شاعری

سرحدیں

یہ سرحدیں.... پڑوسنیں کبھی ہنسی خوشی رہیں کبھی ذرا سی بات ہو تو لڑ پڑیں نہ آنگنوں میں ایک ساتھ رقص ہو نہ بام پر ہی باہمی قدم پڑے گلی میں کوئی کھیل ہو نہ تال ہو، نہ میل ہو کشیدگی کے نام پر گھٹن کی ریل پیل ہو یہ سرحدیں.... پڑوسنیں پڑوسنوں سے کیا کہیں جہاں میں رنجشوں کے سب گلیشئر پگھل ...

مزید پڑھیے

درختوں کے لیے

اے درختو! تمہیں جب کاٹ دیا جائے گا اور تم سوکھ کے لکڑی میں بدل جاؤ گے ایسے عالم میں بہت پیش کشیں ہوں گی تمہیں تم مگر اپنی روایت سے نہ پھرنا ہرگز شاہ کی کرسی میں ڈھلنے سے کہیں بہتر ہے کسی فٹپاتھ کے ہوٹل کا وہ ٹوٹا ہوا تختہ بننا میلے کپڑوں میں سہی لوگ محبت سے جہاں بیٹھتے ہیں کسی ...

مزید پڑھیے

تجھے کس طرح چھڑاؤں خلش غم نہاں سے

تجھے کس طرح چھڑاؤں خلش غم نہاں سے دل بے قرار لاؤں انہیں ڈھونڈ کر کہاں سے وہ بہار کاش آئے وہ چلے ہوائے دل کش کہ قفس پہ پھول برسیں مری شاخ آشیاں سے کبھی قافلے سے آگے کبھی قافلے سے پیچھے نہ میں کارواں میں شامل نہ جدا ہوں کارواں سے مرے بعد کی بہاریں مری یادگار ہوں گی کہ کھلیں گے ...

مزید پڑھیے

تمہیں اک نہیں جانستاں اور بھی ہیں

تمہیں اک نہیں جانستاں اور بھی ہیں بہت حادثات جہاں اور بھی ہیں حسیں اور بھی ہیں جواں اور بھی ہیں غزالان ابرو کماں اور بھی ہیں سبھی کو محبت میں ہوتے ہیں صدمے ابھی کیا ابھی امتحاں اور بھی ہیں چلو دھوم سے جشن ماتم منائیں ہمیں اک نہیں نوحہ خواں اور بھی ہیں نہیں ختم کچھ آسماں پر ...

مزید پڑھیے

بہار آئی گل افشانی کے دن ہیں

بہار آئی گل افشانی کے دن ہیں ہماری تنگ دامانی کے دن ہیں عنادل کی غزل خوانی کے دن ہیں گلوں کی چاک دامانی کے دن ہیں جدھر دیکھو کھلے ہیں لالہ و گل یہ خون دل کی ارزانی کے دن ہیں ہوا دامان گل دامان یوسف نظر کی پاک دامانی کے دن ہیں سبک رو ہے نسیم روح پرور مگر پھر بھی گراں جانی کے دن ...

مزید پڑھیے

کچھ تو مجھے محبوب ترا غم بھی بہت ہے

کچھ تو مجھے محبوب ترا غم بھی بہت ہے کچھ تیری توجہ کی نظر کم بھی بہت ہے اشکوں سے بھی کھلتا ہے وہ دل جو ہے گرفتہ کلیوں کے لیے قطرۂ شبنم بھی بہت ہے ہم خود ہی نہیں چاہتے صیاد سے بچنا سازش نگہ‌ و دل کی منظم بھی بہت ہے ہے رشتۂ دزدیدہ نگاہی بھی عجب شے قائم یہ ہوا پر بھی ہے محکم بھی بہت ...

مزید پڑھیے

اب وہ مہکی ہوئی سی رات نہیں

اب وہ مہکی ہوئی سی رات نہیں بات کیا ہے کہ اب وہ بات نہیں پھر وہی جاگنا ہے دن کی طرح رات ہے اور جیسے رات نہیں بات اپنی تمہیں نہ یاد رہی خیر جانے دو کوئی بات نہیں کچھ نہیں ہے تو یاد ہے ان کی ان سے ترک تعلقات نہیں پھر بھی دل کو بڑی امیدیں ہیں گو بہ ظاہر توقعات نہیں عشق ہوتا ہے خود ...

مزید پڑھیے

خزاں کا رنگ درختوں پہ آ کے بیٹھ گیا

خزاں کا رنگ درختوں پہ آ کے بیٹھ گیا میں تلملا کے اٹھا پھڑپھڑا کے بیٹھ گیا کسی نے جام اچھالا بنام شام الم کوئی ملال کی وحشت چھپا کے بیٹھ گیا ملا نہ جب کوئی محفل میں ہم نشینی کو میں اک خیال کے پہلو میں جا کے بیٹھ گیا پرانے یار بھی آپس میں اب نہیں ملتے نہ جانے کون کہاں دل لگا کے ...

مزید پڑھیے

مجھے اداس کر گئے ہو خوش رہو

مجھے اداس کر گئے ہو خوش رہو مرے مزاج پر گئے ہو خوش رہو مرے لیے نہ رک سکے تو کیا ہوا جہاں کہیں ٹھہر گئے ہو خوش رہو خوشی ہوئی ہے آج تم کو دیکھ کر بہت نکھر سنور گئے ہو خوش رہو اداس ہو کسی کی بے وفائی پر وفا کہیں تو کر گئے ہو خوش رہو گلی میں اور لوگ بھی تھے آشنا ہمیں سلام کر گئے ہو ...

مزید پڑھیے

داستانوں میں ملے تھے داستاں رہ جائیں گے

داستانوں میں ملے تھے داستاں رہ جائیں گے عمر بوڑھی ہو تو ہو ہم نوجواں رہ جائیں گے شام ہوتے ہی گھروں کو لوٹ جانا ہے ہمیں ساحلوں پر صرف قدموں کے نشاں رہ جائیں گے ہم کسی کے دل میں رہنا چاہتے تھے اس طرح جس طرح اب گفتگو کے درمیاں رہ جائیں گے خواب کو ہر خواب کی تعبیر ملتی ہے کہاں کچھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4136 سے 5858