شاعری

دل کسی وادی میں جا کے سو گیا

چہکتے رہے مہکتے رہے برسوں کی دیوانگی کا نتیجہ نہ کوئی صلہ کیوں انتظار بہار کرتے رہے کانٹوں کو پیار کرتے رہے یہاں تک کہ سکوت طاری ہو گیا دل کسی وادی میں جا کے سو گیا

مزید پڑھیے

نیا سال

ہے انداز نیم سحر نرالا آج ہنس ہنس کے غنچوں کو گدگدایا آج آنگن میں در آئی نویلی کرن پہنے اجلا سنہری پیرہن بعد ثنا گیت چڑیوں نے گایا ہو مبارک سال نیا آیا نظر سے حوادث کی بچانا خدا ہر دن خوشی کا دکھانا خدا ہر نیا سال کہتے کہتے یہ آئے چمن سدا مسکرائے گل کھلائے

مزید پڑھیے

ہم نے ترے فراق میں ترک وفا نہیں کیا

ہم نے ترے فراق میں ترک وفا نہیں کیا تو نے وفا نہیں کیا ہم نے جفا نہیں کیا اپنوں کی بے دلی سہی سب میں ہوئے ہیں خوار ہم ورنہ ذرا بتاؤ دل کس کا بھلا نہیں کیا تم نے کسی سے عشق کی کہتے ہیں ہم نوا سبھی ان سے ہے کیسا واسطہ ہم نے کیا نہیں کیا ساری حدوں کو توڑ کر اس نے کئے کئی ستم ہم نے بھی ...

مزید پڑھیے

کوئی آنسو بہاتا ہے کوئی فریاد کرتا ہے

کوئی آنسو بہاتا ہے کوئی فریاد کرتا ہے یہ دل تجھ کو بھلا کر کیوں تجھے ہی یاد کرتا ہے تباہی کے بہت سارے وسیلے ہیں مگر اک تو محبت ہی میں اپنے آپ کو برباد کرتا ہے ترے دل میں محبت کو جگانے کے لیے اب تو وہ پاگل روز ہی کچھ کچھ نئی ایجاد کرتا ہے درختوں کو جڑوں سے کاٹ کر بنتے ہیں ...

مزید پڑھیے

جہاں اونچی عمارت ہے وہیں مٹی کا بھی گھر ہے

جہاں اونچی عمارت ہے وہیں مٹی کا بھی گھر ہے یہ قبرستان کو دیکھو ذرا کتنا برابر ہے سمندر کی خموشی بھی تو اک دن ٹوٹ جاتی ہے مگر کیسے بھلا ٹوٹے جو تیرے ان لبوں پر ہے بہت تڑپا رہے ہو باپ کو رستے میں تم لیکن اسی رستے میں ہے بیٹا عجب کیسا یہ چکر ہے حقیقت زندگی کی کھل گئی مجھ پر کہ دنیا ...

مزید پڑھیے

ہاتھ اس کے ہاتھ سے اب یوں پھسلتا جا رہا ہے

ہاتھ اس کے ہاتھ سے اب یوں پھسلتا جا رہا ہے جسم سے جیسے ہمارا دم نکلتا جا رہا ہے دل کسی کا توڑ کر اس نے بکھیری زندگی اب جوڑنے کی ضد میں وہ خود ہی بکھرتا جا رہا ہے فاصلوں کو اب مٹانے کے لیے اس کی ہی جانب میں کھسکتا جا رہا ہوں وہ سمٹتا جا رہا ہے راستے پر آگ ہے بارش بھی ہے کانٹے بھی ...

مزید پڑھیے

تری چاہتوں کے خیال میں کئی حسرتیں بھی ملیں مجھے

تری چاہتوں کے خیال میں کئی حسرتیں بھی ملیں مجھے تجھے دیکھنے کے خمار میں کئی عادتیں بھی ملیں مجھے ہے عجب طرح کا معاملہ کبھی زندگی نے جو دی سزا تو ستم کے ساتھ مرے خدا بڑی راحتیں بھی ملیں مجھے ہاں برا کسی کا نہیں کیا مگر ایک درد کی بات یہ کہ بھلا کیا تو کیا مگر یہیں تہمتیں بھی ملیں ...

مزید پڑھیے

گھر سے بے زار ہوں کالج میں طبیعت نہ لگے

گھر سے بے زار ہوں کالج میں طبیعت نہ لگے اتنی اچھی بھی کسی شخص کی صورت نہ لگے ایک اک انچ پہ اس جسم کے ستر ستر بوسے لیجے تو بھلا کیوں وہ قیامت نہ لگے زہر میٹھا ہو تو پینے میں مزا آتا ہے بات سچ کہیے مگر یوں کہ حقیقت نہ لگے آئینہ عکس مرے ہاتھ تجلی غائب میرے دشمن کو بھی یارب مری عادت ...

مزید پڑھیے

آخر چراغ درد محبت بجھا دیا

آخر چراغ درد محبت بجھا دیا سر سے کسی کی یاد کا پتھر گرا دیا ڈھونڈے جنم جنم بھی تو دنیا نہ پا سکے یوں ہم نے اس کو اپنی غزل میں چھپا دیا خوشبو سے اس کی جسم کی آنگن مہک اٹھا کمرے کو اس نے اپنی ہنسی سے سجا دیا یہ کس کے انتظار میں جھپکی نہیں پلک یہ کس نے مجھ کو راہ کا پتھر بنا دیا کیا ...

مزید پڑھیے

موج خوں سر سے گزر جاتی ہے ہر رات مرے

موج خوں سر سے گزر جاتی ہے ہر رات مرے پھوٹ کر خوابوں میں روتا ہے کوئی سات مرے اب نہ وہ گیت نہ چوپال نہ پنگھٹ نہ الاؤ کھو گئے شہروں کے ہنگاموں میں دیہات مرے زندگی بھول گئی اپنے غموں میں اس کو دولت درد وفا بھی نہ لگی ہات مرے مدتوں پہلے کہ جب تجھ سے تعارف بھی نہ تھا تیری تصویر بناتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4143 سے 5858