اہل دل کے واسطے پیغام ہو کر رہ گئی
اہل دل کے واسطے پیغام ہو کر رہ گئی زندگی مجبوریوں کا نام ہو کر رہ گئی ہو گئے برباد تیری آرزو سے پیشتر زیست نذر گردش ایام ہو کر رہ گئی توبہ توبہ اس نگاہ مست کی سرشاریاں دیر پا توبہ بھی غرق جام ہو کر رہ گئی اس نگاہ ناز کو تو کوئی کچھ کہتا نہیں اور محبت کی نظر بدنام ہو کر رہ گئی ہر ...