شاعری

آغاز جفا یاد نہ انجام وفا یاد

آغاز جفا یاد نہ انجام وفا یاد جب سامنے تم آئے تو کچھ بھی نہ رہا یاد اب یاد نشیمن ہے نہ بجلی کی جفا یاد نکلے تھے کچھ ایسے کہ چمن تک نہ رہا یاد جس نے مری سوئی ہوئی دنیا کو جگایا آ جاتی ہے اب بھی وہ محبت کی صدا یاد احساس سا ہوتا ہے دھڑکتے ہوئے دل کو شاید مجھے بھولی ہوئی دنیا نے کیا ...

مزید پڑھیے

بیگانہ بنا دیتا ہے انداز بیاں اور

بیگانہ بنا دیتا ہے انداز بیاں اور ہو سامنا ان کا تو بہکتی ہے زباں اور تیز آگ ہوئی جاتی ہے اے سوز نہاں اور آنسو جو ٹپکتے ہیں تو اٹھتا ہے دھواں اور اے روح نہ ہو جائے کہیں جسم گراں اور گھبرائے مسافر تو بدلتا ہے مکاں اور جب ڈوبتے تاروں سے الجھ جاتی ہیں آہیں چھا جاتا ہے محفل پہ ...

مزید پڑھیے

محاذ علم پہ چھایا ہوا اندھیرا ہے

محاذ علم پہ چھایا ہوا اندھیرا ہے خرد کی راہ کو دیوانگی نے گھیرا ہے چمن کی خاک میں عبرت کی داستانیں ہیں سسک رہی ہیں بہاریں خزاں کا ڈیرا ہے چراغ دیر و حرم جل گئے مگر اب بھی جدھر نگاہ اٹھاؤ ادھر اندھیرا ہے سمندروں پہ ستاروں پہ نظم عالم پر نہ اختیار تمہارا ہے اور نہ میرا ہے ہزار ...

مزید پڑھیے

گھبرائے جتنا موت کی دل بستگی سے ہم

گھبرائے جتنا موت کی دل بستگی سے ہم بیگانہ اتنے ہوتے گئے زندگی سے ہم کیوں کہ بدل دیں نعمت غم کو خوشی سے ہم کس طرح مانگ لائیں تبسم کسی سے ہم کچھ ایسی باتیں سیکھ گئے دوستی سے ہم کرتے نہیں اب اپنا تعارف کسی سے ہم کہہ دو شب فراق کے تاروں سے ڈوب جاؤ مانوس اب نہیں ہیں کسی روشنی سے ...

مزید پڑھیے

پچھلے بیس برسوں میں

اپنے اپنے کاموں سے وقت جو بھی بچتا تھا ساتھ ہم بتاتے تھے جو سمے گزرتے تھے ان کی جگ کہانی بھی ایک دوسرے کو ہم شوق سے سناتے تھے لوٹ کر میں آفس سے جس گھڑی تھکا ہارا اپنے گھر میں آتا تھا سب تکان دن بھر کی اپنے در کی چوکھٹ سے دور چھوڑ آتا تھا یاد ہے مجھے اب تک دن وہ تلخ ماضی کا باس اپنے ...

مزید پڑھیے

سچی آنکھیں جھوٹی آنکھیں

یہ آنکھیں اک ایسے شخص کا عطیہ ہیں جس نے اس دوزخ میں رہ کر اک جنت آباد کری تھی نفس کو زنجیریں پہنا کر روح اپنی آزاد رکھی تھی

مزید پڑھیے

میں اپنے لہجے میں بولتا ہوں

میں اپنے ہاتھوں سے سوچتا ہوں اور اپنے پوروں سے انگلیوں کے نہ کھلنے والی گرہوں کو ذہنوں کی کھولتا ہوں برسنے والی سخن کی بارش سے سچے لفظوں کے موتیوں کو میں رولتا ہوں میں اپنے لہجے میں بولتا ہوں

مزید پڑھیے

وہ حمد رب جلیل

ہمیں تعلیم دیتا ہے اشاروں سے کنایوں سے اچھوتے استعاروں سے کبھی تشبیہ کے روشن ستاروں سے ہمارے ذہن و دل کی ہر تہ نا صاف کو آلودگی سے پاک کرتا ہے کبھی لفظوں کے تن پر سے قبائے پر تکلف چاک کرتا ہے ہر اک باطل رویے کو جلا کر راکھ کرتا ہے

مزید پڑھیے

بام و در

ہر اک ساعت ہر اک نفس میں کہ مر رہا ہوں بکھر رہا ہوں کسے خبر ہے کہ میں جو کل تھا وہ اب نہیں ہوں کسے خبر ہے کہ میں جو چند لمحے پیشتر تھا وہ اب نہیں ہوں کسے خبر ہے کہ میں جو اب ہوں وہ پھر نہ ہوں گا کہ میں جو ہر لکھتا مر رہا ہوں بکھر رہا ہوں کسے خبر ہے کہ یہ عمارت مرے بدن کی عظیم تر ہے کہ ...

مزید پڑھیے

زمانہ چال چل جائے

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ برسوں بعد بنجر اس زمین دل میں کونپل سر اٹھاتی ہے کلی کھلتی ہے تتلی رقص کرتی گنگناتی ہے کرن اک جگمگاتی ہے ہوائے خوش گمانی کا فرحت انگیز جھونکا مجھ سے سرگوشی میں کہتا ہے تمہیں اس سے محبت ہے اسے تم سے محبت ہے نہ تم اظہار کرتے ہو نہ وہ اقرار کرتی ہے یہ سچ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4132 سے 5858