شاعری

صداقتوں کے دہکتے شعلوں پہ مدتوں تک چلا کیے ہم

صداقتوں کے دہکتے شعلوں پہ مدتوں تک چلا کیے ہم ضمیر کو تھپتھپا کے آخر سلا دیا اور خوش رہے ہم ردائے گریہ پہ تا قیامت نثار ہوتے رہیں گے دریا سبیل خون جگر سے نادار ساحلوں کو بھگو چلے ہم سفر تھا جب روشنی کی جانب تو پھر مآل سفر کا کیا غم چراغ کی طرح ساری شب شان سے جلے صبح بجھ گئے ...

مزید پڑھیے

کیسا مکان سایۂ دیوار بھی نہیں

کیسا مکان سایۂ دیوار بھی نہیں جیتے ہیں زندگی سے مگر پیار بھی نہیں اٹھتی نہیں ہے ہم پہ کوئی مہرباں نگاہ کہنے کو شہر محفل اغیار بھی نہیں گزری ہے یوں تو دشت میں تنہائیوں کے عمر دل بے نیاز کوچہ و بازار بھی نہیں رک رک کے چل رہے ہیں کہ منزل نہیں کوئی ہر کوچہ ورنہ کوچۂ دل دار بھی ...

مزید پڑھیے

صبح تک ہم رات کا زاد سفر ہو جائیں گے

صبح تک ہم رات کا زاد سفر ہو جائیں گے تجھ سے ہم آغوش ہو کر منتشر ہو جائیں گے دھوپ صحرا تن برہنہ خواہشیں یادوں کے کھیت شام آتے ہی غبار رہ گزار ہو جائیں گے دشت تنہائی میں جینے کا سلیقہ سیکھئے یہ شکستہ بام و در بھی ہم سفر ہو جائیں گے شورش دنیا کو آہستہ روی کا حکم ہو نذر خیر و شر ترے ...

مزید پڑھیے

قدم قدم پہ ہیں بکھری حقیقتیں کیا کیا

قدم قدم پہ ہیں بکھری حقیقتیں کیا کیا بزرگ چھوڑ گئے ہیں شہادتیں کیا کیا میں تازہ دم بھی ہوں بے چین بھی ہوا کی طرح مرے قدم سے ہیں لپٹی روایتیں کیا مزاج الگ سہی ہم دونوں کیوں الگ ہوں کہ ہیں سراب و آب میں پوشیدہ قربتیں کیا کیا کرم عناد خوشی غم اسیر مایوسی دلوں کو دیتی ہے دنیا بھی ...

مزید پڑھیے

نومید کرے دل کو نہ منزل کا پتا دے

نومید کرے دل کو نہ منزل کا پتا دے اے رہ گزر عشق ترے کیا ہیں ارادے ہر رات گزرتا ہے کوئی دل کی گلی سے اوڑھے ہوئے یادوں کے پر اسرار لبادے بن جاتا ہوں سر تا بہ قدم دست تمنا ڈھل جاتے ہیں اشکوں میں مگر شوق ارادے اس چشم فسوں گر میں نظر آتی ہے اکثر اک آتش خاموش کہ جو دل کو جلا دے آزردۂ ...

مزید پڑھیے

خود لفظ پس لفظ کبھی دیکھ سکے بھی

خود لفظ پس لفظ کبھی دیکھ سکے بھی کاغذ کی یہ دیوار کسی طرح گرے بھی کس درد سے روشن ہے سیہ خانۂ ہستی سورج نظر آتا ہے ہمیں رات گئے بھی وہ ہم کہ غرور صف اعدا شکنی تھے آخر سر بازار ہوئے خوار بکے بھی بہتی ہیں رگ و پے میں دو آبے کی ہوائیں اک اور سمندر ہے سمندر سے پرے بھی اخلاق و شرافت کا ...

مزید پڑھیے

دل مطمئن ہے حرف وفا کے بغیر بھی

دل مطمئن ہے حرف وفا کے بغیر بھی روشن ہے راہ نور صدا کے بغیر بھی اک خوف سا درختوں پہ طاری تھا رات بھر پتے لرز رہے تھے ہوا کے بغیر بھی گھر گھر وبائے حرص و ہوس ہے تو کیا ہوا مرتے ہیں لوگ روز وبا کے بغیر بھی میں ساری عمر لفظوں سے کمبل نہ بن سکا کٹتی ہے رات یعنی ردا کے بغیر بھی احساس ...

مزید پڑھیے

مجھے محبت ہے

مجھے محبت ہے حسین چہروں سے حسیں پھولوں سے لہلہاتے سبزہ زاروں سے گنگناتے آبشاروں سے مجھے محبت ہے اپنوں سے پیاروں سے غم سے غمگساروں سے انساں سے انساں کے پرستاروں سے محبت کو الزام نہ دو ہوس کا نام نہ دو محبت اک جذبہ ہے محبت کا مجھے محبت ہے زمیں سے آسماں سے چاند تاروں سے دنیا سے دنیا ...

مزید پڑھیے

فرشتہ کوئی نہ مجھے روک سکے

تیرا چہرہ جھیل میں کھلتا ہوا کنول ہو جیسے چاند پانی میں اتر آیا ہو جیسے سکوت ندی میں چھایا ہوا ریت چاندی سی چمکتی ہوئی سرگوشیاں چاندنی میں کوئی کرتا ہوا آہستہ آہستہ لب و رخسار کو چومنے کی کوشش کرتا ہوا قانون فطرت سے جیسے اجازت لیتا ہوا جھیل کی آغوش میں جسم کو اپنے ڈبوتا ہوا پھر ...

مزید پڑھیے

امید

اے امید آ مرے گلے لگ جا کون میرا ہے جگ میں تیرے سوا دوست ممکن نہیں کوئی تجھ سا تو اگر ہے تو زندگی میری تیرے دم سے ہے ہر خوشی میری تیرے دم سے ہے دیتی ہے تو تسلیاں تیرے ہونے سے کامرانیاں گل آرزو کے کھلاتی ہے تو امیدوں کے گلاب مہکاتی ہے تو ہر ایک موڑ پر کھڑی ہے تو پھیلا دیتی ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4142 سے 5858