شاعری

کبھی تو موند لیں آنکھیں کبھی نظر کھولیں

کبھی تو موند لیں آنکھیں کبھی نظر کھولیں کسی طرح سے کوئی روشنی کا در کھولیں ہوائیں سرد ہیں اوپر سے تیز بارش ہے پرند کیسے بھلا اپنے بال و پر کھولیں ہمارے سامنے اب ایسا وقت آ پہنچا کہ ہم دماغ کو باندھیں دل و جگر کھولیں بجائے آب ہو شوراب سے نمو جن کی وہ پیڑ کیسے بڑھیں کیسے برگ و ...

مزید پڑھیے

عجیب شخص ہے پہلے مجھے ہنساتا ہے

عجیب شخص ہے پہلے مجھے ہنساتا ہے پھر اس کے بعد بہت دیر تک رلاتا ہے وہ بے وفا ہے ہمیشہ ہی دل دکھاتا ہے مگر یہ کیا کہ وہی ایک ہم کو بھاتا ہے وہ ہوش گوش کا انساں ہے پھر بھی صحرا میں کسی دوانے کی صورت صدا لگاتا ہے خضر تو آتے نہیں ہیں مرے خرابے میں یہ کون ہے جو مجھے راستہ دکھاتا ہے ہر ...

مزید پڑھیے

تیز ہوتی جا رہی ہے کس لیے دھڑکن مری

تیز ہوتی جا رہی ہے کس لیے دھڑکن مری ہو رہی ہے رفتہ رفتہ آنکھ بھی روشن مری ذہن کے خانوں میں جانے وقت نے کیا بھر دیا بے سبب ہونے لگی اک ایک سے ان بن مری جیسے جیسے گتھیوں کی ڈور ہاتھ آتی گئی کچھ اسی رفتار سے بڑھتی گئی الجھن مری ایسا لگتا ہے کہ میری سانس پھر گھٹ جائے گی پھر انا کی ...

مزید پڑھیے

سانسوں کی جل ترنگ پر نغمۂ عشق گائے جا

سانسوں کی جل ترنگ پر نغمۂ عشق گائے جا اے مری جان آرزو تو یوں ہی مسکرائے جا حسن خرام ناز سے جادو نئے جگائے جا جب بھی جہاں پڑیں قدم پھول وہیں کھلائے جا آگ لگا کے ہنس کبھی بن کے گھٹا برس کبھی بکھرا کے زلف عنبریں ہوش مرے اڑائے جا برسوں کے بعد آنکھوں میں چھلکی ہے پیار کی شراب بند نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4106 سے 5858