شاعری

رشتے

نازک ہو گئے ہیں رشتے ٹوٹ رہے ہیں دھاگے کی طرح منہ موڑ لیتے ہیں لوگ دل توڑ دیتے ہیں رخ پھیر لیتے ہیں بس چلے تو یادوں کو بھی کھرچ ڈالیں تصور کو بھی دل سے نکال پھینکیں حسین وقت کی جو یادیں ہیں یہ مگر ہو نہیں سکتا پھر بھی توڑ کے رشتوں کو آتے ہیں پیش اجنبی کی طرح نازک ہو گئے ہیں رشتے ٹوٹ ...

مزید پڑھیے

تم مگر نہ آئے

چٹک گئے ہیں غنچے کھل گئے ہیں گل بھنورے منڈلائے ہوئے پھولوں سے کرتی ہے صبا اٹکھیلیاں دل باغباں کا ہے باغ باغ تم مگر نہ آئے تم مگر نہ آئے پیاسا ہے من جل رہا ہے تن بدن کلی امید کی مرجھا رہی ہے اب تو بن پئے برسات جا رہی اب تو ہو ہو کے آہٹیں ہو گئیں بند پیاسا ہے من جل رہا ہے تن بدن تم مگر ...

مزید پڑھیے

وقت کی قیمت کیا ہے

کیوں چہرہ دیکھتے ہیں لوگ ہزاروں میں پہچانتے ہیں لوگ چھپتا ہے دل ہر کس و ناکس سے کہتے ہیں روشنی میں آ کہا ہوا سنا سنائیں کس طرح طاقت گفتار ہے اب نہ الفاظ کا وہ سحر حوصلہ جینے کا نہ آرزو موت کی دوراہے پہ کھڑی پوچھتی ہے زندگی وقت کی قیمت کیا ہے

مزید پڑھیے

ہنس کر میں زندگی کی اذیت اٹھاؤں گا

ہنس کر میں زندگی کی اذیت اٹھاؤں گا تیرے لیے سکون کے لمحے بناؤں گا میں نے بدل لیا ہے رویہ ہوائے شب اب تو دیا بجھائے گی میں پھر جلاؤں گا چل ہی پڑے گی چاروں طرف باد نوبہار جب میں زمیں پہ آخری پتا گراؤں گا فرضی حکایتوں پہ نہ آنسو گنواؤ تم یارو کبھی میں اپنی کہانی سناؤں گا پھیلاؤں ...

مزید پڑھیے

یہ رواں اشک یہ پیارے جھرنے

یہ رواں اشک یہ پیارے جھرنے مرے ہو جائیں یہ سارے جھرنے منظر آلودہ ہوا جاتا ہے کس نے دریا میں اتارے جھرنے کسی امکان کا پہلو ہیں کوئی تری آواز ہمارے جھرنے اتنی نمناک جو ہے خاک مری کس نے مجھ میں سے گزارے جھرنے مجھ میں تصویر ہوئی آخر شب خامشی پیڑ ستارے جھرنے ایک وادی ہے سر کوہ ...

مزید پڑھیے

ہم جو اک لہر میں لہراتے ہوئے جھومتے ہیں

ہم جو اک لہر میں لہراتے ہوئے جھومتے ہیں کیوں نہ ایسا ہو کہ ہم ساتھ ترے جھومتے ہیں رقص درویش کا یہ سلسلہ دنیا سے نہ جوڑ ہم کسی اور ہی لذت کے لیے جھومتے ہیں ایسی منزل پہ لے آیا ہے مرا رقص مجھے اب کئی سلسلے بھی ساتھ مرے جھومتے ہیں ڈول جائے نہ ترے ڈولنے سے پرتو نور تیرے ہم راہ کئی ...

مزید پڑھیے

اس لئے بھی مجھے تجھ سے ملنے میں تاخیر ہے

اس لئے بھی مجھے تجھ سے ملنے میں تاخیر ہے خواب کی سمت جاتی سڑک زیر تعمیر ہے اتنے پھول اک جگہ دیکھ کر سب کا جی خوش ہوا پتیاں جھڑنے پر کوئی کوئی ہی دلگیر ہے ہنستی دنیا ملی آنکھ کھلتے ہی روتی ہوئی یہ مرا خواب تھا اور یہ اس کی تعبیر ہے جس زباں میں ہے اس کی سمجھ ہی نہیں آ رہی غار کے دور ...

مزید پڑھیے

تمام عمر کبھی مجھ سے حل ہوا ہی نہ تھا

تمام عمر کبھی مجھ سے حل ہوا ہی نہ تھا وہ مسئلہ جو حقیقت میں مسئلہ ہی نہ تھا بدن سے جس کی تھکن آج تک نہیں اتری میں اس سفر پہ روانہ کبھی ہوا ہی نہ تھا کچھ اس لیے بھی مجھے ہجر میں سہولت ہے ترا وصال کبھی میرا مدعا ہی نہ تھا بدن کا بھید کھلا ہے ترا بدن چھو کر یہ مصرع مجھ پہ وگرنہ کبھی ...

مزید پڑھیے

گر نہیں ہے تو میرے یاں نہیں ہے

گر نہیں ہے تو میرے یاں نہیں ہے رائیگانی کہاں کہاں نہیں ہے جسے موج ہوا اڑائے پھرے یہ مرا جسم ہے دھواں نہیں ہے میں وہاں بھی نہیں جہاں میں ہوں تو وہاں بھی ہے تو جہاں نہیں ہے اب تو کھل کر ملا کرو مجھ سے اب محبت بھی درمیاں نہیں ہے بات کرنی ہے جانتے ہوئے بھی اس جگہ جان کی اماں نہیں ...

مزید پڑھیے

پھر کبھی یہ خطا نہیں کرنا

پھر کبھی یہ خطا نہیں کرنا سب سے ہنس کر ملا نہیں کرنا تم مرے واسطے کبھی اے دوست زندگی کی دعا نہیں کرنا در و دیوار بھی رلاتے ہیں گھر میں تنہا رہا نہیں کرنا دل کی تصویر خط میں رکھ دینا بات دل کی لکھا نہیں کرنا میں ہوں انساں بہک بھی سکتا ہوں مجھ سے تنہا ملا نہیں کرنا اپنی حد میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4145 سے 5858