شاعری

کیا عشق کے الجھے جادے ہیں منزل کا کہیں پر نام نہیں

کیا عشق کے الجھے جادے ہیں منزل کا کہیں پر نام نہیں تقدیر ہے اور تدبیر نہیں آغاز ہے اور انجام نہیں اے اشک مچلتی چنگاری تو درد ہے خود پیغام نہیں آنکھوں میں کبھی پلکوں پہ کبھی تجھ کو بھی کہیں آرام نہیں دم بھر کی ہنسی دم بھر کی خوشی یہ بھی تو دل ناکام نہیں اس چلتی پھرتی دنیا میں سب ...

مزید پڑھیے

شام فرقت کے ستارے تو اثر تک ٹھہرے

شام فرقت کے ستارے تو اثر تک ٹھہرے ہاں وفادار تھے آنسو جو سحر تک ٹھہرے جلوے دیکھے تو ملک اور بشر تک ٹھہرے سجدے کرنے کے لیے شمس و قمر تک ٹھہرے داستاں رنگ پر آئی تو زمانہ بدلا ڈوبتے تارے بھی آغاز سحر تک ٹھہرے کہہ دے کھلتی ہوئی کلیوں سے کوئی گلشن میں اتنا ہلکا ہو تبسم کہ نظر تک ...

مزید پڑھیے

قید میں رہتے ہیں جب تک بھی جیے جاتے ہیں

قید میں رہتے ہیں جب تک بھی جیے جاتے ہیں حلقے زنجیر کے پھر توڑ دئے جاتے ہیں رونقیں چاند ستاروں کی لیے جاتے ہیں چاندنی رات کو بے نور کیے جاتے ہیں یہ تبسم نہ سہی حسن کی سوغات سہی درد کو ایک چمک اور دئے جاتے ہیں خاک ہونے پہ بھی کم ہوتا نہیں جذبۂ عشق روشنی شمع کی پروانے لیے جاتے ...

مزید پڑھیے

رنگ اور روپ میں سونے سے کھری ہوتی ہے

رنگ اور روپ میں سونے سے کھری ہوتی ہے دل کی وہ رگ جو محبت سے بھری ہوتی ہے آشیانے کو پنپنے نہیں دیتی دنیا برق گر پڑتی ہے جب شاخ ہری ہوتی ہے جھینپ جاتا ہے چٹکتی ہوئی کلیوں کا شباب مست آنکھوں میں اگر نیند بھری ہوتی ہے اشک برساتی ہوئی آتی ہے گلشن میں بہار پھول کھلتے ہیں تو شبنم کی ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں تو آنسو کو سکوں تک نہیں ملتا (ردیف .. ر)

آنکھوں میں تو آنسو کو سکوں تک نہیں ملتا دامن پہ جب آتا ہے تو ہوتا ہے رواں اور اے قوت پرواز ذرا اور سہارا سنتے ہیں ستاروں میں ہیں آباد جہاں اور گہرا ہو اگر سجدہ تو کھنچ آتے ہیں جلوے پیشانیٔ عالم پہ ابھرتا ہے نشاں اور تقسیم اگر ہوتا ہے شعلوں میں نشیمن جلتے ہوئے تنکوں سے لپٹتا ہے ...

مزید پڑھیے

زیست کو قسمت سے کام دیکھیے کب تک رہے

زیست کو قسمت سے کام دیکھیے کب تک رہے چھلکا ہوا دل کا جام دیکھیے کب تک رہے کانپتے ہونٹوں پہ ہے بات ابھی الجھی ہوئی قصۂ غم ناتمام دیکھیے کب تک رہے نبض بھی چلتی ہوئی دل بھی دھڑکتا ہوا آرزوئے صبح و شام دیکھیے کب تک رہے جذب وفا ناتمام ذوق وفا بے ثبات لب پہ محبت کا نام دیکھیے کب تک ...

مزید پڑھیے

''بنگال کی رقاصہ''

ناچیے ناچیے پائل کے بغیر جسم عریاں ہی رہے شعلہ افشاں ہی رہے ناچیے ناچیے بھوک اور موت کا رقص میرے بنگال کا رقص ناچیے سوچتی کیا ہیں، اٹھیے آپ بنگال سے کب آئی ہیں نغمہ و رقص کا پیکر بن کر جسم کو بیچئے پتھر بن کر ناچیے ناچیے میں پاگل ہوں یوں ہی بکا کرتا ہوں

مزید پڑھیے

کتوں کا مشاعرہ

اک شب کو ایک نالے پہ میرا گزر ہوا کتوں کا منعقد تھا جہاں اک مشاعرہ ''بغ'' کا جناب صدر نے مصرع جو اک دیا بھوں بھوں کی گٹکری پہ سبھوں نے اٹھا لیا وہ بیت شیخ گھیسو کی کتیاں نے جھاڑ دی چت سامعین ہو گئے محفل اکھاڑ دی کتیاں تھیں نوجوان کئی شاعرات میں کچھ شاعر کرام تھے واں ان کی گھات ...

مزید پڑھیے

فیملی پلاننگ

ہر دم یہی اک فکر ہو اولاد ہی کا ذکر ہو ہر سمت چاہے کال ہو سارا جہاں پامال ہو بد حال ہو بے حال ہو کنگال ہو بچوں سے مالا مال ہو گھر میں اگر کھانا نہیں پانی نہیں، دانا نہیں چاہے کوئی ناشاد ہو گھر میں اگر چلمن نہیں اک شمع تک روشن نہیں آٹا نہیں راشن نہیں ایک دن سفر کو ہم چلے، اور ریل میں ...

مزید پڑھیے

ادھار

ہم کو ملازمت جو کھڑے گھاٹ مل گئی باچھوں کی ناؤ کانوں کے ساحل سے جا لگی چٹھی پھر ان کو ہم نے بصد شوق یوں لکھی ''آیا کرو ادھر بھی مری جاں کبھی کبھی'' دل نے کہا کہ جھوم کے نعرے لگائیے تختی لگا کے پیٹھ سے اب گھوم جائیے آ جائیے تو مل کے مہاجن کو لوٹ لیں قرضہ وہ لیں کہ اصل کبھی دیں نہ سود ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4130 سے 5858