اب کیا بتائیں کیا تھا سماں پیرہن کے بیچ
اب کیا بتائیں کیا تھا سماں پیرہن کے بیچ جذبات ہو رہے تھے جواں پیرہن کے بیچ کیا جھلملی بھی روکتی گورے بدن کی آنچ پگھلا ہوا تھا شعلہ رواں پیرہن کے بیچ
اب کیا بتائیں کیا تھا سماں پیرہن کے بیچ جذبات ہو رہے تھے جواں پیرہن کے بیچ کیا جھلملی بھی روکتی گورے بدن کی آنچ پگھلا ہوا تھا شعلہ رواں پیرہن کے بیچ
نقش تیکھے بانکی چتون دانت موتی کی قطار صبح کی لالی کا منظر اس کی رنگت کا نکھار جھوم کر رہ رہ کے اس کے کھلکھلانے کا سماں پھول برسائے ہوا سے جیسے شاخ ہر سنگھار
ان کو سجدہ کر لیا محبوب کی تصویر جان خاک پا آنکھوں میں لی اے چارہ گر اکسیر جان چشم ابرو، زلف خوشبو، رنج و راحت مرگ و زیست یہ سبھی ہیں نعمتیں لیکن انہیں زنجیر جان
کبھی تو موند لیں آنکھیں کبھی نظر کھولیں کسی طرح سے کوئی روشنی کا در کھولیں ہوائیں سرد ہیں اوپر سے تیز بارش ہے پرند کیسے بھلا اپنے بال و پر کھولیں ہمارے سامنے اب ایسا وقت آ پہنچا کہ ہم دماغ کو باندھیں دل و جگر کھولیں بجائے آب ہو شوراب سے نمو جن کی وہ پیڑ کیسے بڑھیں کیسے برگ و ...
عجیب شخص ہے پہلے مجھے ہنساتا ہے پھر اس کے بعد بہت دیر تک رلاتا ہے وہ بے وفا ہے ہمیشہ ہی دل دکھاتا ہے مگر یہ کیا کہ وہی ایک ہم کو بھاتا ہے وہ ہوش گوش کا انساں ہے پھر بھی صحرا میں کسی دوانے کی صورت صدا لگاتا ہے خضر تو آتے نہیں ہیں مرے خرابے میں یہ کون ہے جو مجھے راستہ دکھاتا ہے ہر ...
تیز ہوتی جا رہی ہے کس لیے دھڑکن مری ہو رہی ہے رفتہ رفتہ آنکھ بھی روشن مری ذہن کے خانوں میں جانے وقت نے کیا بھر دیا بے سبب ہونے لگی اک ایک سے ان بن مری جیسے جیسے گتھیوں کی ڈور ہاتھ آتی گئی کچھ اسی رفتار سے بڑھتی گئی الجھن مری ایسا لگتا ہے کہ میری سانس پھر گھٹ جائے گی پھر انا کی ...
سانسوں کی جل ترنگ پر نغمۂ عشق گائے جا اے مری جان آرزو تو یوں ہی مسکرائے جا حسن خرام ناز سے جادو نئے جگائے جا جب بھی جہاں پڑیں قدم پھول وہیں کھلائے جا آگ لگا کے ہنس کبھی بن کے گھٹا برس کبھی بکھرا کے زلف عنبریں ہوش مرے اڑائے جا برسوں کے بعد آنکھوں میں چھلکی ہے پیار کی شراب بند نہ ...
لمحہ لمحہ موت کو بھی زندگی سمجھا ہوں میں دوسروں کی ہی مسرت کو خوشی سمجھا ہوں میں کیا بتاؤں کون ہوں میں نے تو دیکھا ہی نہیں آپ نے جو کہہ دیا خود کو وہی سمجھا ہوں میں
پوچھا کیسے؟ تو ہنس کے فرمایا بس یوں ہی اک نگاہ کرنا تھی اور یہ بن ٹھن کے کس لئے آئے بولے دنیا تباہ کرنا تھی
کیا ضد ہے کہ برسات بھی ہو اور نہیں بھی ہو تم کون ہو جو ساتھ بھی ہو اور نہیں بھی ہو پھر بھی انہیں لمحات میں جانے سے فائدہ؟ پل بھر کو ملاقات بھی ہو اور نہیں بھی ہو