آغاز جفا یاد نہ انجام وفا یاد
آغاز جفا یاد نہ انجام وفا یاد جب سامنے تم آئے تو کچھ بھی نہ رہا یاد اب یاد نشیمن ہے نہ بجلی کی جفا یاد نکلے تھے کچھ ایسے کہ چمن تک نہ رہا یاد جس نے مری سوئی ہوئی دنیا کو جگایا آ جاتی ہے اب بھی وہ محبت کی صدا یاد احساس سا ہوتا ہے دھڑکتے ہوئے دل کو شاید مجھے بھولی ہوئی دنیا نے کیا ...