شاعری

سکون قلب ہو تم روح کا قرار ہو تم

سکون قلب ہو تم روح کا قرار ہو تم مری حیات محبت کے رازدار ہو تم نگاہ ناز سے لوٹے ہیں میرے قلب و جگر اسیر زلف کیا اس کے ذمے دار ہو تم مرے ضمیر نے سمجھا مری نظر نے کہا مری طلب کے لیے حسن انتظار ہو تم سکون قلب ملا ہے ہماری محفل میں مری نگاہ کا مرکز ہو میرے یار ہو تم جدا جدا ہیں ...

مزید پڑھیے

تجھ کو مشکل نہیں مشکل مری آساں کر دے

تجھ کو مشکل نہیں مشکل مری آساں کر دے خاک کے ذرے کو ہمدوش سلیماں کر دے میرے اعمال نہیں لائق بخشش ہرگز تو جو چاہے تو مرے درد کا درماں کر دے حیف اب ذلت و خواری کے سوا کچھ بھی نہیں یا الٰہی ہمیں پہلا سا مسلماں کر دے رب حاجات ہمیں نسبت کامل ہو عطا ہم کو آئین صداقت کا نگہباں کر ...

مزید پڑھیے

ہر سمت یہ ہم شور و شرر دیکھ رہے ہیں

ہر سمت یہ ہم شور و شرر دیکھ رہے ہیں مظلوم کی آہوں کا اثر دیکھ رہے ہیں مٹتے ہوئے اسلاف کی عظمت کے نشانات دیکھے نہیں جاتے ہیں مگر دیکھ رہے ہیں کل تک جو اخوت کے لیے پھرتے تھے پرچم بدلی ہوئی آج ان کی نظر دیکھ رہے ہیں ارباب حکومت میں ہے جہل اور تغافل تاراج ہوا جاتا ہے گھر دیکھ رہے ...

مزید پڑھیے

سارے گلشن میں مرا کوئی بھی دم ساز نہیں

سارے گلشن میں مرا کوئی بھی دم ساز نہیں چلتے پھرتے ہیں یہ سائے مگر آواز نہیں یہ حقیقت ہے کھلی اس میں کوئی راز نہیں تو وہی ہے مگر اسلاف کے انداز نہیں بے نیاز آج بھی چشم کرم انداز نہیں غم نہ کر تو در مے خانہ اگر باز نہیں ساز ہر دور میں بنتے ہیں تقاضوں کے تحت ساز ہستی ہو نیا پھر بھی ...

مزید پڑھیے

دھوپ لٹا کر امبر جب کنگال ہوا

دھوپ لٹا کر امبر جب کنگال ہوا چاند اگا کر پھر سے مالا مال ہوا سانجھ پھسل کر ڈیوڑھی پر آ لٹکی ہے آنگن سے چوبارے تک سب لال ہوا یاد وہیں ٹھٹھکی ہے جہاں تم چھوڑ گئے لمحہ دن سپتاہ مہینہ سال ہوا دھوپ اٹک کر بیٹھا گئی ہے چھجے پر اوسارے کا اٹھنا آج محال ہوا چن چن کر وہ دیتا تھا ہر درد ...

مزید پڑھیے

وہ ٹکڑا رات کا بکھرا ہوا سا

وہ ٹکڑا رات کا بکھرا ہوا سا ابھی تک دن پے ہے ٹھہرا ہوا سا اداسی ایک لمحہ پر گری تھی صدی کا بوجھ ہے پسرا ہوا سا ادھر کھڑکی میں تھا مایوس چہرہ ادھر بھی چاند ہے اترا ہوا سا کرے ہے شور یوں سینہ میں یہ دل سموچہ جسم ہے بہرا ہوا سا یہ کن نظروں سے مجھ کو دیکھتے ہو رہوں ہر دم سجا سنورا ...

مزید پڑھیے

لمحہ گزر گیا ہے کہ عرصہ گزر گیا

لمحہ گزر گیا ہے کہ عرصہ گزر گیا ہے کون وو جو وقت کی سازش یے کر گیا اب عمر تو یے بیت چلی سوچتے تمہیں اتنا ہوا ہے ہاں کہ ذرا میں سنور گیا سمٹا تھا جب تلک وو ہتھیلی میں ٹھیک تھا پہنچا لبوں پہ لمس تو نس نس بکھر گیا یوں تو دہک رہا تھا وو سورج سا دور سے جو پاس جا کے چھو لیا کیسا سحر ...

مزید پڑھیے

ساحلوں پر اداسی رہی

ساحلوں پر اداسی رہی اک ندی پھر سے پیاسی رہی رات نے نیند پہنی مگر خواب کی بے لباسی رہی حسن وہ کھلکھلاتا رہا عشق پر بد حواسی سی رہی آج پھر کچھ نہ کہہ پیے ہم آج پھر بات باسی رہی کم نہ ہو لمس کی آنچ یہ برف بس اب ذرا سی رہی جسم مندر ہوا سو ہوا روح تو دیو داسی رہی موت پر کس لئے روئیں ...

مزید پڑھیے

بات رک رک کر بڑھی پھر ہچکیوں میں آ گئی

بات رک رک کر بڑھی پھر ہچکیوں میں آ گئی فون پر جو ہو نہ پائی چٹھیوں میں آ گئی صبح دو خاموشیوں کو چائے پیتے دیکھ کر گنگنی سی دھوپ اتری پیالیوں میں آ گئی ٹرین اوجھل ہو گئی اک ہاتھ ہلتا رہ گیا وقت رخصت کی اداسی چوڑیوں میں آ گئی ادھ کھلی رکھی رہی یوں ہی وہ ناول گود میں اٹھ کے پنوں سے ...

مزید پڑھیے

بس گئی ہے رگ رگ میں بام و در کی خاموشی

بس گئی ہے رگ رگ میں بام و در کی خاموشی چیرتی سی جاتی ہے مجھ کو گھر کی خاموشی صبح کے ابھرنے سے شام کے اترنے تک کتنی جان لیوا ہے دوپہر کی خاموشی چل رہی تھی جب میرے گھر کے جلنے کی تفتیش دیکھنے کے قابل تھی شہر بھر کی خاموشی کاٹ لی ہیں تم نے تو ٹہنیاں سبھی لیکن سن سکو جو کہتی ہے چپ شجر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4127 سے 5858