کیا عشق کے الجھے جادے ہیں منزل کا کہیں پر نام نہیں
کیا عشق کے الجھے جادے ہیں منزل کا کہیں پر نام نہیں تقدیر ہے اور تدبیر نہیں آغاز ہے اور انجام نہیں اے اشک مچلتی چنگاری تو درد ہے خود پیغام نہیں آنکھوں میں کبھی پلکوں پہ کبھی تجھ کو بھی کہیں آرام نہیں دم بھر کی ہنسی دم بھر کی خوشی یہ بھی تو دل ناکام نہیں اس چلتی پھرتی دنیا میں سب ...