شاعری

وہ چشم ناز اگر خود کو وقف ناز کرے

وہ چشم ناز اگر خود کو وقف ناز کرے ہر اہل قلب و نظر خم سر نیاز کرے گدا کو شاہ تو شہہ کو گدا نواز کرے جسے بھی جس طرح چاہے وہ سرفراز کرے حقیقت بشری کیا ہے قطرۂ ناچیز زباں نہ حد سے زیادہ بشر دراز کرے ترا غلام بصد احترام حاضر ہے تری خوشی ہے اگر اس کو سرفراز کرے خدا ہے قادر مطلق بشر کو ...

مزید پڑھیے

کسی کے نقش پا پر رکھ دیا ہے جب سے سر اپنا

کسی کے نقش پا پر رکھ دیا ہے جب سے سر اپنا نہ دل اپنا نہ جاں اپنی نہ گھر اپنا نہ در اپنا نہ کوئی کارواں اپنا نہ میر کارواں کوئی خیال یار رہتا ہے ہمیشہ راہبر اپنا کہاں باقی ہے اب عقل و خرد سے واسطہ اے دل مرا ذوق نظر خود بن گیا ہے راہبر اپنا نصیحت کرنے والوں کا بھلا ہو کیا وہ سمجھیں ...

مزید پڑھیے

غم عاشقی سے بڑھ کر غم زندگی نہیں ہے

غم عاشقی سے بڑھ کر غم زندگی نہیں ہے میں ترے کرم کے قرباں مجھے کچھ کمی نہیں ہے مرے جان و دل کے مالک مجھے بے نیاز غم کر کسی اور در پہ ہرگز یہ جبیں جھکی نہیں ہے مرے شہر جان و دل میں وہ ضیا بکھیرتے ہیں مرا قلب ہے مجلیٰ یہاں تیرگی نہیں ہے اے امیر شہر شاداں مجھے اپنے پاس رکھنا ترے در سے ...

مزید پڑھیے

رکے ہے آمد و شد میں نفس نہیں چلتا

رکے ہے آمد و شد میں نفس نہیں چلتا یہی ہے حکم الٰہی تو بس نہیں چلتا ہوا کے گھوڑے پہ رہتا ہے وہ سوار مدام کسی کا اس کے برابر فرس نہیں چلتا گزشتہ سال جو دیکھا وہ اب کے سال نہیں زمانہ ایک سا بس ہر برس نہیں چلتا نہیں ہے ٹوٹے کی بوٹی جہان میں پیدا شکستہ جب ہوا تار نفس نہیں چلتا

مزید پڑھیے

یہ فرق جیتے ہی جی تک گدا‌ و شاہ میں ہے

یہ فرق جیتے ہی جی تک گدا‌ و شاہ میں ہے وگرنہ بعد فنا مشت خاک راہ میں ہے نشاں مقام کا غم اور نہ رہنما کوئی غرض کہ سخت اذیت عدم کی راہ میں ہے گدا نے چھوڑ کے دنیا کو نقد‌ دیں پایا بھلا یہ لطف کہاں شہ کے عز و جاہ میں ہے پسند طبع نہیں اپنی چار دن کا ملاپ مزا تو زیست کا اے میری جاں نباہ ...

مزید پڑھیے

پیک خیال بھی ہے عجب کیا جہاں نما

پیک خیال بھی ہے عجب کیا جہاں نما آیا نظر وہ پاس جو اپنے سے دور تھا اس ماہرو پہ آنکھ کسی کی نہ پڑ سکی جلوہ تھا طور کا کہ سراسر وہ نور تھا دیتے نہ دل جو تم کو تو کیوں بنتی جان پر کچھ آپ کی خطا نہ تھی اپنا قصور تھا ذرہ کی طرح خاک میں پامال ہو گئے وہ جن کا آسماں پہ سر پر غرور تھا

مزید پڑھیے
صفحہ 4125 سے 5858