شاعری

انداز فکر اہل جہاں کا جدا رہا

انداز فکر اہل جہاں کا جدا رہا وہ مجھ سے خوش رہے تو زمانہ خفا رہا عالم حیات کا نہ کبھی ایک سا رہا دنیا میں زندگی کا تماشا بنا رہا تھا ہر قدم پہ اپنے عزائم کا امتحاں ہر گام حادثات کا محشر بپا رہا پھولوں کی عہد گل میں تجارت تو خوب کی پوچھے کوئی کہ دامن گلچیں میں کیا رہا بار گراں ...

مزید پڑھیے

آئیے اے جان عالم آئیے

آئیے اے جان عالم آئیے اپنے بندے پر کرم فرمائیے عید آئی اور گیا ماہ صیام چاند سا منہ آپ تو دکھلائیے سال بھر گزرا امید وصل میں عید کا دن ہے گلے لگ جائیے اک گھڑی بھی بیٹھنا دوبھر ہوا دل کو سمجھا لیں گے اچھا جائیے وصل کی کہتا ہوں جب گوہرؔ سے میں ہنس کے کہتے ہیں کہ منہ بنوایئے

مزید پڑھیے

وہ ایسے پیش آیا مجھ سے جیسے جانتا نہیں

وہ ایسے پیش آیا مجھ سے جیسے جانتا نہیں اگرچہ نام اس کا میں کبھی بھی بھولتا نہیں یہ دل بھی ہے کے اس کی بے وفائی مانتا نہیں مگر سوائے اس کے اب کسی سے رابطہ نہیں وہ جادوگر ہے لفظوں کا تو اس سے دور رہنا سیکھ اس آدمی کے بارے میں ابھی تو جانتا نہیں مقدر اپنا گر بچھڑنا ہی ہوا تو ٹھیک ...

مزید پڑھیے

یہ بے خیالی کا منظر دکھائی دیتا ہے

یہ بے خیالی کا منظر دکھائی دیتا ہے کے بولتا نہیں کچھ پر سنائی دیتا ہے وہ تیرگی ہے نہ کچھ بھی دکھائی دیتا ہے بس ایک ماں کا ہی چہرہ دکھائی دیتا ہے یہ شہر خواب میں ریزہ ہوئے سبھی سپنے نہ واپسی کا وہ رستا دکھائی دیتا ہے یہ شب تو کہنے کو تاریک ہے بہت لیکن امید کا اک اجالا دکھائی دیتا ...

مزید پڑھیے

ساری دنیا میں ہے کس طرح کا منظر یارا

ساری دنیا میں ہے کس طرح کا منظر یارا اپنے ہی گھر میں ہے ہر آدمی ڈر کر یارا ایک بے چینی سی ہے قلب کے اندر یارا میری تنہائی ہے اب بزم سے بڑھ کر یارا پیار کب رہتا ہے بندش میں ٹھہر کر یارا بڑھتا ہی جاتا ہے یہ حد سے گزر کر یارا اس کی آنکھوں کی خماری کی قسم ہے ہم کو ڈوبے اک بار جو نکلے ...

مزید پڑھیے

لمبا رستا ننگے پاؤں (ردیف .. و)

لمبا رستا ننگے پاؤں جانا ہے پر اپنے گاؤں شہر بڑا ظالم ہے یار بلا رہی پیپل کی چھانو کیوں اتنے مجبور ہوئے کس نے کھیلا ایسا داؤں اونچی لمبی بلڈنگ سے بہتر ہے کاغذ کی ناؤ رکنا مت بس چلنا ہے چاہے پیروں میں ہو گھاؤ

مزید پڑھیے

اس کا لہجہ ایسا جیسے ماچس کی اک تیلی سی (ردیف .. *)

اس کا لہجہ ایسا جیسے ماچس کی اک تیلی سی دل پہ سیدھے لگ جاتی ہے اس کی بات نکیلی سی سوکھے سوکھے لب ہیں اس کے اس کی پلکیں گیلی سی جانے کیسا درد ملا ہے آنکھیں ہیں پتھریلی سی عریانی کا رقص ہے جاری بس ایک بٹن دباتے ہی نسل نو دیکھے جاتی ہے فلمیں نیلی نیلی سی اس رستے پہ چلنا بے حد مشکل ...

مزید پڑھیے

موسم لا جواب آیا ہے

موسم لا جواب آیا ہے میرے خط کا جواب آیا ہے کھو نہ دیں ہوش دیکھنے والے اس پہ ایسا شباب آیا ہے شہر احساس کتنا ویراں ہے دور ایسا خراب آیا ہے شام تنہائی اب کٹے گی کیا میری آنکھوں میں خواب آیا ہے میری آنکھیں بھی جھک گئیں آخر اس کے رخ پر حجاب آیا ہے منہ سے غازیؔ نہ تم کہو لیکن دل کسی ...

مزید پڑھیے

سانپ! آ کاٹ مجھے

سانپ! آ کاٹ مجھے ایڑی پر میں تجھے دانۂ گندم کی قسم دیتا ہوں شہر کے اونچے مکانوں پہ چمکتا سورج مجھ سے کہتا ہے کہ تو ننگا ہے اور مری روح مجھے کہتی ہے جسم کو ڈھانک مری شہر میں تذلیل نہ کر مجھ کو احساس ہے میں ننگا ہوں صبح کے نور کے مانند مجھے کوئی ملبوس ازل سے نہ ملا سبز پتوں نے سہارا نہ ...

مزید پڑھیے

بے چہرگیٔ عمر خجالت بھی بہت ہے

بے چہرگیٔ عمر خجالت بھی بہت ہے اس دشت میں گرداب کی صورت بھی بہت ہے آنکھیں جو لیے پھرتا ہوں اے خواب مسلسل میرے لیے یہ کار اذیت بھی بہت ہے تم زاد سفر اتنا اٹھاؤ گے کہاں تک اسباب میں اک رنج مسافت بھی بہت ہے دو سانس بھی ہو جائیں بہم حبس بدن میں اے عمر رواں اتنی کرامت بھی بہت ہے کچھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4122 سے 5858