وہ چشم ناز اگر خود کو وقف ناز کرے
وہ چشم ناز اگر خود کو وقف ناز کرے ہر اہل قلب و نظر خم سر نیاز کرے گدا کو شاہ تو شہہ کو گدا نواز کرے جسے بھی جس طرح چاہے وہ سرفراز کرے حقیقت بشری کیا ہے قطرۂ ناچیز زباں نہ حد سے زیادہ بشر دراز کرے ترا غلام بصد احترام حاضر ہے تری خوشی ہے اگر اس کو سرفراز کرے خدا ہے قادر مطلق بشر کو ...