شاعری

اے کہکشاں گزر کے تری رہ گزر سے ہم

اے کہکشاں گزر کے تری رہ گزر سے ہم آگے بڑھیں گے اور مقام قمر سے ہم عزم بلند حوصلۂ مستقل لیے گزرے ہر ایک مرحلۂ سخت تر سے ہم دیکھا تو ہے زمیں سے تجھے گنبد فلک دیکھیں گے اب زمیں کو ترے بام و در سے ہم جب سے ہوئی ہے آنکھ شب غم سے آشنا نا آشنا ہیں لذت خواب سحر سے ہم دل اضطراب و درد سے ...

مزید پڑھیے

یہ دور کیسا ہے یا الٰہی کہ دوست دشمن سے کم نہیں ہے

یہ دور کیسا ہے یا الٰہی کہ دوست دشمن سے کم نہیں ہے خلوص ہر رہبر‌ زمانہ فریب رہزن سے کم نہیں ہے ہوا تو ہے بے نقاب کوئی نظر ہے محروم دید پھر بھی نقاب سے ہے سوا تجلی جمال چلمن سے کم نہیں ہے لگا کے خون جگر کا ٹیکا ہے سامنے غم کے سر بہ سجدہ صنم پرستی میں تو بھی اے دل کسی برہمن سے کم ...

مزید پڑھیے

ادیب تھا نہ میں کوئی بڑا صحافی تھا

ادیب تھا نہ میں کوئی بڑا صحافی تھا زمانہ پھر بھی مرے فن کا اعترافی تھا مجھے بھی زہر دیا کیوں نہ حق بیانی پر کہ یہ گناہ تو نا قابل معافی تھا کسی سے ایک بھی فطرت کا راز کھل نہ سکا اگرچہ دور زمانے کا انکشافی تھا مصیبتوں نے تو ناحق اٹھائیں تکلیفیں مجھے مٹانے کو میرا شباب کافی ...

مزید پڑھیے

زمزمۂ آہ و فغاں دور تک

زمزمۂ آہ و فغاں دور تک گونجتی ہے وادئ جاں دور تک ہائے رے ویرانیٔ راہ حیات کوئی صدا ہے نہ نشاں دور تک مل نہ سکا امن و سکوں کا پتہ ڈھونڈ چکی عمر رواں دور تک شمع طرب جلوہ فگن آس پاس مشعل غم نور فشاں دور تک سمٹے ہوئے امن کے پیغامبر پھیلے ہوئے قاتل جاں دور تک شہر میں دیہات میں ہر ...

مزید پڑھیے

بشر کی ذات میں شر کے سوا کچھ اور نہیں

بشر کی ذات میں شر کے سوا کچھ اور نہیں یہ بات نقص نظر کے سوا کچھ اور نہیں حیات کی شب تاریک ختم ہوتی ہے قضا طلوع سحر کے سوا کچھ اور نہیں جو دیکھیے تو کف گل فروش بھی ہے حیات غلط کہ دامن تر کے سوا کچھ اور نہیں گزر کے حد سے ہر اک شے برعکس ہوتی ہے کمال عیب ہنر کے سوا کچھ اور نہیں یہ رنگ ...

مزید پڑھیے

غموں سے کھیلتے رہنا کوئی ہنسی بھی نہیں

غموں سے کھیلتے رہنا کوئی ہنسی بھی نہیں نہ ہو یہ کھیل تو پھر لطف زندگی بھی نہیں نہیں کہ دل میں تمنا مرے کوئی بھی نہیں مگر یہ بات کچھ ایسی کی گفتنی بھی نہیں ابھی میں کیا اٹھوں نیت ابھی بھری بھی نہیں ستم یہ اور کہ مے کی ابھی کمی بھی نہیں ادائیں ان کی سناتی ہیں مجھ کو میری غزل غزل ...

مزید پڑھیے

تعمیر نو قضا و قدر کی نظر میں ہے

تعمیر نو قضا و قدر کی نظر میں ہے آج ایک زلزلہ سا ہر اک بام و در میں ہے کتنے چراغ امید کے جل جل کے بجھ گئے کیا جانے کتنی دیر طلوع سحر میں ہے ہر اک ہے سوئے منزل جاناں رواں دواں ہر ذرہ کائنات کا پیہم سفر میں ہے گم کردہ راہ ہو کے بھی ان سے ہوئے نہ دور گم گشتگی بھی ہے تو اسی رہ گزر میں ...

مزید پڑھیے

اسباب زندگی کی ہر اک چیز ہے گراں (ردیف .. ل)

اسباب زندگی کی ہر اک چیز ہے گراں بس ایک زندگی ہے کہ ارزاں ہے آج کل مشاطگیٔ فلسفۂ مغربی نہ پوچھ زلف خیال اور پریشاں ہے آج کل سر رشتۂ خیال ہوا جا رہا ہے گم کچھ ایسی الجھنوں میں مسلماں ہے آج کل قدرت کی رہبری کے طریقے عجیب ہیں یعنی لباس کفر میں ایماں ہے آج کل بے زحمت شکار ہی کھائے ...

مزید پڑھیے

زندگی ساز شکستہ کی فغاں ہی تو نہیں

زندگی ساز شکستہ کی فغاں ہی تو نہیں زمزمہ سنج بھی ہے مرثیہ خواں ہی تو نہیں عشق سے باز ہم آتے جو گزرتا وہ گراں لطف تو یہ ہے طبیعت پہ گراں ہی تو نہیں دل برا کیجیے کس طرح بھلا پھر اس سے راحت جاں بھی تو ہے آفت جاں ہی تو نہیں ایسی یادیں بھی ہیں سو زندگیاں جن پہ نثار حاصل زیست غم عمر ...

مزید پڑھیے

میں اجڑا شہر تھا تپتا تھا دشت کے مانند (ردیف .. و)

میں اجڑا شہر تھا تپتا تھا دشت کے مانند ترا وجود کہ سیراب کر گیا مجھ کو ہر آدمی میں تھے دو چار آدمی پنہاں کسی کو ڈھونڈنے نکلا کوئی ملا مجھ کو ہے میرے درد کو درکار گوشت کی خوشبو بہت نہیں تری یادوں کا سلسلہ مجھ کو تری بدن میں مرے خواب مسکراتے ہیں دکھا کبھی مرے خوابوں کا آئینہ مجھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4138 سے 5858