شاعری

نہ ہوتے شاد آئین گلستاں دیکھنے والے

نہ ہوتے شاد آئین گلستاں دیکھنے والے فسانہ بھی اگر پڑھ لیتے عنواں دیکھنے والے ہلاکت خیز ایجادوں پہ دنیا فخر کرتی ہے کہاں ہیں ارتقائے نوع انساں دیکھنے والے جو ممکن ہو تم اپنے ہاتھ کی ریکھا کھرچ ڈالو کہ ہم ہیں تو سہی خواب پریشاں دیکھنے والے یہ رخنے ہیں یہ در ہیں یہ ترے اجداد کے ...

مزید پڑھیے

سب کچھ تو زندگی کی متاع سفر میں ہے

سب کچھ تو زندگی کی متاع سفر میں ہے جب تم نظر میں ہو تو زمانہ نظر میں ہے یوں بھی تو سوچ ناز کش حسن دوستاں تیرا بھی کچھ مقام کسی کی نظر میں ہے پڑھ لیتے ہیں وہ سب کی نظر سے دلوں کا حال اندر سے کون کیا ہے سب ان کی نظر میں ہے کیوں ہو رہا ہے تجزیۂ جور ناروا تصویر کا یہ رخ بھی کسی کی نظر ...

مزید پڑھیے

وہ یقیں پیکر ہے کس کا نور دیدہ کون ہے

وہ یقیں پیکر ہے کس کا نور دیدہ کون ہے ظلمت شب میں چراغ آسا دمیدہ کون ہے گرد جادہ کون ہے منزل رسیدہ کون ہے وقت کیا کہتا ہے سنئے برگزیدہ کون ہے زہر غم پی جز و جاں کر پھر بھی موت آئے تو کیا یوں بھی امرت کا یہاں لذت چشیدہ کون ہے فرش سے تا عرش یکساں ہے صدائے مرحبا دیکھنا یہ سر بکف یہ ...

مزید پڑھیے

حصار کاسۂ سر توڑ کر نکل آئے

حصار کاسۂ سر توڑ کر نکل آئے طلب ہوئی تھی تو سجدوں کے پر نکل آئے ہر اک ضمیر سے پردہ اٹھا گئے پتھر کسی کے عیب کسی کے ہنر نکل آئے سنور سنور کے مشیت سنوارتی ہے جنہیں ادھر تو کوئی نہیں ہم کدھر نکل آئے مرا خروش جنوں جب بھی رنگ پاش ہوا مری طرف نگراں کتنے در نکل آئے کہاں ہے ہولی جو ...

مزید پڑھیے

غرور جلوۂ عرفاں ہے دیکھیے کیا ہو

غرور جلوۂ عرفاں ہے دیکھیے کیا ہو بڑے اندھیرے میں انساں ہے دیکھیے کیا ہو چلے ہیں توڑنے زنداں کو چند دیوانے سوال عظمت زنداں ہے دیکھیے کیا ہو قریب شادیٔ مرگ آ چلا ہے دیوانہ نقاب سلسلہ جنباں ہے دیکھیے کیا ہو صداقتیں بھی ہیں اب اتہام کی زد پر بشر بشر سے گریزاں ہے دیکھیے کیا ...

مزید پڑھیے

جو مثل تیر چلا تھا کمان سا خم ہے

جو مثل تیر چلا تھا کمان سا خم ہے نگاہ دوست میں تاثیر اسم اعظم ہے خوشا کہ وہ ہیں مرے رو بہ رو بہ نفس نفیس زہے کہ آج مری آرزو مجسم ہے محیط حسن کراں تا کراں نہیں نہ سہی بساط شیشۂ دل جس قدر ہے تاہم ہے انا پسند انا کے نشے میں بھول گئے یہ شہد وہ ہے کہ جس کے خمیر میں سم ہے ہوا سے کرتا ہے ...

مزید پڑھیے

تمہارا دل تو ہمارے سبھاؤ جیسا ہے

تمہارا دل تو ہمارے سبھاؤ جیسا ہے ہٹا کے چہرے سے چہرہ دکھاؤ جیسا ہے وہ چوکتا ہی نہیں جس پہ داؤ جیسا ہے ہمیں خبر ہے وہاں رکھ رکھاؤ جیسا ہے مجھے دھکیل کر اس کا ضمیر جاگ اٹھا اب اس کا حال بھی طوفاں میں ناؤ جیسا ہے تو کیا وہ دست مشیت کا شاہکار نہیں پرانا یار ہے یارو نبھاؤ جیسا ...

مزید پڑھیے

منتشر شہزاد گان دل کا شیرازہ نہ ہو

منتشر شہزاد گان دل کا شیرازہ نہ ہو کاش یاروں کی ہنسی فتنوں کا غمازہ نہ ہو اب وہ سونے کا سہی لیکن مرے کس کام کا جس مکاں میں کوئی کھڑکی کوئی کوئی دروازہ نہ ہو وہ جواں خون اور اس پر نشہ دیدہ وری کیا کریں وہ بھی جو میرے غم کا اندازہ نہ ہو یاد ہے کچھ تم نے کل خاکہ اڑایا تھا مرا پھول سی ...

مزید پڑھیے

کوئی ہم راہ نہیں راہ کی مشکل کے سوا

کوئی ہم راہ نہیں راہ کی مشکل کے سوا حاصل عمر بھی کیا ہے غم حاصل کے سوا ایک سناٹا مسلط تھا گزر گاہوں پر زندگی تھی بھی کہاں کوچۂ قاتل کے سوا ہر قدم حادثے ہر گام مراحل تھے یہاں اپنے قدموں میں ہر اک شے رہی منزل کے سوا تھا مثالی جو زمانے میں سمندر کا سکوت کون طوفان اٹھاتا رہا ساحل کے ...

مزید پڑھیے

آپ اپنے کو معتبر کر لیں

آپ اپنے کو معتبر کر لیں ملنے والوں کے دل میں گھر کر لیں زندگانی کے دن جو تھوڑے ہیں کیوں نہ ہنس بول کر بسر کر لیں چن رہے ہیں جو عیب اوروں کے اپنے دامن پہ بھی نظر کر لیں کون دیتا ہے ساتھ مشکل میں حوصلوں ہی کو ہم سفر کر لیں چاہئے کچھ سکون دنیا میں خواہشیں اپنی مختصر کر لیں بات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4121 سے 5858