موت
جاگیں کبھی نہ ایسا سلاتی ہے وقت پر شاہ و فقیر سب کو اٹھاتی ہے وقت پر ممکن ہے کسی وقت وہ بے وقت ہنسا دے یہ بات مگر طے ہے رلاتی ہے وقت پر سب اس کو انگلیوں پہ نچاتے رہے مگر تگنی کا ناچ وہ بھی نچاتی ہے وقت پر پل بھر بھی کام ہونے پہ رکتی نہیں کبھی آتی ہے جیسے ویسے ہی جاتی ہے وقت پر عمر ...