زماں پھیرے تو اک نگاہ سے مردوں کے تن میں جاں پھیرے وہ تو ہے کافر رہزن کہ اک اشارے میں جو سمت کعبے کے جاتا ہو کارواں پھیرے تری جفاؤں سے یوں دل کے پھیرنے کے لیے کہے ہزار کوئی تجھ سے پر کہاں پھیرے کر اے عزیز ہر اک نیک و بد کی دل میں راہ نہ کر وہ کام کہ منہ ...

مزید پڑھیے

میں تو مزاحم نہیں غیر کے ہاں جائیے

میں تو مزاحم نہیں غیر کے ہاں جائیے گاہ قدم رنجہ آپ یاں بھی تو فرمائیے تم سے تو غیر از رضا چارہ نہیں مجھ کو لیک کعبۂ دل کو مرے سوچ کے ٹک ڈھک جائیے قصد کہیں اور کا ہم سے یہ کہہ کر چلے جاؤں ہوں گھر آئیو یوں تو نہ بہکائیے اور جگہ کب ملے دل کی خبر ہاں مگر تیری گلی میں سراغ ڈھونڈئیے تو ...

مزید پڑھیے

بات کیجے غیر سے اور ہم سے منہ کو موڑیئے

بات کیجے غیر سے اور ہم سے منہ کو موڑیئے ٹک خدا سے ڈریے ان وضعوں کو اپنی چھوڑیئے منہ نہ موڑے گا یہ عاصی گر یوں ہی منظور ہے لیجئے سنگ جفا اور شیشۂ دل توڑیئے توڑنا دل کا تمہارے آگے گو آسان ہے پر تمہیں تب جانیں جب ٹوٹے بھی دل کو جوڑئیے یار بے پروا و جانب دار اس کی خلق سب ہائے کس کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4288 سے 5858