شاعری

موت

جاگیں کبھی نہ ایسا سلاتی ہے وقت پر شاہ و فقیر سب کو اٹھاتی ہے وقت پر ممکن ہے کسی وقت وہ بے وقت ہنسا دے یہ بات مگر طے ہے رلاتی ہے وقت پر سب اس کو انگلیوں پہ نچاتے رہے مگر تگنی کا ناچ وہ بھی نچاتی ہے وقت پر پل بھر بھی کام ہونے پہ رکتی نہیں کبھی آتی ہے جیسے ویسے ہی جاتی ہے وقت پر عمر ...

مزید پڑھیے

بتا تیری غذا کیا ہے

اگر دعوت ہو کھانے کی تو اس میں سوچنا کیا ہے نہیں گر یہ خدا کی دین تو اس کے سوا کیا ہے جو گھر میں دال روٹی روز ہی کھائے بلا ناغہ وہی جانے گا بریانی متنجن میں مزا کیا ہے مرا یہ مشورہ تو مان لے ہوگا بھلا تیرا کبھی یہ بھول کر مت دیکھ دستر پہ رکھا کیا ہے مقدر میں جو لکھا ہے ترے کھا لے ...

مزید پڑھیے

سیڑھیاں

چڑھتی کہیں کہیں سے اترتی ہیں سیڑھیاں جانے کہاں کہاں سے گزرتی ہیں سیڑھیاں یادوں کے جھلملاتے ستارے لئے ہوئے ماضی کی کہکشاں سے اترتی ہیں سیڑھیاں لیتی ہیں یوں سفر میں مسافر کا امتحاں ہموار راستوں پہ ابھرتی ہیں سیڑھیاں کرتی ہیں سر غرور کا نیچے اتار کر پستی کا سر بلند بھی کرتی ...

مزید پڑھیے

بیوی اور پتلون

بیگم سے کہا ہم نے جو فرصت ہے آپ کو پتلون میں ہماری بٹن ایک ٹانک دو غصے سے بولیں آپ ہی خود ٹانک لیں جناب بیوی کا جب مذاق اڑاتے رہے ہیں آپ بیوی بغیر آدمی ہوتے نہیں پورے میں نہ رہوں تو آپ بھی رہ جائیں ادھورے یوں تو بٹن کا ٹانکنا چھوٹا سا کام ہے یہ کام بھی تو لائق صد احترام ...

مزید پڑھیے

مجھے کس طرح سے نہ ہو یقیں کہ اسے خزاں سے گریز ہے

مجھے کس طرح سے نہ ہو یقیں کہ اسے خزاں سے گریز ہے جو نسیم‌ صبح بہار کو مرے گلستاں سے گریز ہے یہ عبودیت کا ہے اقتضا کہ اسی پہ خم ہو مری جبیں یہ غلط کسی نے ہے کہہ دیا ترے آستاں سے گریز ہے ہے عجیب قسم کی بد ظنی مجھے اس کی کوئی خبر نہیں گل و خار کو بھی بہار میں مرے گلستاں سے گریز ہے کچھ ...

مزید پڑھیے

مرے مدعائے الفت کا پیام بن کے آئی

مرے مدعائے الفت کا پیام بن کے آئی تری زلف کی سیاہی مری شام بن کے آئی ہوئی کاشف حقیقت یہ ضمیر مے کدہ کی مری بے خودی جو درد تہ جام بن کے آئی تری اک ادا تھی یہ بھی گل و خار کو جگانے جو نسیم صبح گاہی کا خرام بن کے آئی یہ صبا کی بے رخی تھی سوئے آشیاں جو گزری نہ سلام لے کے آئی نہ پیام بن ...

مزید پڑھیے

زباں ساکت ہو قطع گفتگو ہو

زباں ساکت ہو قطع گفتگو ہو نظر ہی سے بیان آرزو ہو جہاں میں ہوں وہاں پر تو ہی تو ہو جہاں تو ہو جہان رنگ و بو ہو شہید ناز یوں ہی سرخ رو ہو شفق منہ پر ہو دامن پر لہو ہو وفور یاس و جوش ابتلا میں زباں پر آیت‌ لا‌ تقنطوا ہو جو رنگ گل سے ٹپکا ہے چمن میں نہ میری ہی تمنا کا لہو ہو حریم ...

مزید پڑھیے

موت

کیا ہر موت کے لئے ضروری ہوتی ہیں رکی ہوئی سانسیں پتھرائی آنکھیں چار کندھے اور گھر سے شمشان تک کی آخری دنیا داری کبھی کبھی موت کی نشانی ہوتیں ہے عمر سے زیادہ سمجھ داری والی باتیں ہمیشہ ہنسنے والے چہرے اور کبھی نا لڑنے والی محبتیں

مزید پڑھیے

سوال

جب میں نے کہا تھا تم سے کے مجھے تم سے محبت نہیں اور ایک گہری سانس لی تھی تم نے وہ کوئی بیان نہیں بلکہ ایک سوال تھا جواب تھی وہی گہری سانس

مزید پڑھیے

ایک عام واقعہ

مجھے نا سمجھنے والے کچھ نا سمجھنے والے اکثر ملتے ہیں اور آگے بھی ملتے رہیں گے دیکھو تمہارے ہونے نا ہونے سے کوئی خاص فرق نہیں آیا ان کی بے رخی اکثر تمہاری شکل لے لیتی ہے اور مجھے تمہاری کمی کا ذرا بھی احساس نہیں ہوتا کاش تمہیں بھی کچھ ایسے پاگل لوگ ملیں جو تمہیں سمجھنے کی ضد میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4114 سے 5858