شاعری

سر کیا زلف کی شب کو تو سحر تک پہنچے

سر کیا زلف کی شب کو تو سحر تک پہنچے ورنہ ہم لوگ کہاں حسن نظر تک پہنچے آج پلکوں پہ مری جشن چراغاں ہوگا کتنے انمول گہر دیدۂ تر تک پہنچے میری راتوں کا اندھیرا بھی دعائیں دے گا اک ستارہ جو اتر کر مرے گھر تک پہنچے کون کہتا ہے کہ خورشید اتر کر آئے ایک جگنو ہی مگر خاک بسر تک پہنچے جو ...

مزید پڑھیے

طوفاں بدل گئے کبھی دھارے بدل گئے

طوفاں بدل گئے کبھی دھارے بدل گئے موجوں کے ساتھ ساتھ کنارے بدل گئے غم ہائے زندگی کے سہارے بدل گئے مستی بھری نظر کے اشارے بدل گئے طاری فضائے کیف پہ بے کیفیاں سی تھیں اٹھی جو وہ نظر تو نظارے بدل گئے اس واردات خاص کا کس سے کروں گلہ بدلے ہیں جب سے آپ ستارے بدل گئے ٹھنڈی ہوئی نہ اشک ...

مزید پڑھیے

افسانۂ حیات کو دہرا رہے ہیں ہم

افسانۂ حیات کو دہرا رہے ہیں ہم اپنے کئے کی آپ سزا پا رہے ہیں ہم اے چشم یار تیری نگاہوں کا شکریہ اب زندگی و موت کو بہلا رہے ہیں ہم چھیڑا تھا ہم نے ذکر کسی بزم ناز کا کہنے لگے وہ ہنس کے چلو آ رہے ہیں ہم یہ رہ گزر ہے کون سی کچھ سوجھتا نہیں اے بے خودی بتا کہ کہاں جا رہے ہیں ہم چھیڑا ...

مزید پڑھیے

اپنا تمہیں جو کہہ اٹھے دیوانہ وار ہم

اپنا تمہیں جو کہہ اٹھے دیوانہ وار ہم کچھ بے قرار آپ تھے کچھ بے قرار ہم قائم ہیں پھول خار سے گلشن کی رونقیں حسن بہار آپ ہیں درد بہار ہم دنیائے حسن و عشق کے اسرار کھل گئے اپنے الم کے جب سے ہوئے رازدار ہم اڑتی ہے خاک جیسے ہواؤں کے ساتھ ساتھ پہنچے ہیں منزلوں پہ یوں مثل غبار ہم پر ...

مزید پڑھیے

آرزو محو خواب ہے شاید

آرزو محو خواب ہے شاید جستجو کا جواب ہے شاید زخم دل کی بہار کیا کہئے مسکراتا گلاب ہے شاید اک نئی تشنگی بہ ہر لمحہ ساری دنیا سراب ہے شاید عہد ماضی پہ جب نظر ڈالی اک ادھوری کتاب ہے شاید کوئی جیتا ہے کوئی مرتا ہے زندگانی حباب ہے شاید روشنیؔ اس غزل کی سرمستی اس غزل کی شراب ہے ...

مزید پڑھیے

کہتے نہیں ہیں حال کسی راز داں سے ہم

کہتے نہیں ہیں حال کسی راز داں سے ہم واقف ہوئے ہیں جب سے فریب جہاں سے ہم آئے گی پھر نہ صحن‌ چمن میں کبھی بہار اٹھ کر چلے گئے جو کہیں گلستاں سے ہم منزل تمام عمر ہمیں ڈھونڈھتی رہی شاید بچھڑ گئے تھے رہ کارواں سے ہم گردش نے جس کی ہم کو فسانہ بنا دیا ٹکرائے بار بار اسی آسماں سے ...

مزید پڑھیے

عجب انقلاب کا دور ہے کہ ہر ایک سمت فشار ہے

عجب انقلاب کا دور ہے کہ ہر ایک سمت فشار ہے نہ کہیں خرد کو سکون ہے نہ کہیں جنوں کو قرار ہے کہیں گرم بزم حبیب ہے کہیں سرد محفل یار ہے کہیں ابتدائے سرور ہے کہیں انتہائے خمار ہے مرا دل ہے سینے میں روشنی اسی روشنی پہ مدار ہے میں مسافر رہ عشق ہوں تو یہ شمع راہ گزار ہے جسے کہتے ہیں تری ...

مزید پڑھیے

تسلی کو ہماری باغباں کچھ اور کہتا ہے

تسلی کو ہماری باغباں کچھ اور کہتا ہے گلستاں سے مگر اڑتا دھواں کچھ اور کہتا ہے بہم کچھ سازشیں پھر ہو رہی ہیں برق و باراں میں ہر اک طائر سے لیکن آشیاں کچھ اور کہتا ہے سمجھتے ہیں خدا معلوم کیا کچھ کارواں والے زباں میں اپنی میر کارواں کچھ اور کہتا ہے نہ پھولو اس طرح سے نغمۂ مرغ خوش ...

مزید پڑھیے

جلوۂ حسن اگر زینت کاشانہ بنے

جلوۂ حسن اگر زینت کاشانہ بنے دسترس شمع کو حاصل ہو تو پروانہ بنے دل نہ ہشیار رہے اور نہ دیوانہ بنے یہ تمنا ہے کہ خاک در جانانہ بنے حسن اے حسن یہ ہے تیری کرشمہ سازی کعبہ بن جائے کہیں اور کہیں بت خانہ بنے ہوش اور کشمکش ہوش الٰہی توبہ وہی ہشیار ہے الفت میں جو دیوانہ بنے اس تمنا سے ...

مزید پڑھیے

ترا مے خوار خوش آغاز و خوش انجام ہے ساقی

ترا مے خوار خوش آغاز و خوش انجام ہے ساقی کہ دل میں یاد تیری لب پہ تیرا نام ہے ساقی محیط دور ساغر چرخ نیلی فام ہے ساقی غلام چشم مے گوں گردش ایام ہے ساقی دل ناکام کو الفت سے تیری کام ہے ساقی محبت بے نیاز عبرت انجام ہے ساقی زمانے سے الگ ہو کر مجھے دنیائے الفت میں ترا رخ روز روشن زلف ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4116 سے 5858