شاعری

کوئی ہے تیر تو کوئی کمان جیسا ہے

کوئی ہے تیر تو کوئی کمان جیسا ہے یہاں یقین بھی سب کا گمان جیسا ہے یہاں پہ آ کے ہمیشہ سکوں ملا ہم کو تمہارا گھر بھی ہمارے مکان جیسا ہے کمال ہے کہ کسی سے وہ کچھ نہیں کہتا زبان ہو کے بھی وہ بے زبان جیسا ہے قدم قدم پہ نیا اک سوال ہے یارو یہ زندگی کا سفر امتحان جیسا ہے ہمارے سر پہ ...

مزید پڑھیے

اونچا اڑنے کا بھی ارمان ابھی باقی ہے

اونچا اڑنے کا بھی ارمان ابھی باقی ہے پر تو کاٹے گئے پر جان ابھی باقی ہے حادثوں سے ابھی ٹوٹا نہیں رشتہ میرا دل میں اٹھتا ہے جو طوفان ابھی باقی ہے تم جو کہتے ہو کہ دنیا کو خریدو گے مگر بک نہیں سکتا جو انسان ابھی باقی ہے ہٹ سکے کیسے برائی کہ اسی دنیا میں شر ابھی زندہ ہے شیطان ابھی ...

مزید پڑھیے

ٹوٹے ہوئے پروں سے پرواز کر رہے ہیں

ٹوٹے ہوئے پروں سے پرواز کر رہے ہیں ہم پھر نئے صفر کا آغاز کر رہے ہیں سچ بولنے لگے ہیں جب سے زباں ملی ہے ہر شخص کا یہاں ہم اعزاز کر رہے ہیں آئینہ پڑھ لیا ہے اس بار ہم سبھی نے خاموش تھے جو کل تک آواز کر رہے ہیں بیزار ہو رہا ہے جس درد سے زمانہ اس درد کو ہم اپنا دم ساز کر رہے ...

مزید پڑھیے

کوئی رہزن نہ اب راہبر چاہئے

کوئی رہزن نہ اب راہبر چاہئے اس سفر میں ہمیں ہم سفر چاہئے دشمنوں کو تو تم جانتے ہو مگر دوستوں کی بھی تھوڑی خبر چاہئے خوب صورت ہے دنیا بہت دوستو دیکھنے کے لئے بس نظر چاہئے لوگ سن لیں گے اور مان بھی جائیں گے بات میں اپنی لیکن اثر چاہئے ہم پڑوسی سے اپنے رہے بے خبر ساری دنیا کی ہم ...

مزید پڑھیے

بجھی بجھی سی نظر میں قرار کس کا ہے

بجھی بجھی سی نظر میں قرار کس کا ہے ہمیں بتا دو تمہیں انتظار کس کا ہے بہت عزیز ہیں تم کو مگر ذرا سوچو وہ جان من ہے تو جان بہار کس کا ہے سنا ہے ہم نے وہ دشمن ہمیں سمجھتا ہے اگر یہ سچ ہے تو یارو وہ یار کس کا ہے وہ ہر کسی کو ہی شک کی نظر سے تکتا ہے پتا کرو کہ اسے اعتبار کس کا ہے ابھی تو ...

مزید پڑھیے

میلا تن تو دھویا جائے میلے من کو دھوئے کون

میلا تن تو دھویا جائے میلے من کو دھوئے کون ہنستا ہے جو سب کے دکھ میں اس کے دکھ میں روئے کون یادیں اس کی باتیں اس کی اس کے ہی اب چرچے ہیں واسطہ ہے جو اس کے دل میں اس کے دل میں ہوئے کون نرم ملائم ہے بستر پر نیند ذرا بھی آئے نہ پتھر کو سرہانے لے کر گہری نیند یہ سوئے کون سب مجھ کو اپنے ...

مزید پڑھیے

چاہتوں کا ذرا اثر بھی ہو

چاہتوں کا ذرا اثر بھی ہو پیار کی آگ اب ادھر بھی ہو روشنی کا پتا کرو یارو رات ہے تو کہیں سحر بھی ہو ان نظاروں سے کچھ نہیں ہوگا کچھ ہماری نئی نظر بھی ہو ان دیواروں میں قید ہو شاید اس خوشی کی ہمیں خبر بھی ہو ہو پتا اب بہاروں کا ہم کو وہ خوشی کا سماں ادھر بھی ہو ہر گھڑی اب شکایتیں ...

مزید پڑھیے

وہ بھی تیری تھی نظر جس نے مجھے شاد کیا

وہ بھی تیری تھی نظر جس نے مجھے شاد کیا یہ بھی ہے تیری نظر جس نے کہ برباد کیا برق کا کام نشیمن کو جلانا ہے مگر اک نشیمن ہے جسے برق نے آباد کیا ایک ٹھوکر نے کبھی بخشی ہے مردے کو حیات ایک ٹھوکر نے کبھی زیست کو برباد کیا اس زباں نے کبھی دشمن کو بنایا اپنا اس زباں نے کبھی احباب کو ...

مزید پڑھیے

وہ انساں جو شکار گردش ایام ہوتا ہے

وہ انساں جو شکار گردش ایام ہوتا ہے بھلا کرتا ہے دنیا کا مگر بدنام ہوتا ہے جو دیکھو غور سے ہر شعر اک الہام ہوتا ہے سبھی اشعار سے ظاہر کوئی پیغام ہوتا ہے دہل جاتے ہیں دل کلیوں کے گلشن تھرتھراتا ہے چمن میں جب کوئی طائر اسیر دام ہوتا ہے خرد حائل ہوا کرتی ہے جب بھی راہ الفت میں جنون ...

مزید پڑھیے

جس میں نہ ہو سکوں نصیب ایسے جہاں کو کیا کروں

جس میں نہ ہو سکوں نصیب ایسے جہاں کو کیا کروں راحت دل نہ ہو جہاں ایسے مکاں کو کیا کروں صبح نسیم کی جگہ باد سموم تند و تیز گل کے بجائے خار ہیں باغ جہاں کو کیا کروں وعدے ہزار ہا کیے رہبر قوم نے مگر وعدہ کوئی وفا نہیں ایسی زباں کو کیا کروں طوطیٔ گل ادا نہیں بلبل خوش نوا نہیں کرگس و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4124 سے 5858