اے کہکشاں گزر کے تری رہ گزر سے ہم
اے کہکشاں گزر کے تری رہ گزر سے ہم آگے بڑھیں گے اور مقام قمر سے ہم عزم بلند حوصلۂ مستقل لیے گزرے ہر ایک مرحلۂ سخت تر سے ہم دیکھا تو ہے زمیں سے تجھے گنبد فلک دیکھیں گے اب زمیں کو ترے بام و در سے ہم جب سے ہوئی ہے آنکھ شب غم سے آشنا نا آشنا ہیں لذت خواب سحر سے ہم دل اضطراب و درد سے ...