شاعری

جور بے جا کو جو کہتے ہو بجا ہے وہ بھی

جور بے جا کو جو کہتے ہو بجا ہے وہ بھی دست قاتل پہ لہو ہے کہ حنا ہے وہ بھی لوگ خوش ہیں اسے دے دے کے عبادت کا فریب وہ مگر خوب سمجھتا ہے خدا ہے وہ بھی آج بس آج ہے کیا ذکر گذشتہ کل کا لاکھ سونا سہی مٹی میں دبا ہے وہ بھی تم جسے جبر و ستم قہر و غضب کہتے ہو اپنے اعمال کی دراصل سزا ہے وہ ...

مزید پڑھیے

خواہشیں اپنی سرابوں میں نہ رکھے کوئی

خواہشیں اپنی سرابوں میں نہ رکھے کوئی ان ہواؤں کو حبابوں میں نہ رکھے کوئی چند لمحوں کا یہ جینا ہے غنیمت جانو زندگی اپنی عذابوں میں نہ رکھے کوئی آج ہر فرد ہے اک حسرت تعبیر لیے اب خیالات کو خوابوں میں نہ رکھے کوئی کام تحقیق کے عنواں پہ بڑھے گا کیسے گر سوالوں کو جوابوں میں نہ رکھے ...

مزید پڑھیے

تشنہ لب ہوں اداس بیٹھا ہوں

تشنہ لب ہوں اداس بیٹھا ہوں میں سمندر کے پاس بیٹھا ہوں وہ نگاہیں چرائے بیٹھے ہیں میں سراپا سپاس بیٹھا ہوں میں بھی کیا قاتلوں کی بستی میں لے کے جینے کی آس بیٹھا ہوں آپ کیا ظرف آزماتے ہیں پی کے برسوں کی پیاس بیٹھا ہوں اک مکمل کتاب تھا پہلے ہو کے اب اقتباس بیٹھا ہوں آخری دن ہیں ...

مزید پڑھیے

آئنہ ہوں ایک حیرانی مرے چاروں طرف

آئنہ ہوں ایک حیرانی مرے چاروں طرف لمحہ لمحہ حشر سامانی مرے چاروں طرف بحر عصیاں میں گھرا ننھے جزیرے سا وہ میں اور پھر حد نظر پانی مرے چاروں طرف جرم ہے معصومیت معتوب ہے دیوانگی ہے خرد مندوں کی نادانی مرے چاروں طرف وقفے وقفے سے یہاں اٹھنے لگے ہیں گرد باد ہر طرف ماحول طوفانی مرے ...

مزید پڑھیے

آدمی کی حیات مٹھی بھر

آدمی کی حیات مٹھی بھر یعنی کل کائنات مٹھی بھر ہاتھ بھر کا ہے دن بچھڑنے کا اور ملنے کی رات مٹھی بھر کیا کرو گے سمیٹ کر دنیا ہے جو دنیا کا ساتھ مٹھی بھر کر گیا کشت آرزو شاداب آپ کا التفات مٹھی بھر اور ملنا بھی کیا سرابوں سے ریت آئے گی ہاتھ مٹھی بھر حوصلہ یوں نہ ہارتے اعجازؔ ہو ...

مزید پڑھیے

پرندہ حد نظر تک جو آسمان میں ہے

پرندہ حد نظر تک جو آسمان میں ہے پروں میں زور کہاں حوصلہ اڑان میں ہے ابھی سے بھیگ رہا ہے ہدف پسینے میں کہ تیر چھوٹا نہیں ہے ابھی کمان میں ہے گرے گی کون سی چھت پہ یہ کب کسے معلوم کٹی پتنگ ہواؤں کے امتحان میں ہے سکون قلب کو محلوں میں ڈھونڈنے والو سکون قلب فقیروں کے خاندان میں ...

مزید پڑھیے

تیر جیسے کمان سے نکلا

تیر جیسے کمان سے نکلا حرف حق تھا زبان سے نکلا قید ہستی سے چھوٹنے والا وقت کے امتحان سے نکلا ٹک نہ پایا ہوا کے جھونکوں میں پر شکستہ اڑان سے نکلا شیر آیا کچھار سے باہر اور شعلہ مچان سے نکلا غم وہ کانٹا کہ آخری دم تک دل کو چھوڑا نہ جان سے نکلا جب اجل جھانکتی پھری گھر گھر کون زندہ ...

مزید پڑھیے

تمہیں خبر بھی ہے یہ تم نے کس سے کیا مانگا

تمہیں خبر بھی ہے یہ تم نے کس سے کیا مانگا بھنور میں ڈوبنے والوں سے آسرا مانگا سنے جو میرے عزائم تو آزمانے کو ہوا سے برق نے گھر کا مرے پتا مانگا خود اپنی راہ بناتا گیا پہاڑوں میں کبھی کہاں کسی دریا نے راستا مانگا جو آپ اپنے اندھیروں سے بد حواس ہوئی شب سیاہ نے گھبرا کے اک دیا ...

مزید پڑھیے

اب تو خود سے بھی کچھ ایسا ہے بشر کا رشتہ

اب تو خود سے بھی کچھ ایسا ہے بشر کا رشتہ جیسے پرواز سے ٹوٹے ہوئے پر کا رشتہ کوئی کھڑکی بھی نہیں اب تو جو باقی رکھتی میرے گھر سے مرے ہم سایے کے گھر کا رشتہ تم فرشتے ہی سہی نظریں نہ بدلو یارو کیا فرشتوں سے نہیں کوئی بشر کا رشتہ موڑ آنے دو ابھی سامنے آ جائے گا کیا ہے آپس میں شریکان ...

مزید پڑھیے

غرور ناز دکھا تجھ میں کتنا جوہر ہے

غرور ناز دکھا تجھ میں کتنا جوہر ہے مرا خلوص بھی دریا نہیں سمندر ہے پرکھ یہی ہے محبت کی آنچ دو اس کو پگھل گیا تو وہ شیشہ ہے ورنہ پتھر ہے خلا نورد کو یارو فراز منزل کیا کہ اب تو اس کا ہر اک پر بجائے شہ پر ہے عداوتوں کو فنا کر دیا محبت سے مجاہدے میں محبت ہی اپنا خنجر ہے ثبوت بیعت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4120 سے 5858