شاعری

خون پلکوں پہ سر شام جمے گا کیسے

خون پلکوں پہ سر شام جمے گا کیسے درد کا شہر جو اجڑا تو بسے گا کیسے روز و شب یادوں کے آسیب ستائیں گے کوئی شہر میں تجھ سے خفا ہو کے رہے گا کیسے دل جلا لیتے تھے ہم لوگ اندھیروں میں مگر دل بھی ان تیز ہواؤں میں جلے گا کیسے کس مصیبت سے یہاں تک ترے ساتھ آئے تھے راستہ تجھ سے الگ ہو کے کٹے ...

مزید پڑھیے

چپ رہے دیکھ کے ان آنکھوں کے تیور عاشق

چپ رہے دیکھ کے ان آنکھوں کے تیور عاشق ورنہ کیا کچھ نہ اٹھا سکتے تھے محشر عاشق دیکھیں اب کون سے رستے پہ زمانہ جائے کوچہ کوچہ ہیں پری زاد تو گھر گھر عاشق دم بخود زہرہ جبینوں کو تکا کرتا ہے ہے ہماری ہی طرح راہ کا پتھر عاشق وہ بھی انسان ہے کس کس کو نوازے گا فضیلؔ پھول سی جان کے ...

مزید پڑھیے

ہے عبارت جو غم دل سے وہ وحشت بھی نہ تھی

ہے عبارت جو غم دل سے وہ وحشت بھی نہ تھی سچ ہے شاید کہ ہمیں اس سے محبت بھی نہ تھی زندگی اور پر اسرار ہوئی جاتی ہے عشق کا ساتھ نہ ہوتا تو شکایت بھی نہ تھی تجھ سے چھٹ کر نہ کبھی پیار کسی سے کرتے دل کے بہلانے کی لیکن کوئی صورت بھی نہ تھی گھور اندھیروں میں خود اپنے کو صدا دے لیتے راہ ...

مزید پڑھیے

چھو بھی تو نہیں سکتے ہم موج صبا بن کر (ردیف .. و)

چھو بھی تو نہیں سکتے ہم موج صبا بن کر للچائی نگاہوں سے تکتے ہیں گلابوں کو سو دکھ ہمیں دیتی ہے ہاں تشنہ لبی لیکن پانی تو نہیں سمجھے ہم لوگ سرابوں کو افسانوں کی دنیا میں سب جھوٹ نہیں ہوتا دل اور بھی الجھے گا پڑھیے نہ کتابوں کو سچ ہے دل دیوانہ خوابوں سے بہلتا ہے ہر رات مگر کیسے ...

مزید پڑھیے

سر صحرائے دنیا پھول یوں ہی تو نہیں کھلتے

سر صحرائے دنیا پھول یوں ہی تو نہیں کھلتے دلوں کو جیتنا پڑتا ہے تحفے میں نہیں ملتے یہ کیا منظر ہے جیسے سو گئی ہوں سوچ کی لہریں یہ کیسی شام تنہائی ہے پتے تک نہیں ہلتے مزا جب تھا کہ بوتل سے ابلتی پھیلتی رت میں دھواں سانسوں سے اٹھتا گرم بوسوں سے بدن چھلتے جو بھر بھی جائیں دل کے زخم ...

مزید پڑھیے

نبھے گی کس طرح دل سوچتا ہے

نبھے گی کس طرح دل سوچتا ہے عجب لڑکی ہے جب دیکھو خفا ہے بہ ظاہر ہے اسے بھی پیار ویسے دلوں کے بھید سے واقف خدا ہے یہ تنہائی کا کالا سرد پتھر اسی سے عمر بھر سر پھوڑنا ہے مگر اک بات دونوں جانتے ہیں نہ کچھ اس نے نہ کچھ ہم نے کہا ہے نہیں ممکن اگر ساتھ عمر بھر کا یہ پل دو پل کا ملنا کیا ...

مزید پڑھیے

گزر رہی ہے مگر خاصے اضطراب کے ساتھ

گزر رہی ہے مگر خاصے اضطراب کے ساتھ خیال بھی نظر آنے لگے ہیں خواب کے ساتھ تلاش میں ہوں کسی کھردرے کنارے کی نباہ اب نہیں ہوتا حباب و آب کے ساتھ شب فراق ہے سدھارتھؔ کی طرح گم سم حواس بھی ہوئے رخصت ترے حجاب کے ساتھ تعلقات کا تنقید سے ہے یارانہ کسی کا ذکر کرے کون احتساب کے ساتھ جڑی ...

مزید پڑھیے

آتش فشاں زباں ہی نہیں تھی بدن بھی تھا

آتش فشاں زباں ہی نہیں تھی بدن بھی تھا دریا جو منجمد ہے کبھی موجزن بھی تھا میں اپنی خواہشوں سے وفادار تھا سو ہوں غم ورنہ دل خراش بھی خواہش شکن بھی تھا کالے خموش پانی کو احساس تک نہیں چہرے پہ مرنے والے کے اک بانکپن بھی تھا کس طرح مہر و ماہ کو کرتے الگ فضیلؔ شعلہ نفس جو تھا وہی گل ...

مزید پڑھیے

دلوں کے آئنہ دھندلے پڑے ہیں

دلوں کے آئنہ دھندلے پڑے ہیں بہت کم لوگ خود کو جانتے ہیں خزاں کے خشک پتوں کو نہ چھیڑو تھکے ماندے مسافر سو رہے ہیں ہماری غم گساری میں شب غم چراغ آہستہ آہستہ جلے ہیں نشاں پاتا نہیں کوئی کسی کا سبھی اک دوسرے کو ڈھونڈتے ہیں بس اک موج ہوائے غم ہے کافی ارادے کیا گھروندے ریت کے ...

مزید پڑھیے

چمکتے چاند سے چہروں کے منظر سے نکل آئے

چمکتے چاند سے چہروں کے منظر سے نکل آئے خدا حافظ کہا بوسہ لیا گھر سے نکل آئے یہ سچ ہے ہم کو بھی کھونے پڑے کچھ خواب کچھ رشتے خوشی اس کی ہے لیکن حلقۂ شر سے نکل آئے اگر سب سونے والے مرد عورت پاک طینت تھے تو اتنے جانور کس طرح بستر سے نکل آئے دکھائی دے نہ دے لیکن حقیقت پھر حقیقت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4141 سے 5858