پنشن یافتہ
نہ اب میں پیار کر سکتا ہوں اور نہ ڈانٹ سکتا ہوں جو باقی رہ گئے ہیں دن انہیں بس کاٹ سکتا ہوں جو مل جائے اسی پر اکتفا کرنا ہی پڑتا ہے کوئی شے اپنی مرضی سے نہ اب میں چھانٹ سکتا ہوں ہوا ہوں جب سے پنشن یافتہ یہ حال ہے یارو نہ کوئی قرض دیتا ہے نہ پنشن بانٹ سکتا ہوں یہی کیا کم ہے خود ...