شاعری

بنت حوا

لوٹ کر جب نہ گھر گئی ہوگی اک قیامت گزر گئی ہوگی رات پر ہول بھیڑیوں کا غول وہ اکیلی تھی ڈر گئی ہوگی کوئی آدم نہ کوئی آدم زاد دور تک جب نظر گئی ہوگی غیر کا ہاتھ جب بڑھا ہوگا جیتے جی وہ تو مر گئی ہوگی اپنے تن کو جلا کے غیرت سے زخم سب دل کے بھر گئی ہوگی بنت حوا جو مانگتی ہے کفن سر سے ...

مزید پڑھیے

رنگ برنگی ایک چنریا

جب سے ابا کے چہرے کو لکوا مار گیا تھا اور دادا کو دل کا دورہ زیادہ تر وہ گھر کے اندر رہتے آپس ہی میں باتیں کرتے وقت بتاتے باہر کے سب کام بڑے بھیا کی ذمہ داری باغ بغیچے کورٹ کچیری اور پٹواری فصل اگاتے ہاری اپنے گھر کے مردانے کا حال برا تھا ہر کمرے میں کاٹھ کباڑ مکڑی جالے کس کو فرصت ...

مزید پڑھیے

کسی کو یاد کب ہوگا

کبھی تم نے کسی چھوٹے سے بچے کو سسکتے نیند میں بھیگی ہوئی آنکھوں سے دیکھا ہے کبھی پوچھا ہے خود سے بھی سبب اس کا کبھی سوچا ہے تم نے کس لئے معصوم روتا ہے کیوں آنکھیں بند اپنی جان کھوتا ہے کھبی تم نے بھی اپنے بچپنے میں خواب بوئے تھے کبھی سوتے میں روئے تھے تمہیں بھی یاد کب ہوگا سر ...

مزید پڑھیے

دیر‌ سویر تو ویسے بھی ہو جاتی ہے

چاندنی راتوں کے رسیا اس رات بھی اس کی راہیں دیکھ رہے تھے مدہوشی میں ناچ رہے تھے وقت کی مدھم ہوتی لو سے ٹھنڈے ہوتے جسموں کو اب سینک رہے تھے چاند اس رات بھی کافی دیر سے نکلا تھا پچھلی کچھ راتوں سے اکثر چاند کو دیر ہو جاتی تھی چاند کا رستہ تکتے تکتے چاند سے چہرے والی بچی روتے روتے سو ...

مزید پڑھیے

فاختہ کا رنگ زرد تھا

کھٹ بڑھئی کی دستک پر تناور شجر نے کندھے جھٹک کر اپنی بے نیازی کا اظہار کیا ہوا کا تیز جھونکا گھڑی بھر کے لیے پتوں سے الجھا پھولی ہوئی سانس سے کچھ کہنا چاہا مگر الفاظ نے ساتھ نہ دیا شجر نے بڑی بے اعتنائی سے اس کی طرف ایک نظر دیکھا مگر جھونکا اتنی دیر میں دور جا چکا تھا ابھی اسے اور ...

مزید پڑھیے

نقاب جتنے ہیں

سفر میں پیش کوئی حادثہ بھی ممکن ہے ذرا سے دیر میں آہ و بکا بھی ممکن ہے مرا وجود کبھی بے اماں نہ ہو جائے یہ جسم مر کے کہیں بے نشاں نہ ہو جائے مرا پتہ نہ چلے کچھ مری خبر نہ ملے گزر ہوا تھا جہاں سے وہ رہ گزر نہ ملے شکار ہو گیا جب مرگ ناگہانی کا خیال آئے گا لوگوں کو تب نشانی کا نقاب ...

مزید پڑھیے

آئنہ چٹخ جائے

آئنے کے چہرے سے جھانکتی ہوئی آنکھیں سوچتی ہوئی آنکھیں کھل کے کچھ نہیں کہتیں چپ بھی یہ نہیں رہتیں روبرو تم آئینہ آج اپنے رکھ لینا جو بھی دل میں ہے پنہاں صاف صاف کہہ دینا کل کو عین ممکن ہے موت اپنی مر جائے آئنہ چٹخ جائے

مزید پڑھیے

خراب حال ہوں ہر حال میں خراب رہا

خراب حال ہوں ہر حال میں خراب رہا خوشی میں بھی غم دل کا سا اضطراب رہا نظارۂ رخ زیبا کی یاں کسے فرصت نقاب رخ پہ رہی یا وہ بے نقاب رہا طرب کی بزم میں جا کر کرے گا کیا کوئی نہ وہ پیالہ نہ وہ مے نہ وہ شباب رہا نوائے شوق نکلتی ہے اب بھی دل سے مگر نہ وہ اپج نہ وہ محفل نہ وہ رباب رہا ہر ...

مزید پڑھیے

زندگی اور موت

موت اک خواب ہے اجزائے بدن کا ہمدم زندگی نام ہے احساس کی بیداری کا موت جس رہ‌‌ گزر شوق میں رہزن کا نقاب زندگی رخت اسی راہ طلب گاری کا زندگی جسم و دل و جاں کی منظم قوت موت اظہار پریشانی‌ و لاچاری کا موت صحراؤں میں بکھرے ہوئے ذروں کا غبار زندگی نقش انہی ذروں کی چمن کاری کا موت بے ...

مزید پڑھیے

شاعر کی التجا

پیام شوق کو سوز اثر دے نوا میں آگ کی تاثیر بھر دے حکومت کا نہیں میں آرزو مند نہ یہ کہتا ہوں جاہ و مال و زر دے عطا کر لفظ و معنی کے جواہر در نایاب لا ثانی گہر دے دل تیرہ کو رکھ آگاہ فطرت سواد چشم کو حسن نظر دے قمر کی روشنی خورشید کی ضو سکوت شام نغمات سحر دے پیام شوق کو سوز اثر دے نوا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4133 سے 5858