شاعری

دوست بن کر آئے کوئی اور گلے ہنس کر لگے

دوست بن کر آئے کوئی اور گلے ہنس کر لگے ایک عرصہ ہو گیا ہے پیٹھ میں خنجر لگے کس قدر بے چین رہتا ہوں کہ مجھ بیمار کو دور سے آتا ہوا ہر شخص چارہ گر لگے ایک مدت کا میں جاگا اس بھرم میں سو گیا کیا پتہ مجھ کو یہ دنیا خواب میں بہتر لگے قبل تو میرا یہ رونا تھا کوئی نزدیک ہو اب یہ عالم ہے ...

مزید پڑھیے

اس سے پہلے کہ سہاروں کو تو عادت کر لے

اس سے پہلے کہ سہاروں کو تو عادت کر لے دل بغیر اس کے سنبھلنے کی بھی ہمت کر لے فن یکجائی کا ماہر کوئی آئے تب تک ہے کوئی جو مرے ٹکڑوں کی حفاظت کر لے کتنا سادہ ہے تو اس میں بھی رضا چاہتا ہے مجھ کو برباد کرے گا ہے اجازت کر لے نیند نے مان لیا جو مری آنکھوں کے خلاف تیرے خوابوں نے کہا تھا ...

مزید پڑھیے

ایسے حال میں اب تم میرے خیال میں آتے ہو کیسے

ایسے حال میں اب تم میرے خیال میں آتے ہو کیسے اکھڑے اکھڑے سے شب کو تھکے حال میں آتے ہو کیسے آتے ہو تم آدھے ادھورے کیسے مری جانب بولو پورے کے پورے جان تمنا وصال میں آتے ہو کیسے ملتے نہیں ہیں جواب مجھے اے دوست نہ جانے کیوں تم سے اور پھر میں یہ سوچتی ہوں کہ سوال میں آتے ہو کیسے مجھ ...

مزید پڑھیے

زندگی میں اور کوئی تو مری حسرت نہیں

زندگی میں اور کوئی تو مری حسرت نہیں وقت تیرا چاہتی ہوں بس تری فرصت نہیں پاک کیا رہنے دیا ہے اس جہاں نے اب بتا جسم سے مطلب اسے ہے روح سے رغبت نہیں راہ میں پتھر ہزاروں وہ کریں تو کیا کریں روکنا ان کا کرم رکنا مری فطرت نہیں اک اذیت میں سلگتی جا رہی ہوں در بہ در اور مجھے اس آگ کی ...

مزید پڑھیے

اسے اپنا بنا کر دیکھنا ہے

اسے اپنا بنا کر دیکھنا ہے یہ جوکھم بھی اٹھا کر دیکھنا ہے کریں باتیں دلوں کی ہم دو جاناں جہاں سارا بھلا کر دیکھنا ہے کہ لفظوں کو بنانا ہے ستارے کتابوں کو سجا کر دیکھنا ہے سر محفل کریں جو دل فریبی اب ان کو آزما کر دیکھنا ہے اندھیروں سے نبھانا ہے مجھے اب چراغوں کو بجھا کر دیکھنا ...

مزید پڑھیے

دل گیا سانسوں کا اب غم کیا کریں

دل گیا سانسوں کا اب غم کیا کریں تم بتاؤ جاں کہ اب ہم کیا کریں پھول ہے اس کو تو مرجھانا ہی ہے مرتے مرتے خوشبوئیں کم کیا کریں دیکھ کر یہ زلف بادل تو بتا گر نہ برسیں یہ جھما جھم کیا کریں حکمتیں کر تھک چکے سب ہی یہاں عشق سے ہارے وہ ہمدم کیا کریں خامشی میں ہی بھلائی ہے میاں سرپھروں ...

مزید پڑھیے

قدم

چلے چلے جاتے ہیں قدم نظریں ملیں رک جاتے ہیں قدم منزل نا دکھے مڑ جاتے ہیں قدم منزل جو دکھے جڑ جاتے ہیں قدم سفر کرتے پیہم تھک جاتے ہیں قدم کچھ نوکیلا چبھ جائے رو جاتے ہیں قدم اس کے پاس آنے سے پیچھے جاتے ہیں قدم شرم کیوں اتنی کر جاتے ہیں قدم دیکھ بیٹھ یہاں سے کہاں جاتے ہیں قدم واپس ...

مزید پڑھیے

تبدیلی

کسی نے کہا کیسی پتھر دل ہے تو کیا یہ کب ہوا نہیں تو اس دل پر کچھ لگے چیخ اٹھتا ہے روتا ہے خون بہاتا ہے یقیناً پتھر تو ایسا نہیں کرتا یا پتھر کی طبیعت میں بھی بدلاؤ آیا ہے بدلاؤ اس موسم کی طرح بدلاؤ اس کی باتوں کی طرح بدلاؤ اس مقفل پڑے گھر کی طرح جو کبھی جھومتا تھا اک پریوار کے ...

مزید پڑھیے

کوئی بات نہیں

درد لکھا ہے اچھا لکھا ہے دل پر جو بیتی وہ کوئی بات نہیں ٹوٹ کر لکھنے لگی اچھا لکھنے لگی محبت ہے مجھ سے وہ کوئی بات نہیں خوش ہوں میں یہ کیا لکھا ہے لکھا ہے رو کر وہ کوئی بات نہیں آباد ہوں میں یہ کیا لکھا ہے ہاں لکھا برباد ہو کر وہ کوئی بات نہیں چلتے چلتے تھک گئی اچھا لکھا ہے پیہم ...

مزید پڑھیے

صدائے دل

سچا جھوٹھا جھوٹھا سچا وعدہ اک نادان کا ہے جلتے جلتے راکھ ہوا میرا مکاں امکان سا ہے پتے ٹہنی شجر جو ٹوٹے مسئلہ یہ طوفان کا ہے ریت ریت بن اڑتا جائے وہ جو کہے چٹان سا ہے ندی پرندے عنبر بولے سننا اس کی زبان کا ہے سنا میں نے دو بار سنا تیسرا اک گمان سا ہے کھیل نفرت کا ٹھیک نہیں وہ تیرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4117 سے 5858