شاعری

بتا اے زندگی تیرے پرستاروں نے کیا پایا

بتا اے زندگی تیرے پرستاروں نے کیا پایا اٹھا کر ناز تیرے ناز برداروں نے کیا پایا وہ کانٹے ہی سہی کچھ تو دیا ہم کو بیاباں نے مگر گلشن سے پھولوں کے طلب گاروں نے کیا پایا ذرا معلوم تو کیجے خرد پر مرنے والوں سے کہ ٹھکرا کر جنوں کو ان زیاں کاروں نے کیا پایا کلیجہ تیرا پھٹ جائے گا ...

مزید پڑھیے

مرے زخم جگر کو زخم دامن دار ہونا تھا

مرے زخم جگر کو زخم دامن دار ہونا تھا ذرا واضح تمہارے لطف کا اظہار ہونا تھا دل پر داغ کی تاریکیوں پر سخت حیرت ہے یہ وہ مطلع ہے جس کو مطلع انوار ہونا تھا تمہیں لینا تھا پہلے جائزہ اپنی نگاہوں کا پھر اس کے بعد موسیٰ طالب دیدار ہونا تھا پریشاں ہیں مثال گرد گمنامی کے صحرا میں بہت ...

مزید پڑھیے

رشتہ جگر کا خون جگر سے نہیں رہا

رشتہ جگر کا خون جگر سے نہیں رہا موسم طواف کوچہ و در کا نہیں رہا دل یوں تو گاہ گاہ سلگتا ہے آج بھی منظر مگر وہ رقص شرر کا نہیں رہا مجبور ہو کے جھکنے لگا ہے یہاں وہاں یہ سر بھی تیرے خاک بہ سر کا نہیں رہا گھر کا تو خیر ذکر ہی کیا ہے کہ ذہن میں نقشہ بھی اس بھرے پرے گھر کا نہیں ...

مزید پڑھیے

بھولے بسرے ہوئے غم پھر ابھر آتے ہیں کئی

بھولے بسرے ہوئے غم پھر ابھر آتے ہیں کئی آئینہ دیکھیں تو چہرے نظر آتے ہیں کئی وہ بھی اک شام تھی جب ساتھ چھٹا تھا اس کا واہمے دل میں سر شام در آتے ہیں کئی پاؤں کی دھول بھی بن جاتی ہے دشمن اپنی گھر سے نکلو تو پھر ایسے سفر آتے ہیں کئی قریۂ جاں سے گزرنا بھی کچھ آسان نہیں راہ میں جعفری ...

مزید پڑھیے

صاحب دلوں سے راہ میں آنکھیں ملا کے دیکھ

صاحب دلوں سے راہ میں آنکھیں ملا کے دیکھ رکھتا ہے تو بھی دل تو اسے آزما کے دیکھ پہچاننے کی پیار کو کوشش کبھی تو کر خود کو کبھی تو اپنے بدن سے ہٹا کے دیکھ یا لذتوں کو زہر سمجھ اور دور رہ یا شعلۂ گناہ میں دامن جلا کے دیکھ ہر چند ریگ زار سہی زندگی مگر پل بھر کو اپنے جسم کا جادو جگا ...

مزید پڑھیے

کیسا مکان سایۂ دیوار بھی نہیں

کیسا مکان سایۂ دیوار بھی نہیں جیتے ہیں زندگی سے مگر پیار بھی نہیں اٹھتی نہیں ہے ہم پہ کوئی مہرباں نگاہ کہنے کو شہر محفل اغیار بھی نہیں رک رک کے چل رہے ہیں کہ منزل نہیں کوئی ہر کوچہ ورنہ کوچۂ دل دار بھی نہیں گزری ہے یوں تو دشت میں تنہائیوں کے عمر دل بے نیاز کوچہ و بازار بھی ...

مزید پڑھیے

تیز آندھی رات اندھیاری اکیلا راہ رو

تیز آندھی رات اندھیاری اکیلا راہ رو بڑھ رہا ہے سوچتا ڈرتا جھجکتا راہ رو منزلیں سمتیں بدلتی جا رہی ہیں روز و شب اس بھری دنیا میں ہے انسان تنہا راہ رو کچھ تو ہے جو شہر میں پھرتا ہے گھبراتا ہوا بے خبر ورنہ بھرے جنگل سے گزرا راہ رو کھڑکیاں کھلنے لگیں دروازے وا ہونے لگے جب بھی گزرا ...

مزید پڑھیے

لفظوں کا سائبان بنا لینے دیجئے

لفظوں کا سائبان بنا لینے دیجئے سایوں کو طاق دل میں سجا لینے دیجئے گہرے سمندروں کی تہیں مت کھنگالیے دل کو کھلی ہوا کا مزا لینے دیجئے سوچے گا ذہن سارے مسائل کے حل مگر پہلے بدن کی آگ بجھا لینے دیجئے کب تک مثال دشت سہیں موسموں کا جبر خوابوں کا کوئی شہر بسا لینے دیجئے یادوں کے ...

مزید پڑھیے

دیوانے اتنے جمع ہوئے شہر بن گیا

دیوانے اتنے جمع ہوئے شہر بن گیا جنگل کے حق میں جوش جنوں زہر بن گیا اچٹی جو نیند دل کا ہر اک زخم جاگ اٹھا یادوں کا چاند پچھلے پہر قہر بن گیا یہ زیست ہے فضیلؔ کہ دریائے درد ہے ہر لمحہ غم کی امڈی ہوئی لہر بن گیا

مزید پڑھیے

گر بھی جائیں تو نہ مسمار سمجھئے ہم کو

گر بھی جائیں تو نہ مسمار سمجھئے ہم کو روشنی سی پس دیوار سمجھئے ہم کو ہم بھی آخر ہیں یکے از متوسط طبقہ موت کے بعد بھی بیمار سمجھئے ہم کو بوسے بیوی کے ہنسی بچوں کی آنکھیں ماں کی قید خانے میں گرفتار سمجھئے ہم کو وقت معصوم و جری روحوں کے درپئے ہے فضیلؔ زندہ جب تک ہیں سر دار سمجھئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4140 سے 5858