جسم شفاف میں شعلہ سا رواں ہو جیسے
جسم شفاف میں شعلہ سا رواں ہو جیسے کھلکھلاہٹ میں بھی آواز سناں ہو جیسے تیر چلتے ہوئے دیکھوں تو بچاؤں دل کو اف وہ انگڑائی کہ ارجن کی کماں ہو جیسے
جسم شفاف میں شعلہ سا رواں ہو جیسے کھلکھلاہٹ میں بھی آواز سناں ہو جیسے تیر چلتے ہوئے دیکھوں تو بچاؤں دل کو اف وہ انگڑائی کہ ارجن کی کماں ہو جیسے
اجنبی بن کے ہنسا کرتی ہے زندگی کس سے وفا کرتی ہے کیا جلاؤں میں محبت کے چراغ ایک آندھی سی چلا کرتی ہے
سمیٹ لو ذرا آنچل کہ روشنی پھیلے بجا دو پاؤں کی چھاگل کہ نغمگی پھیلے نقاب زلفوں کی چہرے پہ خوب ہے لیکن ہٹا دو چاند سے بادل کہ چاندنی پھیلے
حلقۂ مے سے کسی کو بھی نکلنے نہ دیا اٹھ کے کچھ دور بھی مے خانے سے چلنے نہ دیا دور پر دور چلاتی رہی اک مست نظر آج تو جام بھی ساقی سے بدلنے نہ دیا
دوستی اپنی جگہ اور دشمنی اپنی جگہ فرض کے انجام دینے کی خوشی اپنی جگہ ہم تو سرگرم سفر ہیں اور رہیں گے عمر بھر منزلیں اپنی جگہ آوارگی اپنی جگہ پتھروں کے دیس میں شیشے کا ہے اپنا وقار دیوتا اپنی جگہ اور آدمی اپنی جگہ گیان مانا ہے بڑا بھکتی بھی لیکن کم نہیں آگہی اپنی جگہ دیوانگی ...
سامنے آنکھوں کے گھر کا گھر بنے اور ٹوٹ جائے کیا کرے وہ جس کا دل پتھر بنے اور ٹوٹ جائے ہائے رے ان کے فریب وعدۂ فردا کا جال دیکھتے ہی دیکھتے اک در بنے اور ٹوٹ جائے حادثوں کی ٹھوکروں سے چور ہونا ہے تو پھر کیوں نہ خاموشی سے دل ساغر بنے اور ٹوٹ جائے ہم بھی لے لیں لطف تیر نیم کش گر وہ ...
رہ عشق میں غم زندگی کی بھی زندگی سفری رہی کبھی نذر خاک سفر رہی کبھی موتیوں سے بھری رہی تری اک نگاہ سے ساقیا وہ بہار بے خبری رہی گل تر وہی گل تر رہا وہی ڈال ڈال ہری رہی تری بے رخی کی نگاہ تھی کہ جو ہر خطا سے بری رہی مری آرزو کی شراب تھی کہ جو جام جام بھری رہی دم مرگ بھی مری حسرتیں ...
کتنے جملے ہیں کہ جو روپوش ہیں یاروں کے بیچ ہم بھی مجرم کی طرح خاموش ہیں یاروں کے بیچ کیا کہیں کس نے بہاروں کو خزاں ساماں کیا دیکھنے میں تو سبھی گل پوش ہیں یاروں کے بیچ یہ بھی سچ ہے گھر کے بھیدی نے کیا گھر کو تباہ یہ بھی لگتا ہے کہ سب نردوش ہیں یاروں کے بیچ کیا پتہ کب خون کا پیاسا ...
جسم تو مٹی میں ملتا ہے یہیں مرنے کے بعد اس کو کیا روئیں جو مرتا ہی نہیں مرنے کے بعد فرض پر قربان ہونے کا اک اپنا حسن ہے اور ہو جاتا ہے کچھ انساں حسیں مرنے کے بعد اک یہی غم کھائے جاتا ہے کہ اس کا ہوگا کیا کون رکھے گا مرا حسن یقیں مرنے کے بعد یہ محل یہ مال و دولت سب یہیں رہ جائیں ...
اجلے میلے پیش ہوئے جیسے ہم تھے پیش ہوئے آیا کون کٹہروں میں ساتھ کٹہرے پیش ہوئے اپنے سارے جھوٹ کھلے کس کے آگے پیش ہوئے اندازے جب ہار گئے پھر مفروضے پیش ہوئے شاہ کو شاید مات ہوئی شاہ کے مہرے پیش ہوئے عدل کا چشمہ سوکھ گیا عدل کے پیاسے پیش ہوئے ہم بھی شاید صاف نہ تھے ڈرتے ڈرتے ...