سکون قلب ہو تم روح کا قرار ہو تم
سکون قلب ہو تم روح کا قرار ہو تم مری حیات محبت کے رازدار ہو تم نگاہ ناز سے لوٹے ہیں میرے قلب و جگر اسیر زلف کیا اس کے ذمے دار ہو تم مرے ضمیر نے سمجھا مری نظر نے کہا مری طلب کے لیے حسن انتظار ہو تم سکون قلب ملا ہے ہماری محفل میں مری نگاہ کا مرکز ہو میرے یار ہو تم جدا جدا ہیں ...