گرجا میں گئے تو پارسائی دیکھی
گرجا میں گئے تو پارسائی دیکھی اور دیر میں جا کے خود نمائی دیکھی جب چھوڑا خودی کو غور کر کے اے شورؔ دیکھا تو ہر اک سمت خدائی دیکھی
گرجا میں گئے تو پارسائی دیکھی اور دیر میں جا کے خود نمائی دیکھی جب چھوڑا خودی کو غور کر کے اے شورؔ دیکھا تو ہر اک سمت خدائی دیکھی
باغی حدود سے بہت آگے نکل گئے سورج چھوا نہ تھا کہ مرے ہاتھ جل گئے یہ حیرتوں کے بیچ میں حیرت زدہ نقوش کیسے تماشبین تھے پتھر میں ڈھل گئے جذبات میں کچھ اس طرح اس کا بدن تھا سرخ زنجیر آہنی کے کڑے ہی پگھل گئے بگلوں سے ان کے روپ بھگت بن کے آئے کچھ مکھی کو یار چھوڑ کے ہاتھی نگل گئے ٹیلے ...
زندگی کو ایک معنی دے گیا وہ مجھے اک رت سہانی دے گیا وہ تو اپنے لمس سے اطراف میں خوشبو جیسے زعفرانی دے گیا سوچ کر جیتے رہے شام و سحر خواب جیسی اک کہانی دے گیا منتشر ہیں دھڑکنوں کے ساز بھی درد میں ایسی روانی دے گیا ٹیس بن کر رہ گیا پہلو میں جو زخم ایسا جاودانی دے گیا چھین کر لب ...
چلو دنیا میں مہکائیں محبت بشر کو آؤ سکھلائیں محبت کریں مسمار دیواریں انا کی زمیں پر مل کے پھیلائیں محبت ہوئی ہے گم کہیں یہ وحشتوں میں چلو اب ڈھونڈ کر لائیں محبت خزاں سی چھا گئی نفرت کی ہر سو چمن میں پھر سے بکھرائیں محبت بہت مشکل سفر ہے عشق یارو کہاں تک سب کو سمجھائیں محبت
وحشتوں کا آج پھر چرچا رہا آج پھر یہ دل مرا ٹھہرا رہا وادیوں میں زندگی مرتی رہی درد آنکھوں سے مرے بہتا رہا پتھروں کے وار وہ سہتے گئے آئنوں کے ساتھ یہ قصہ رہا مسئلے شمع بجھا کر تھک گئے شوق کا سورج مگر جلتا رہا زندگی اپنا سفر کرتی گئی روبرو آنکھوں کے اک چہرہ رہا منتشر تھے ...
اس زندگی نے بخشے جو تحفے عجیب ہیں پگڈنڈیاں ہیں دور تک رستے عجیب ہیں اب کھو چکے خلوص و محبت جہان سے چاہت وفا سے دور ہیں رشتے عجیب ہیں سمجھے نہیں خدارا عجب تیرا فلسفہ خوش رنگ دکھ رہے کیوں وہ ہوتے عجیب ہیں سمجھے بھی کوئی کیسے بتاؤ اسے ذرا اس زندگی کے کتنے ہی چہرے عجیب ہیں رشتوں ...
کیا اب کسی کی آرزو یا جستجو کریں اب خود سے ہی سوال کریں گفتگو کریں کوئی تو کام ایسا کریں زندگی میں ہم کچھ اپنے والدین کو بھی سرخ رو کریں ڈالیں نظر ہم اپنے بھی عیبوں پہ دوستوں جب آئنے کو اپنے کبھی روبرو کریں قدرت کے کارناموں میں ہے کتنی دل کشی لگتا ہے بارشوں میں کہ پتے وضو ...
زیست میں تاریکیاں بڑھتی گئیں لمحہ لمحہ سسکیاں بڑھتی گئیں بے زبان جب ہو گئی یہ زندگی ذہن میں سرگوشیاں بڑھتی گئیں خواہشوں کے پھول مرجھانے لگے پھر مری یہ ہچکیاں بڑھتی گئیں زخم کھا کر مسکراتے ہی رہے دل کی یہ خاموشیاں بڑھتی گئیں سوچتے ہی سوچتے گزرا سفر خواب کی سرمستیاں بڑھتی ...
راحت کا زمانے میں سامان نہیں ملتا انسان کی بستی میں انسان نہیں ملتا کچھ ایسی ہوا بدلی افسوس زمانے کی احسان کے بدلے میں احسان نہیں ملتا اس کار گہ ہستی کا اتنا فسانہ ہے ہو نفس جہاں باقی عرفان نہیں ملتا آئین بہت اچھا دعوے بھی حسیں لیکن الفت کا ہمیں پھر بھی فرمان نہیں ملتا شداد ...
کوئی دیکھے تو سہی یہ ستم آرائی بھی خود تماشا بھی ہوں میں اور تماشائی بھی راز ہے ان کا عجب ان کی یہ یکتائی بھی میں تمنا بھی ہوں اور ان کا تمنائی بھی ہاتھ پھیلاؤں ترے ہوتے میں کس کے آگے اس میں میری ہی نہیں ہے تری رسوائی بھی عقل والوں کی نگاہوں پہ پڑے ہیں پردے پردۂ عشق میں دوری بھی ...