شاعری

پنشن یافتہ

نہ اب میں پیار کر سکتا ہوں اور نہ ڈانٹ سکتا ہوں جو باقی رہ گئے ہیں دن انہیں بس کاٹ سکتا ہوں جو مل جائے اسی پر اکتفا کرنا ہی پڑتا ہے کوئی شے اپنی مرضی سے نہ اب میں چھانٹ سکتا ہوں ہوا ہوں جب سے پنشن یافتہ یہ حال ہے یارو نہ کوئی قرض دیتا ہے نہ پنشن بانٹ سکتا ہوں یہی کیا کم ہے خود ...

مزید پڑھیے

آدمی کا

غم مسلسل کی اس تپش میں کہ جسم جل جائے آدمی کا ہنسی کی ہلکی پھوار بھی ہو تو کام چل جائے آدمی کا مزے کی گر ذرا بھی حس ہے نہ ہنسی کو اور قہقہے کو چھوڑو چمن میں گر پھول مسکرا دے تو دل بہل جائے آدمی کا مصیبتوں کا مقابلہ جو ہمیشہ ہنستے ہوئے کرے گا جو وقت مشکل ہے آنے والا تو وہ بھی ٹل ...

مزید پڑھیے

ملن

جب حسینوں کی تصاویر کتابوں میں ملیں کورے کاغذ ہی سوالوں کے جوابوں میں ملیں دن کو تھیٹر میں ملیں رات کو باغوں میں ملیں مل نے والے جو ملیں کچھ تو حجابوں میں ملیں چاہنے والوں کا اس طرح چمن میں ہو ملن جس طرح پھول چنبیلی کے گلابوں میں ملیں نا میں دولہا ہوں نیا اور نہ نئی دولہن ...

مزید پڑھیے

باتیں کرو

رات بھر اقرار کی باتیں کرو صبح دم انکار کی باتیں کرو الجھنیں دل کی بڑھانی ہوں اگر گیسوئے خم دار کی باتیں کرو ہیں نگاہیں سیر اور ابرو کماں یار با ہتھیار کی باتیں کرو مہ‌ وشو اتنے برے بھی ہم نہیں آؤ ہم سے پیار کی باتیں کرو صرف پہلی ہی کے دن اے دوستو ساز اور جھنکار کی باتیں ...

مزید پڑھیے

کیا ہے

گیا ہو جیل نہ جب تک وہ کیا جانے سزا کیا ہے رہائی میں ہے کیا دقت اسیری میں مزا کیا ہے ہماری شادی خانہ آبادی محبت با مشقت ہے جہاں بیوی مری جج ہو وہاں میری رضا کیا ہے یہ مجھ سے پوچھ بیٹھی ایک دن لڑکا نما لڑکی وفا ہے نام کس چڑیا کا اور شرم و حیا کیا ہے کہا میں نے یہ اس کہ یہ اس عورت کے ...

مزید پڑھیے

طنزیہ غزل

شاعری میں نہ کبھی شکوۂ رسوائی کر اپنے اشعار کی تو خود ہی پذیرائی کر تیرے ویران شب و روز بھی رنگیں ہوں گے بس کسی طرح حسینوں سے شناسائی کر جو مریضان محبت ہیں غموں کے مارے ان کی اشعار ظرافت سے مسیحائی کر پیٹ کی آگ بجھا محنت و مزدوری سے وقت بچ جائے تو مشق سخن آرائی کر بھول کر عشق ...

مزید پڑھیے

جو کچھ مجھ سے کمایا جا رہا ہے

جو کچھ مجھ سے کمایا جا رہا ہے محض گھر کا کرایہ جا رہا ہے ثبوتوں کو مٹایا جا رہا ہے یوں سچ کا قد گھٹایا جا رہا ہے وہ پتھر سے زیادہ کچھ نہیں ہے تو پھر سر کیوں جھکایا جا رہا ہے نہیں نیت مدد کی ہاتھ پھر بھی بڑھانے کو بڑھایا جا رہا ہے حقیقت ہم سے ہے منہ پھیر بیٹھی سو خوابوں کو جگایا ...

مزید پڑھیے

تھک گئے سب کہتے دیوانہ ہمیں

تھک گئے سب کہتے دیوانہ ہمیں آپ نے ہی دیر سے جانا ہمیں بات چبھتی ہے اسے تھوڑی مگر ایسے ہی آتا ہے سمجھانا ہمیں اس نے ہونٹوں سے پلائی دیر تک آ گیا ہے راس مے خانہ ہمیں بعد مدت کے ملا وہ دل مکیں ہائے پوچھے ہے کہ پہچانا ہمیں

مزید پڑھیے

آنکھیں

لڑاؤ ہر کسی سے یوں نہ تم بے ساختہ آنکھیں کہیں بدنام نہ ہو جائیں شہرت یافتہ آنکھیں مروت رحم اور شرم و حیا ان میں نہیں ہوتی دکھانے کے لئے ہوتی ہیں جو خود ساختہ آنکھیں کبھی خود بند ہو کر راہ دل مسدود کرتی ہیں کبھی دیتی چلی جاتی ہیں دل تک راستہ آنکھیں کہیں فتنہ گری سے ہیں سکون و ...

مزید پڑھیے

پہلے تھی سو اب بھی ہے

ہمیشہ کی طرح تنگی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے بدن پر اک پھٹی لنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے پریشانی سے سر کے بال تک سب جھڑ گئے لیکن پرانی جیب میں کنگھی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے ادھر میں کثرت اولاد سے لاغر ادھر ان کی زباں پر ترش نارنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے بنا ہیرو سے زیرو اور پھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4111 سے 5858