شاعری

اہل دل کے واسطے پیغام ہو کر رہ گئی

اہل دل کے واسطے پیغام ہو کر رہ گئی زندگی مجبوریوں کا نام ہو کر رہ گئی ہو گئے برباد تیری آرزو سے پیشتر زیست نذر گردش ایام ہو کر رہ گئی توبہ توبہ اس نگاہ مست کی سرشاریاں دیر پا توبہ بھی غرق جام ہو کر رہ گئی اس نگاہ ناز کو تو کوئی کچھ کہتا نہیں اور محبت کی نظر بدنام ہو کر رہ گئی ہر ...

مزید پڑھیے

ماحول سازگار کرو میں نشے میں ہوں

ماحول سازگار کرو میں نشے میں ہوں ذکر نگاہ یار کرو میں نشے میں ہوں اے گردشو تمہیں ذرا تاخیر ہو گئی اب میرا انتظار کرو میں نشے میں ہوں میں تم کو چاہتا ہوں تمہیں پر نگاہ ہے ایسے میں اعتبار کرو میں نشے میں ہوں ایسا نہ ہو کہ سخت کا ہو سخت تر جواب یارو سنبھل کے وار کرو میں نشے میں ...

مزید پڑھیے

فقط اس بات پہ دل رو گیا ہے

فقط اس بات پہ دل رو گیا ہے جو میرا تھا نہیں وہ کھو گیا ہے ہوئی حیرت مجھے اس بات کی وہ مری بانہوں میں کیسے سو گیا ہے میں اب اس کو جگاؤں بھی تو کیسے جو مجھ سے لڑ جھگڑ کے سو گیا ہے وہ اپنی زندگی کے پاپ سارے سمجھ کے مجھ کو گنگا دھو گیا ہے اب اس میں پھل لگیں گے نفرتوں کے وہ مجھ میں بیج ...

مزید پڑھیے

تو نے کوشش تو کی زمانہ پر

تو نے کوشش تو کی زمانہ پر لو بجھی ہی نہیں بجھانے پر میرے ہاتھوں کا دیکھنے جادو گھر پہ آؤ کبھی تو کھانے پر لاش خوابوں کی دفن کر آئے درد اب جا لگا ٹھکانے پر کوئی سیکھے نہیں سکھانے سے عقل آتی ہے چوٹ کھانے پر نام اس کے کئے ہیں دن بھی تو کیوں تماشہ ہے شب بتانے پر

مزید پڑھیے

جسم سے ہو کے پار آئے ہم

جسم سے ہو کے پار آئے ہم روح بستر پہ ہار آئے ہم لے کے دل میں غبار آئے ہم دیکھ پروردگار آئے ہم ان سے ملنے کی بے قراری تھی مل کے بھی بے قرار آئے ہم اک بھروسہ دلانے کی خاطر شرم اپنی اتار آئے ہم آخری بار مل کے آئے تو اس کو دل سے اتار آئے ہم اب کے ہم لوٹ کر کہاں جائیں گھر سے ہو کے فرار ...

مزید پڑھیے

بدلتے پل میں ہم محرم نہیں ہیں

بدلتے پل میں ہم محرم نہیں ہیں تیرے جیسے تو کم سے کم نہیں ہیں منانا بھی تمہیں جی جان سے ہے خفا کرنے میں بھی ہم کم نہیں ہے گناہوں کو ترے دے دیں معافی خدا ہے وہ کہ دیکھو ہم نہیں ہیں لٹا کر تیرے حصے کی محبت میری آنکھیں ذرا بھی نم نہیں ہیں مجھے سینہ سے اپنے تم لگا لو جدا ہونے کے یہ ...

مزید پڑھیے

میں خود ہی خوگر خلش جستجو نہ تھا

میں خود ہی خوگر خلش جستجو نہ تھا دشوار ورنہ مرحلۂ آرزو نہ تھا ناحق خراب منت درماں ہوا نہ درد ممنون زخم ہوں کہ مقام رفو نہ تھا یا آشنائے رمز طلب ہی نہ تھی زباں لب وا ہوئے تو حوصلۂ گفتگو نہ تھا نا‌ پرسش وفا کی یہ نوبت کبھی نہ تھی دل یوں سلوک اہل کرم سے لہو نہ تھا ہاں کب بنام ...

مزید پڑھیے

بندوں کا مزاج ہم نے دیکھا

بندوں کا مزاج ہم نے دیکھا کیا کچھ نہیں آج ہم نے دیکھا ہلتے ہوئے تخت کو سنبھالو گرتا ہوا تاج ہم نے دیکھا جیتے تو خوشی سے مر نہ جاتے کس شخص کا راج ہم نے دیکھا کیا کیا نہ ترس ترس گئے ہم کیا کیا نہ سماج ہم نے دیکھا روئے ہیں تو لوگ رو پڑے ہیں اب کے تو رواج ہم نے دیکھا گوہرؔ کو سلام ...

مزید پڑھیے

دکھی دلوں میں، دکھی ساتھیوں میں رہتے تھے

دکھی دلوں میں، دکھی ساتھیوں میں رہتے تھے یہ اور بات کہ ہم مسکرا بھی لیتے تھے وہ ایک شخص برائی پہ تل گیا تو چلو سوال یہ ہے کہ ہم بھی کہاں فرشتے تھے اور اب نہ آنکھ نہ آنسو نہ دھڑکنیں دل میں تمہی کہو کہ یہ دریا کبھی اترتے تھے جدائیوں کی گھڑی نقش نقش بولتی ہے وہ برف بار ہوا تھی، وہ ...

مزید پڑھیے

شاعری بات نہیں گرم سخن ہونے کی

شاعری بات نہیں گرم سخن ہونے کی شرط ہی اور ہے شائستۂ فن ہونے کی میں کہ ہر دم مجھے بالیدگیٔ روح کی فکر روح کو فکر ہے وارستۂ تن ہونے کی رم بہ رم سلسلۂ موج غزالان خیال دشت غربت کو بشارت ہو وطن ہونے کی پرتو رنگ سے گلگوں ہوا معمورۂ چشم دھوم ہے کوئے تماشا کے چمن ہونے کی حق پرستی کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4109 سے 5858