شاعری

دریا میں یہ ناؤ کس طرف ہے

دریا میں یہ ناؤ کس طرف ہے پانی کا بہاؤ کس طرف ہے یہ راہ کدھر کو مڑ رہی ہے لوگوں کا لگاؤ کس طرف ہے منزل کہاں تاکتے ہیں راہی تکتے ہیں پڑاؤ کس طرف ہے تاثیر کہاں گئی سخن سے جذبوں کا الاؤ کس طرف ہے آواز کہیں بلا رہی ہے یاروں کا رجھاؤ کس طرف ہے تصویر دکھا رہی ہے کیا کچھ رنگوں کا رچاؤ ...

مزید پڑھیے

اپنا دکھڑا کہتے ہیں

اپنا دکھڑا کہتے ہیں اور تجھے کیا کہتے ہیں کچی کونپل ہوتا ہے پیار کا رشتہ کہتے ہیں دنیا کس کی اپنی ہے اہل دنیا کہتے ہیں اے دل یہ در ماندگیاں تجھ کو دریا کہتے ہیں اپنا سا بس لگتا ہے جس کو اپنا کہتے ہیں لوٹنے والے! دیر نہ کر لوٹ کے لے جا کہتے ہیں گوہرؔ لوگ تو بات نہیں بات کا سہرا ...

مزید پڑھیے

کیسے ڈوبا ڈوب گیا

کیسے ڈوبا ڈوب گیا ڈوبنے والا ڈوب گیا کیسی نیک کمائی تھی! پیسہ پیسہ ڈوب گیا ناؤ نہ ڈوبی دریا میں ناؤ میں دریا ڈوب گیا لوگ کنارے آن لگے اور کنارہ ڈوب گیا بارش اس نے بھیجی تھی شہر ہمارا ڈوب گیا ساری رات بتا ڈالی تارہ تارہ ڈوب گیا گوہرؔ پورا خواب سنا پانی میں کیا ڈوب گیا

مزید پڑھیے

دل تمام آئینے تیرہ کون روشن کون

دل تمام آئینے تیرہ کون روشن کون اب یہ آنکھ ہی جانے دوستوں میں دشمن کون یا جگر میں خوں کم تھا یا ابھی جنوں کم تھا دشت کے عوض کرتا ورنہ قصد گلشن کون اک نشاط آرائی اک سکون تنہائی ہجر یا وصال اچھا حل کرے یہ الجھن کون سلسلے محبت کے نام سے نہیں چلتے اپنی ذات جو تج دے شیخ کیا برہمن ...

مزید پڑھیے

جاتی رت سے پیار کرو گے

جاتی رت سے پیار کرو گے کر لو بات ادھار کرو گے تب مل کر احسان کیا تھا اب مل کر ایثار کرو گے جتنے خواب اتنی تعبیریں کتنے داغ شمار کرو گے اے انکار کے خوگر لوگو اور بھی کوئی وار کرو گے اس کے نام کو ناؤ بنا کر پیاسوں کو سرشار کرو گے فرض کرو ہم مر نہ سکے تو جینے سے انکار کرو گے فرض ...

مزید پڑھیے

پابند نہیں ہیں

وعدہ کیا کسی بات کے پابند نہیں ہیں بوڑھے ہیں نا جذبات کے پابند نہیں ہیں خوابوں میں نکل جاتے ہیں ارمان ہمارے ہم دن میں ملاقات کے پابند نہیں ہیں بے وجہ بھی آنکھوں میں امڈ آتے ہیں اکثر سیلاب جو برسات کے پابند نہیں ہیں حالات کی گردش رہی پابند ہماری ہم گردش حالات کے پابند نہیں ...

مزید پڑھیے

دم نکلے

لکھانے نام سچے عاشقوں میں جب بھی ہم نکلے ارادوں میں ہمارے جانے کتنے پیچ و خم نکلے یہ سوچا تھا کہ گھر سے بھاگ کر شادی رچائیں مگر جب وقت آیا تو نہ وہ نکلیں نہ ہم نکلے سنا ہے راستے ہی میں پولیس نے دھر لیا ان کو ہمارے دل پہ جب کرنے کو وہ مشق ستم نکلے دماغ ان کا جو دیکھا اور دل کی بھی ...

مزید پڑھیے

زمین ظرافت

مرے دل میں اچانک یہ خیال آیا ظرافت کی زمیں بنجر پڑی ہے میں اس کی آبیاری کر کے دیکھوں ذرا نم ہو تو شاید یہ بہت زرخیز ہو جائے یہ میری عرق ریزی سے تو کچھ نم ہو گئی ہے اب اس بنجر زمیں میں خواہ مخواہ میں تبسم کے جو تھوڑے بیج بوئے جا رہا ہوں کل ان میں سے ہنسی کی ننھی کونپلیں ہنس ہنس کے ...

مزید پڑھیے

ہنسی

مزاح و طنز کے جب تیر بیٹھیں گے نشانے پر جو دیوانے ہیں ان کی عقل آئے گی ٹھکانے پر ہنسی کا سلسلہ تو ؔخواہ مخواہ چلتا ہی رہتا ہے زمانہ مجھ پہ ہنستا ہے میں ہنستا ہوں زمانے پر کٹھن راہوں میں جیسے ہم سفر بھی چھوٹ جاتے ہیں اسی طرح سفر میں آبلے بھی پھوٹ جاتے ہیں مزاح گو ہوں مگر خود اس لئے ...

مزید پڑھیے

سر پہ چڑھا رکھا ہے

میں نے پوچھا کہ یہ کیا حال بنا رکھا ہے نہ تو میک اپ ہے نہ بالوں کو سجا رکھا ہے چھیڑتی رہتی ہیں اکثر لب و رخساروں کو تم نے زلفوں کو بہت سر پہ چڑھا رکھا ہے مسکراتے ہوئے اس نے یہ کہا شوخی سے ایک دیوانے نے دیوانہ بنا رکھا ہے جیب غائب ہے تو نیفا ہے بٹن کے بدلے تم نے پتلون کا پاجامہ بنا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4110 سے 5858