شاعری

کشمکش

آج کے دن جو اپنے ڈر کا اظہار کیا تو کہ میں تو اپنا لوں اسے موت نے انکار کیا تو وہ کچی سی عمر وہ پکا سا حادثہ اک کانچ کا محل آج سنگسار کیا تو اک روپ باہر اک ہے پیچھے اور اک ان کے بیچ میں نے غلط سے پیار کیا تو دل پر رکھ پتھر یا ہو پتھر دل ہو بہ ہو ان کی طرح ان پے وار کیا تو کہ رکتی ہیں ...

مزید پڑھیے

چھوڑ دے

کوئی آئے نہ آئے تو آس لگانا چھوڑ دے بہنے نہ لگے اشک آنکھوں سے تیری دل سے آنکھوں کا رشتہ نبھانا چھوڑ دے دوڑے جاتی ہے مسکراتے اک دستک پر وہ محبت ہے اداس ہو در سے اسے واپس موڑ دے بن جا بے جان اک زندہ لاش اکیلے بیٹھ اور کمبخت سوچنا چھوڑ دے حال تجھ سے دیکھا نہیں جاتا تو نہ دیکھ پتھر ...

مزید پڑھیے

سر پھری تند ہوا ہم بھی نہیں تم بھی نہیں

سر پھری تند ہوا ہم بھی نہیں تم بھی نہیں ملک دشمن بخدا ہم بھی نہیں تم بھی نہیں بزم عالم میں سدا ہم بھی نہیں تم بھی نہیں منکر روز جزا ہم بھی نہیں تم بھی نہیں کس کے ایما پہ ہے یہ خون خرابہ یہ فساد قائل جور و جفا ہم بھی نہیں تم بھی نہیں جان آپس کی برائی میں گنوا دیں اپنی اس قدر خود سے ...

مزید پڑھیے

مسرت کی فراوانی کے دن ہیں

مسرت کی فراوانی کے دن ہیں محبت کی جہاں بانی کے دن ہیں تمناؤں کی شادابی کا موسم یہ ارمانوں کی جولانی کے دن ہیں ہے کلیوں کے تبسم کا زمانہ گلوں کی چاک دامانی کے دن ہیں مناظر میں ہے رنگینی غضب کی نظر کی شوق سامانی کے دن ہیں اٹھے ہیں چار سو بادل خوشی کے حسیں جذبوں کی طغیانی کے دن ...

مزید پڑھیے

بزم عالم میں سدا ہم بھی نہیں تم بھی نہیں

بزم عالم میں سدا ہم بھی نہیں تم بھی نہیں منکر روز جزا تم بھی نہیں ہم بھی نہیں سر پھری تند ہوا ہم بھی نہیں تم بھی نہیں ملک دشمن بخدا ہم بھی نہیں تم بھی نہیں کس کے ایما پہ ہے یہ خون خرابہ یہ فساد قائل جور و جفا ہم بھی نہیں تم بھی نہیں جان آپس کی برائی میں گنوا دیں اپنی اس قدر خود سے ...

مزید پڑھیے

ادھوری ناشنیدہ داستاں ہوں

ادھوری ناشنیدہ داستاں ہوں کہ شاید میں سماعت پر گراں ہوں خیالوں میں بھی کچھ واضح نہیں ہے یقیں کی گود میں پلتا گماں ہوں لب اظہار چپ ہے میری خاطر ابھی ہاں اور نہیں کے درمیاں ہوں بلندی پر ہوا لے جا رہی ہے چراغ جسم سے اٹھتا دھواں ہوں کشش بازار کی روکے ہوئے ہے ابھی میں اپنے گھر ...

مزید پڑھیے

قلب و نظر کے سلسلے میری نگاہ میں رہے

قلب و نظر کے سلسلے میری نگاہ میں رہے مجھ سے قریب تر نہ تھے جو تری چاہ میں رہے قہر خدا کی زد پہ کیوں آ نہ سکے سیاہ کار کس کی سپردگی میں تھے کس کی پناہ میں رہے صورت حال دیکھ کر سب کو ہے فکر یہ کہ اب جسم اماں میں ہو نہ ہو کج تو کلاہ میں رہے دار و رسن کے فیصلے سچ کے امین ہوں اگر تھوڑی سی ...

مزید پڑھیے

زمیں کی حد اگر کوئی نہیں ہے

زمیں کی حد اگر کوئی نہیں ہے تو پھر میرا بھی گھر کوئی نہیں ہے قفس میں بند ہے پرواز میری امید بال و پر کوئی نہیں ہے ہنر ان کو سکھاتا پھر رہا ہوں مگر خود میں ہنر کوئی نہیں ہے خبر اخبار میں آئے نہ آئے خبر سے بے خبر کوئی نہیں ہے یہاں تو بس پڑاؤ ہے ہمارا ہمارا اپنا گھر کوئی نہیں ...

مزید پڑھیے

دل اگر مائل عتاب نہ ہو

دل اگر مائل عتاب نہ ہو درد کا درد پھر جواب نہ ہو ایسی کروٹ بھی کوئی کروٹ ہے جس کے پہلو میں انقلاب نہ ہو کیوں چمک اٹھا آج مے خانہ تیرے ساغر میں آفتاب نہ ہو بحر ہستی میں نا خدائے جہاں زندگی صورت حباب نہ ہو دل سے کوشش کرے اگر انساں غیر ممکن ہے کامیاب نہ ہو کیوں پریشان رہتا ہے ...

مزید پڑھیے

انتظار دید میں یوں آنکھ پتھرائی کہ بس

انتظار دید میں یوں آنکھ پتھرائی کہ بس مرتے مرتے وہ ہوئی عالم میں رسوائی کہ بس دیکھ کر شبنم کی حالت ہنس پڑی نو رس‌‌ کلی دو گھڑی پتوں پہ رہ کر اتنا اترائی کہ بس دل کی دھڑکن بڑھ گئی آنکھوں میں آنسو آ گئے اک ذرا سی بات پر اتنی ہنسی آئی کہ بس موت کو بھی مرنے والے پر ترس آ ہی گیا اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4118 سے 5858