شاعری

خاموشی

اگرچہ یہ جہان رنگ و بو ہے مگر ہر سو فساد میں و تو ہے میں چپ رہ کر بہت کچھ کہہ گیا ہوں یہ خاموشی ہی میری گفتگو ہے طنز و مزاح کا یوں بھی کرشمہ دکھا دیا ہنس کر رلا دیا کبھی رو کر ہنسا دیا خاموش رہ کے میں نے کئی بار ؔخواہ مخواہ لوگوں کو گفتگو کا سلیقہ سکھا دیا جب بھی یاد کسی کی دل میں ...

مزید پڑھیے

دوسرا کپ

میرے لیے تمہارا پیار بالکل ویسا تھا جیسے چائے کے آخری گھونٹ میں دوسرے کپ کی طلب دوسرا کپ جس کی قسمت میں اکثر لکھا ہوتا ہے میز کے کنارے پڑے پڑے ٹھنڈا ہونا خیر یہی فرق ہے انسان اور چائے میں کہ انسان کو پہلی محبت میں ہی دوسرے کپ والی بے رخی مل جاتی کبھی

مزید پڑھیے

کیسا ہوگا دیس پیا کا کیسا پیا کا گاؤں رے

کیسا ہوگا دیس پیا کا کیسا پیا کا گاؤں رے کیسی ہوگی دھوپ وہاں کی کیسی وہاں کی چھاؤں رے چاندی جیسے پیڑ وہاں کے ہیرے موتی پھول و پھل سونے کی پیلی دھرتی پر رکھتے ہوں گے پاؤں رے پی پی پپیہے بولتے ہوں گے کانوں میں رس گھولتے ہوں گے ٹھمری ہوگی کوئل کی کو کجری کاگا کی کاؤں رے کانہا ہوں ...

مزید پڑھیے

دل کی نیا دو نینوں کے موہ میں ڈوبی جائے

دل کی نیا دو نینوں کے موہ میں ڈوبی جائے ڈگ مگ ڈولے ہائے رے نیا ڈگ مگ ڈولے ہائے کالے کالے میگھا برسیں کل دھرتی مسکائے سوندھی ماٹی کی خوشبو سے سارا جگ بھر جائے تن بھی بھیگے من بھی بھیگے ساون رس برسائے شیتل شیتل جل برہن کے من میں آگ لگائے یہ موسم پاگل پرویا من مدرا چھلکائے بن چٹھی ...

مزید پڑھیے

بھیگی بھیگی برکھا رت کے منظر گیلے یاد کرو

بھیگی بھیگی برکھا رت کے منظر گیلے یاد کرو دو ہونٹ رسیلے یاد کرو دو نین کٹیلے یاد کرو تم ساتھ ہمارے چلتے تھے صحرا بھی سہانا لگتا تھا گل پوش دکھائی دیتے تھے سب ریت کے ٹیلے یاد کرو گھنگرو کی صدائیں آتی تھیں سنتور کبھی بج اٹھتے تھے ماحول میں گونجا کرتے تھے سنگیت رسیلے یاد کرو ہم ...

مزید پڑھیے

تمہارے شہر میں آنگن نہیں ہے

تمہارے شہر میں آنگن نہیں ہے کہیں تلسی نہیں چندن نہیں ہے کلب میں ملتے ہیں رادھا کنھیا کہ جمنا تٹ نہیں مدھوبن نہیں ہے یہاں ہر اور آتش ہے دھواں ہے کہیں بھی آج کل ساون نہیں ہے امیری کا بدن سونے سے پیلا غریبی کے لئے اترن نہیں ہے وہ دیکھیں کس طرح دل کی سیاہی کہ ان کے پاس اب درپن نہیں ...

مزید پڑھیے

سفارش کی ضرورت ہی نہ ہوتی

سفارش کی ضرورت ہی نہ ہوتی نوازش کی ضرورت ہی نہ ہوتی اگر آتا ہمیں حق چھین لینا گزارش کی ضرورت ہی نہ ہوتی اگر سوکھے کنویں شبنم سے بھرتے تو بارش کی ضرورت ہی نہ ہوتی نہیں آتے اگر دنیا میں ہم تو رہائش کی ضرورت ہی نہ ہوتی حسینوں کا جو ہوتا حسن سادہ نمائش کی ضرورت ہی نہ ہوتی اگر ...

مزید پڑھیے

پہلے پہلے شوہر کو ہر موسم بھیگا لگتا ہے

پہلے پہلے شوہر کو ہر موسم بھیگا لگتا ہے یوں سمجھو بلی کے بھاگوں ٹوٹا چھیکا لگتا ہے پھیکا لنچ اور ڈنر بھی عمدہ اور تیکھا لگتا ہے نقلی تیل میں تلا سموسہ اصلی گھی کا لگتا ہے شادی ایک چیونگم ہے جو پہلے میٹھا لگتا ہے پھر منہ میں جتنا گھولو گے اتنا پھیکا لگتا ہے عقد ہوا جب میرا اس دم ...

مزید پڑھیے

ہمیں کوئی مطلب نہیں لا مکاں سے

ہمیں کوئی مطلب نہیں لا مکاں سے غرض ہے ہمیں صرف اپنے مکاں سے غموں کا یہ عالم ہے جانے کہاں سے چلے آ رہے ہیں یہاں سے وہاں سے نکالے گئے ہیں جو ہم آشیاں سے شکایت نہیں ہے ہمیں باغباں سے کہیں برق پر بجلیاں نہ گری ہوں یہ شعلہ سا اٹھتا ہے کیوں آسماں سے جلا ہی نہیں تو دھواں کیا اٹھے ...

مزید پڑھیے

ہندوستاں ہمارا

نہ یہ زمیں ہماری نہ آسماں ہمارا دوزخ سے کم نہیں ہے جنت نشاں ہمارا سننا پڑے گا سب کو اب تو بیاں ہمارا ہندوستاں کے ہم ہیں ہندوستاں ہمارا جنتا پہ راج کرتی ہے ڈاکوؤں کی ٹولی وہ بچ گئے جنوں سے کھیلی تھی خوں کی ہولی معصوم شہریوں پہ جس نے چلائی گولی وہ سنتری بنا ہے اب پاسباں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4113 سے 5858