شاعری

وہ شخص ہے اسیر کسی کی اداؤں میں

وہ شخص ہے اسیر کسی کی اداؤں میں حسرت سے دیکھتا ہے جو اکثر خلاؤں میں سودا سفر کا سر میں سمایا کچھ اس طرح دم بھر کہیں لیا نہ درختوں کی چھاؤں میں بستی ہے ڈائنوں کی یہ جنگل ڈراؤنا ٹھہرے اگر یہاں تو پھنسوگے بلاؤں میں شہر نگار تیری فضا سوگوار ہے اک راگنی سی درد کی ہے ان ہواؤں ...

مزید پڑھیے

مرے حالات جب اچھے نہیں تھے

مرے حالات جب اچھے نہیں تھے یہ سب اپنے مرے اپنے نہیں تھے ہمارے واسطے ان دوستوں کے دلوں کے در کبھی کھلتے نہیں تھے ہمیں کچھ دوست ایسے بھی ملے ہیں ہمارے حال پر ہنستے نہیں تھے غزل گو تھے بہت فیروزؔ اچھے مگر سب کے لئے کہتے نہیں تھے

مزید پڑھیے

دیکھ کے جس کو کبھی دل بھی نہ دھڑکا اپنا (ردیف .. و)

دیکھ کے جس کو کبھی دل بھی نہ دھڑکا اپنا یاد کیوں آتا ہے رہ رہ کے وہ چہرہ ہم کو ہر طرف سے جو یہ دل ٹوٹا تو دھیان آتا ہے ہائے اک شخص نے کس درجہ تھا چاہا ہم کو سارا دن دھوپ میں جھلسے ہیں تو اب شام ڈھلے کیوں بلاتا ہے ہر اک پیڑ گھنیرا ہم کو اس کی چاہت کو سہارا نہ کہوں جینے کا راس آتا ...

مزید پڑھیے

اجلی اجلی برف کے نیچے پتھر نیلا نیلا ہے

اجلی اجلی برف کے نیچے پتھر نیلا نیلا ہے تیری یادوں میں یہ سرد دسمبر نیلا نیلا ہے دن کی رنگت خیر گزر جاتی ہے تیرے بن لیکن کتھئی کتھئی راتوں کا ہر منظر نیلا نیلا ہے دور ادھر کھڑکی پر بیٹھی سوچ رہی ہو مجھ کو کیا چاند ادھر چھت پر آیا ہے تھک کر نیلا نیلا ہے تیری نیلی چنری نے کیا حال ...

مزید پڑھیے

زندگی سے عمر بھر تک چلنے کا وعدہ کیا

زندگی سے عمر بھر تک چلنے کا وعدہ کیا اے مری کمبخت سانسو ہائے تم نے کیا کیا ابتدائے ہوش سے اچھا بھلا پتھر تھا میں اک نظر بس دیکھ کر تو نے مجھے دریا کیا ایک بس خاموش سے لمحہ کی خواہش ہی تو تھی اور اسی خواہش نے لیکن شور پھر کتنا کیا لطف اب دینے لگی ہے یہ اداسی بھی مجھے شکریہ تیرا کہ ...

مزید پڑھیے

ہوا جب کسی کی کہانی کہے ہے

ہوا جب کسی کی کہانی کہے ہے نئے موسموں کی زبانی کہے ہے فسانہ ہے جسموں کا بے شک زمینی مگر روح تو آسمانی کہے ہے تجھے چل ذرا سا میں میٹھا بنا دوں سمندر سے دریا کا پانی کہے ہے ڈسا رت جگوں نے ہے خوابوں کو پھر سے سلگتی ہوئی رات رانی کہے ہے لٹیں چند چاندی کی بخشیں تجھے جا وداع لیتی مجھ ...

مزید پڑھیے

خواب جو بھی بنا وہ بنا رہ گیا

خواب جو بھی بنا وہ بنا رہ گیا عمر بیتی مگر بچپنا رہ گیا عکس جتنے تھے سارے بدلتے رہے آئنہ تو وہی آئنہ رہ گیا دیکھ کر بادلوں کا امڑتا ہجوم لب پہ سورج کے کچھ گنگنا رہ گیا تو ملا تو مجھے یہ اچانک لگا کیسے اب تک میں تیرے بنا رہ گیا حاشیے پر پڑے ہم بھلا کیا کہیں جب بھی جو بھی کہا ان ...

مزید پڑھیے

ہیں جتنی پرتیں یہاں آسمان میں شامل

ہیں جتنی پرتیں یہاں آسمان میں شامل سبھی ہوئیں مری حد کی اڑان میں شامل بڑھا ہے شہر میں رتبہ ذرا ہمارا بھی ہوئے ہیں جیسے ہم ان کے بیان میں شامل اچھال یوں ہی نہیں بڑھ گئی ہے لہروں کی ندی کا زور بھی ہے کچھ ڈھلان میں شامل دھواں غبار پرندے تپش گھٹن خوشبو ہیں بوجھ کتنے ہوا کی تھکان ...

مزید پڑھیے

کہ اس سے پہلے خزاں کا شکار ہو جاؤں

کہ اس سے پہلے خزاں کا شکار ہو جاؤں سجا لوں خود کو مکمل بہار ہو جاؤں اتارنے کو پہاڑوں سے دھوپ گھاٹی میں میں کوئی چیڑ کوئی دیودار ہو جاؤں نہیں ہوں تجھ سے میں وابستہ اے جہاں لیکن یہ سوچتا ہوں کہ اب ہوشیار ہو جاؤں نہ بھائے لوگ یہاں کے نہ شہر ہی یہ مجھے مگر میں خود سے ہی کیسے فرار ہو ...

مزید پڑھیے

دیکھ کر وحشت نگاہوں کی زباں بے چین ہے

دیکھ کر وحشت نگاہوں کی زباں بے چین ہے پھر سلگنے کو کوئی اک داستاں بے چین ہے کالی راتوں کے سلیقے دن کو کیوں بھانے لگے سوچ کر گم سم ہے دھرتی آسماں بے چین ہے کاغذوں پر ہو گئے سارے خلاصے ہی مگر کچھ تو ہے جو حاشیوں کے درمیاں بے چین ہے جب سے سازش میں سمندر کی ہوا شامل ہوئی کشتی ہے چپ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4129 سے 5858