شاعری

ظالم ہے وہ ایسا کہ جفا بھی نہیں کرتا

ظالم ہے وہ ایسا کہ جفا بھی نہیں کرتا رستے سے بچھڑنے کا گلا بھی نہیں کرتا ہر جرم و خطا سے مرے واقف ہے وہ پھر بھی تجویز مرے نام سزا بھی نہیں کرتا انسان ہے وہ کوئی فرشتہ تو نہیں ہے حیرت ہے مگر کوئی خطا بھی نہیں کرتا ہر شخص سے وہ ہاتھ ملا لیتا ہے رسماً لیکن وہ کبھی دل سے ملا بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

زبان

کسی بزرگ سے اک روز میں نے یہ پوچھا بھلا درستیٔ ایمان کا ہے کیا نسخہ کہا بزرگ نے اپنی زبان اچھی رکھ گرہ میں باندھ کے میری یہ بات سچی رکھ زباں درست تو پھر دل درست ہے تیرا ہو دل درست تو ایمان پختہ تر ہوگا زباں اہم ہے بدن کے تمام اعضا میں ملا زبان کو اعلیٰ مقام اعضا میں زباں سنبھال کے ...

مزید پڑھیے

مدرس

لوگ استاد جس کو کہتے ہیں اس کا رتبہ عظیم ہوتا ہے مرتبہ اس کا جو نہیں سمجھے وہ سدا زندگی میں روتا ہے علم کی ایک انجمن استاد پھول شاگرد اور چمن استاد کتنا اونچا مقام ہے اس کا ساری دنیا میں نام ہے اس کا ذہن و دل کو سنوارتے رہنا رات دن بس یہ کام ہے اس کا فکر اس کی جہاں مہکتی ہے راہ تاریک ...

مزید پڑھیے

پانی

پانی کو استعمال کرو احتیاط سے اور اس کی دیکھ بھال کرو احتیاط سے پانی تو ایک نعمت پروردگار ہے پانی ملے تو باغ ہے رنگ بہار ہے پانی سے لالہ زار رہ خار دار ہے پانی کا ہر کسی کو یہاں انتظار ہے پانی کو استعمال کرو احتیاط سے اور اس کی دیکھ بھال کرو احتیاط سے پانی ملے تو رہتی ہے کھیتوں ...

مزید پڑھیے

ان کا وعدہ وفا نہیں ہوتا

ان کا وعدہ وفا نہیں ہوتا دل کہ پھر بھی خفا نہیں ہوتا لاکھ توڑے زمانہ جور و ستم کس کا آخر خدا نہیں ہوتا ہم سجا لیتے خواب کے تنکے آشیاں گر جلا نہیں ہوتا ہم بھی راہ وفا سے ہٹتے اگر تم کو اپنا کہا نہیں ہوتا عشق ہوتا اگر نہ دنیا میں زندگی میں مزا نہیں ہوتا

مزید پڑھیے

ان کا انداز بیاں اور اثر تو دیکھو

ان کا انداز بیاں اور اثر تو دیکھو گفتگو کا یہ سلیقہ یہ ہنر تو دیکھو زخم پر مرہم امید رکھا ہے میں نے دیکھنے والو مرا زخم جگر تو دیکھو کہہ رہی ہے مرے کانوں میں گزرتی ہوئی شام یہ مرا حوصلہ یہ عزم سفر تو دیکھو آئے تو ہیں مرے نزدیک وہ تھوڑا سا مگر ان کا بیگانہ سا انداز نظر تو ...

مزید پڑھیے

لب پہ ہر وقت یہ گلہ کیا ہے

لب پہ ہر وقت یہ گلہ کیا ہے ایسے جینے میں پھر مزا کیا ہے سب محبت میں ہار بیٹھے ہیں دل کے جذبات میں رکھا کیا ہے شمع امید ہیں جلائے ہوئے ہم نہیں جانتے وفا کیا ہے جس نے ہم کو دیا ہے زخم دل پوچھتے ہیں وہی ہوا کیا ہے جانتے ہو جو یاسمیںؔ کی غرض پھر نہ پوچھو کہ مدعا کیا ہے

مزید پڑھیے

جل گیا آشیاں رہا کیا ہے

جل گیا آشیاں رہا کیا ہے اب تماشا سا اے صبا کیا ہے ظلم کرنے کو وہ ہوئے پیدا مجھ کو غم کھانے کے سوا کیا ہے بھول بیٹھا ہے دل ہر اک شے کو جز تصور یہاں بچا کیا ہے چھیننا چاہتی ہے یادوں کو اس میں دنیا بھلا ترا کیا ہے دل نے انجان بن کے پوچھا ہے یاسمیںؔ تیرا مدعا کیا ہے

مزید پڑھیے

زندگی میں امنگ

چٹکتے ہیں غنچے مہکتی ہے چنبیلی ہے گلاب سے حسن چمن بلبل ہے جان چمن کرتی ہے کوئل کو کو بیٹھ کر آم کے پیڑ پر گر جاتے ہیں زرد پتے پھوٹتی ہے نئی کونپل نیم کا پیڑ ہو کر مست ہوا میں دہراتا ہے ماضی کی یادوں کو سایہ آدھا آدھی دھوپ میرے آنگن میں پرچھائیاں گلاب کی صحن چمن میں پڑتی ہیں سفید و ...

مزید پڑھیے

ہر شے گنگنانے لگی

چاہا اے زندگی میں نے تجھے اپنے کاموں سے فرصت ملی نہ مجھ کو پڑھنے کو کچھ لکھنے کو جی تڑپتا رہا فکر ایام گھر والوں کا خیال بچوں کے مسکراتے چہرے قلم ہاتھ سے میرے چھوٹتا رہا دل ناتواں کو بہلاتی رہی پھر بھی گیت زندگی کے میں گاتی رہی روشن سورج کی کرن آخر در آئی امیدوں کے چراغ جل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4144 سے 5858