نہ ہوتے شاد آئین گلستاں دیکھنے والے
نہ ہوتے شاد آئین گلستاں دیکھنے والے فسانہ بھی اگر پڑھ لیتے عنواں دیکھنے والے ہلاکت خیز ایجادوں پہ دنیا فخر کرتی ہے کہاں ہیں ارتقائے نوع انساں دیکھنے والے جو ممکن ہو تم اپنے ہاتھ کی ریکھا کھرچ ڈالو کہ ہم ہیں تو سہی خواب پریشاں دیکھنے والے یہ رخنے ہیں یہ در ہیں یہ ترے اجداد کے ...