شاعری

سفید پوشیٔ دل کا بھرم بھی رکھنا ہے

سفید پوشیٔ دل کا بھرم بھی رکھنا ہے تری خوشی کے لیے تیرا غم بھی رکھنا ہے دل و نظر میں ہزار اختلاف ہوں لیکن جو عشق ہے تو پھر ان کو بہم بھی رکھنا ہے بچھڑنے ملنے کے معنی جدا جدا کیوں ہیں ہر ایک بار جب آنکھوں کو نم بھی رکھنا ہے حسین ہے تو اسے اپنی بات رکھنے کو کرم کے ساتھ روا کچھ ستم ...

مزید پڑھیے

خمار شب میں ترا نام لب پہ آیا کیوں

خمار شب میں ترا نام لب پہ آیا کیوں نشے میں اور بھی تھے میں ہی لڑکھڑایا کیوں میں اپنے شہر کی ہر رہ گزر سے پوچھتا ہوں پڑا ہوا ہے یہیں وحشتوں کا سایا کیوں کوئی تو درد ہے ایسا جو کھینچتا ہے اسے مرے ہی دل کی طرف لوٹ کر وہ آیا کیوں کسی نگاہ کا میں حسن انتخاب نہ تھا تو زندگی نے مجھے ہی ...

مزید پڑھیے

مرے وجود کو پرچھائیوں نے توڑ دیا

مرے وجود کو پرچھائیوں نے توڑ دیا میں اک حصار تھا تنہائیوں نے توڑ دیا بہم جو محفل اغیار میں رہے تھے کبھی یہ سلسلہ بھی شناسائیوں نے توڑ دیا بس ایک ربط نشانی تھا اپنے پرکھوں کی اسے بھی آج مرے بھائیوں نے توڑ دیا تو بے خبر ہے مگر نیند سے بھری لڑکی مرا بدن تری انگڑائیوں نے توڑ ...

مزید پڑھیے

کہیں سے نیلے کہیں سے کالے پڑے ہوئے ہیں

کہیں سے نیلے کہیں سے کالے پڑے ہوئے ہیں ہمارے پیروں میں کتنے چھالے پڑے ہوئے ہیں کہیں تو جھکنا پڑے گا نان جویں کی خاطر نہ جانے کس کے کہاں نوالے پڑے ہوئے ہیں وہ خوش بدن جس گلی سے گزرا تھا اس گلی میں ہم آج بھی اپنا دل سنبھالے پڑے ہوئے ہیں ہماری خاطر بھی فاتحہ ہو برائے بخشش ہم آپ ...

مزید پڑھیے

ملنے کا بھی آخر کوئی امکان بناتے

ملنے کا بھی آخر کوئی امکان بناتے مشکل تھی اگر کوئی تو آسان بناتے رکھتے کہیں کھڑکی کہیں گلدان بناتے دیوار جہاں ہے وہاں دالان بناتے تھوڑی ہے بہت ایک مسافت کو یہ دنیا کچھ اور سفر کا سر و سامان بناتے کرتے کہیں احساس کے پھولوں کی نمائش خوابوں سے نکلتے کوئی وجدان بناتے تصویر ...

مزید پڑھیے

مثال شمع جلا ہوں دھواں سا بکھرا ہوں

مثال شمع جلا ہوں دھواں سا بکھرا ہوں میں انتظار کی ہر کیفیت سے گزرا ہوں سب اپنے اپنے دیوں کے اسیر پائے گئے میں چاند بن کے کئی آنگنوں میں اترا ہوں کچھ اور بڑھ گئی بارش میں بے بسی اپنی نہ بام سے نہ کسی کی گلی سے گزرا ہوں پکارتی تھی مجھے ساحلوں کی خاموشی میں ڈوب ڈوب کے جو بار بار ...

مزید پڑھیے

چمک ستاروں کی نظروں پہ بار گزری ہے

چمک ستاروں کی نظروں پہ بار گزری ہے نہ پوچھ کیسے شب انتظار گزری ہے جو آنسوؤں کی ندی خشک تھی کئی دن سے وہ ساتھ اپنے لیے آبشار گزری ہے میں اک دھواں تھا کہ اٹھتا گیا ہر اک دل سے جدھر سے وہ نگۂ برق بار گزری ہے وہاں سے ساتھ مرا ساتھیوں نے چھوڑ دیا جہاں سے راہ گزر خار زار گزری ہے خدا ...

مزید پڑھیے

اشک آیا آنکھ میں جلتا ہوا

اشک آیا آنکھ میں جلتا ہوا آج سوز غم کا اندازہ ہوا زندگی گزری امید و یاس میں دل کبھی گلشن کبھی صحرا ہوا ذکر زلف یار رہنے دو ابھی مسئلہ ہے زیست کا الجھا ہوا بن گیا دامن میں وہ آنسو گہر جو نہ میری آنکھ کا تارا ہوا بارہا رک رک گئی نبض جہاں حسن کا جادو ہے کیا چلتا ہوا گردشوں سے کیا ...

مزید پڑھیے

وہ برق کا ہو کہ موجوں کے پیچ و تاب کا رنگ

وہ برق کا ہو کہ موجوں کے پیچ و تاب کا رنگ جدا ہے سب سے مرے دل کے اضطراب کا رنگ شگفتگی مجھے زخم جگر کی یاد آئی چمن میں دیکھ کے کھلتے ہوئے گلاب کا رنگ کیا نہ ترک اگر ترک عاشقی کا خیال خراب اور بھی ہوگا دل خراب کا رنگ لگا رہے ہیں وہ نشتر سے زخم پر مرہم نگاہ لطف و کرم میں بھی ہے عتاب ...

مزید پڑھیے

ہوئی دل ٹوٹنے پر اس طرح دل سے فغاں پیدا

ہوئی دل ٹوٹنے پر اس طرح دل سے فغاں پیدا کہ جیسے شمع کے بجھنے سے ہوتا ہے دھواں پیدا رہا ثابت قدم یوں ہی اگر عزم سفر اپنا کرے گی خود رہ‌ دشوار ہی آسانیاں پیدا ہر اک تعمیر خود اپنی تباہی ساتھ لاتی ہے نہ گرتی برق گر ہوتی نہ شاخ آشیاں پیدا مری خواہش کہ اک سجدہ مٹا دے نام پیشانی تری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4137 سے 5858