انداز فکر اہل جہاں کا جدا رہا
انداز فکر اہل جہاں کا جدا رہا وہ مجھ سے خوش رہے تو زمانہ خفا رہا عالم حیات کا نہ کبھی ایک سا رہا دنیا میں زندگی کا تماشا بنا رہا تھا ہر قدم پہ اپنے عزائم کا امتحاں ہر گام حادثات کا محشر بپا رہا پھولوں کی عہد گل میں تجارت تو خوب کی پوچھے کوئی کہ دامن گلچیں میں کیا رہا بار گراں ...