شاعری

چہرے مکان راہ کے پتھر بدل گئے

چہرے مکان راہ کے پتھر بدل گئے جھپکی جو آنکھ شہر کے منظر بدل گئے شہروں میں ہنستی کھیلتی چلتی رہی مگر جنگل میں باد صبح کے تیور بدل گئے ہاں اس میں کامدیو کی کوئی خطا نہیں رستے وفا کے سخت تھے دلبر بدل گئے وہ آندھیاں چلی ہیں سر دشت آرزو دل بجھ گیا وفاؤں کے محور بدل گئے پھوٹی کرن تو ...

مزید پڑھیے

وہ موج خنک شہر شرر تک نہیں آئی

وہ موج خنک شہر شرر تک نہیں آئی دریاؤں کی خوشبو مرے گھر تک نہیں آئی سناٹے سجائے گئے گل دانوں میں گھر گھر کھوئے ہوئے پھولوں کی خبر تک نہیں آئی ہم اہل جنوں پار اتر جائیں گے لیکن کشتی ابھی ساحل سے بھنور تک نہیں آئی صد شکر ترا روشنئ طبع کہ ہم کو برباد کیا اور نظر تک نہیں آئی

مزید پڑھیے

رخ ہواؤں کے کسی سمت ہوں منظر ہیں وہی

رخ ہواؤں کے کسی سمت ہوں منظر ہیں وہی ٹوپیاں رنگ بدلتی ہیں مگر سر ہیں وہی جن کے اجداد کی مہریں در و دیوار پہ ہیں کیا ستم ہے کہ بھرے شہر میں بے گھر ہیں وہی پھول ہی پھول تھے خوابوں میں سر وادیٔ شب صبح دم راہوں میں جلتے ہوئے پتھر ہیں وہی ناؤ کاغذ کی چلی کاٹھ کے گھوڑے دوڑے شعبدہ بازی ...

مزید پڑھیے

آٹھوں پہر لہو میں نہایا کرے کوئی

آٹھوں پہر لہو میں نہایا کرے کوئی یوں بھی نہ اپنے درد کو دریا کرے کوئی اڑ جائے گی فصیل شب جبر توڑ کر قیدی نہیں ہوا جسے اندھا کرے کوئی دل تختۂ گلاب بھی آتش فشاں بھی ہے اس رہگزر سے روز نہ گزرا کرے کوئی اوڑھی ہے اس نے سرد خموشی مثال سنگ لفظوں کے آبشار گرایا کرے کوئی پانی کی طرح ...

مزید پڑھیے

ہر سمت لہو رنگ گھٹا چھائی سی کیوں ہے

ہر سمت لہو رنگ گھٹا چھائی سی کیوں ہے دنیا مری آنکھوں میں سمٹ آئی سی کیوں ہے کیا مثل چراغ شب آخر ہے جوانی شریانوں میں اک تازہ توانائی سی کیوں ہے در آئی ہے کیوں کمرے میں دریاؤں کی خوشبو ٹوٹی ہوئی دیواروں پہ للچائی سی کیوں ہے میں اور مری ذات اگر ایک ہی شے ہیں پھر برسوں سے دونوں ...

مزید پڑھیے

دل کے مکاں میں آنکھ کے آنگن میں کچھ نہ تھا

دل کے مکاں میں آنکھ کے آنگن میں کچھ نہ تھا جب غم نہ تھا حیات کے دامن میں کچھ نہ تھا یہ تو ذرا بتاؤ ہمیں اہل کارواں ان رہبروں میں کیا ہے جو رہزن میں کچھ نہ تھا ظلمت کا جب طلسم نہ ٹوٹا نگاہ سے روشن ہوا کہ دیدۂ روشن میں کچھ نہ تھا وہ تو بہار کا ہمیں رکھنا پڑا بھرم ورنہ یہ واقعہ ہے کہ ...

مزید پڑھیے

کوہساروں میں نہیں ہے کہ بیاباں میں نہیں

کوہساروں میں نہیں ہے کہ بیاباں میں نہیں باغباں حسن فقط تیرے گلستاں میں نہیں موج دریا کی روانی کہ گھٹاؤں کا خرام کون سی بات تری زلف پریشاں میں نہیں تجھ سے ہو ترک جفا مجھ سے وفائیں چھوٹیں وہ ترے بس میں نہیں یہ مرے امکاں میں نہیں خیر دھندلائی سی تھی روشنیٔ شام خزاں باغباں وہ بھی ...

مزید پڑھیے

نہ صنم کدوں کی ہے جستجو نہ خدا کے گھر کی تلاش ہے

نہ صنم کدوں کی ہے جستجو نہ خدا کے گھر کی تلاش ہے مرے دل میں بھر دے جو بجلیاں مجھے اس نظر کی تلاش ہے ہیں بہت سے ایسے بھی راہزن جو ملیں گے خضر کے بھیس میں کوئی ان سے کہہ دے یہ ہم سفر جنہیں راہبر کی تلاش ہے تجھے چند روزہ خوشی ملی تو ملا مجھے غم دائمی وہ تری نظر کی تلاش تھی یہ مری نظر ...

مزید پڑھیے

تحفۂ غم بھی ملا درد کی سوغات کے بعد

تحفۂ غم بھی ملا درد کی سوغات کے بعد پھر بھی دل خوش نہ ہوا اتنی عنایات کے بعد عمر بھر ڈھونڈتے پھرتے ہی رہے اپنا وجود خود سے ہم مل نہ سکے ان سے ملاقات کے بعد میں ہوں جب تک تو سمجھ لیجئے سب کچھ ہے یہاں کچھ نہ رہ جائے گا دنیا میں مری ذات کے بعد کتنی تاریکیاں گزریں تو اجالا دیکھا حسن ...

مزید پڑھیے

گلزار میں ایک پھول بھی خنداں تو نہیں ہے

گلزار میں ایک پھول بھی خنداں تو نہیں ہے کچھ اور ہے یہ دور بہاراں تو نہیں ہے ہے چاک‌ بداماں ہی تو اے لالہ خود سر گل تیری طرح داغ بداماں تو نہیں ہے اچھا ہی ہوا ڈوب گیا میرا سفینہ اب کشمکش ساحل و طوفاں تو نہیں ہے تقدیر کی بات اور ہے ورنہ دل مضطر امید کے بر آنے کا امکاں تو نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4139 سے 5858