شاعری

بطخ کا بچہ

بطخ کا اک بچہ پکڑے آنگن سے اک بلی بھاگی بلی پیچھے کتا دوڑا چنو منو گڈو پپو کلو سلو سارے بچے بلا لے کر پیچھے دوڑے ساتھ میں دوڑیں شنو اپی گڈا گڈی لے کر اپنے ننھی منی چنی دوڑی ابا دوڑے امی دوڑیں دوڑے ڈبو چچا بھی اچھن بھائی کلن بھائی چھٹن بھائی منن بھائی پیچھے پیچھے وہ بھی دوڑے بلی رک ...

مزید پڑھیے

امن کا ڈمرو ڈم ڈم ڈم

امن کا ڈمرو ڈم ڈم ڈم چین کی ڈھولک ڈھم ڈھم ڈھم آؤ بجائیں تم اور ہم جھومیں ناچیں چھم چھم چھم جب تک اپنے دم میں دم دیس یہ چمکے چم چم چم گولی گولا اور نہ بم آنسو آہ نہ درد و الم دہشت خوف نہ کوئی غم خوشیاں برسیں جھم جھم جھم جھوم کے گائیں رم پم پم دیس یہ چمکے چم چم چم گوتم کی تعبیر ہیں ...

مزید پڑھیے

پتھر

میں اک معصوم شہری تھا شرافت سے سبھی کے ساتھ رہتا تھا مہذب طور سے جیتا تھا سب کے کام آتا تھا کبھی میں نے کسی کا دل نہیں توڑا کسی کا سر نہیں پھوڑا کسی ترکش سے کوئی تیر کیا تنکا نہیں چھوڑا کسی کی پیٹھ میں خنجر نہیں بھونکا کسی کے جسم پر بارود کا گولا نہیں پھینکا کسی کو آگ میں میں نے ...

مزید پڑھیے

جادو کی ڈبیا

سنو چنو منو مرے پاس آؤ شکیلہ جمیلہ کو بھی ساتھ لاؤ یہ دیکھو مرے پاس کیا آ گئی ہے یہ چھوٹی سی ڈبیا بڑے کام کی ہے یہ ڈبیا نہیں منتروں کی چھڑی ہے سنو اس میں جادو کی پڑیا پڑی ہے اسے جب گھماؤ تو دنیا گھمائے یہ گھر بیٹھے بیٹھے سیاحت کرائے اسے کھٹکھٹاؤ تو گھونگھٹ اٹھائے ہمیں چاند سی اپنی ...

مزید پڑھیے

انشا

کبھی کھل کے جب کھلکھلاتی ہے انشا فضاؤں میں سرگم بجاتی ہے انشا ہر اک لب پہ تتلی بٹھاتی ہے انشا جھڑی قہقہوں کی لگاتی ہے انشا مسرت کی دنیا بساتی ہے انشا مرے گھر کو جنت بناتی ہے انشا کبھی مائشہ کو ہنساتی ہے انشا کبھی مائشہ کو رلاتی ہے انشا کبھی پاس اس کو بلاتی ہے انشا کبھی دور اس کو ...

مزید پڑھیے

زوال

کل تلک جو دھرتی پر سر بلند پرچم تھا آفتاب کی صورت رنگ جس کے چہرے کا دور تک چمکتا تھا آج اس سے لپٹی ہیں ٹڈیاں ہواؤں کی سرخیوں کے شعلوں کو لے رہی ہیں نرغے میں بدلیاں فضاؤں کی مارکسؔ جی کے پتلے پر بیٹھا کالا کوا ایک بیٹ کرنے والا ہے پاس ہی میں نعرہ ایک انقلاب زندہ باد گونجتا ہے رہ رہ ...

مزید پڑھیے

دھرتی

دھرتی کتنی اچھی ہے دھرتی کتنی پیاری ہے دھرتی پیڑ اگاتی ہے دھرتی پھول کھلاتی ہے دھرتی رنگ بناتی ہے دھرتی نور لٹاتی ہے دھرتی کتنی اچھی ہے دھرتی کتنی پیاری ہے دھرتی سب کو پانی دے چہرہ سب کو دھانی دے سب کو جوش جوانی دے خوں میں مست روانی دے دھرتی کتنی اچھی ہے دھرتی کتنی پیاری ہے دھرتی ...

مزید پڑھیے

گندم کی بالیاں

بھوک سے بھری آنکھیں آسمان کی جانب تک رہی ہیں دھرتی سے اک حسین راکٹ کو جس کے سرخ پرچم پر بالیاں ہیں گندم کی بھوک سے بھری آنکھیں جانتی نہیں لیکن بالیاں تو گیہوں کی خوش نما بہانے ہیں چمچماتے خوشوں میں زہر ناک دانے ہیں سرخ سرخ دانوں میں ایٹمی بلائیں ہیں جاں گسل دوائیں ہیں

مزید پڑھیے

مائشہ

چین ہے خواب ہے کہانی ہے مائشہ میری زندگانی ہے ہر طرف اس سے شادمانی ہے ہر نظارے کا رنگ دھانی ہے رنگ میں روپ میں نزاکت میں سب میں پریوں کی وہ تو رانی ہے اس کی آنکھوں سے نور چھنتا ہے اس کے ہونٹوں پہ گل فشانی ہے ایسی نازک کہ پنکھڑی بھی نہیں پھول کوئی وہ داستانی ہے مستقل بام و در مہکتے ...

مزید پڑھیے

دوری

امی ابا کیسے ہیں ٹیڑھے ہیں یا سیدھے ہیں گم صم رہنے والے ہیں باتیں کرنے والے ہیں ذہن و دل کے کیسے ہیں گرم ہیں یا پھر ٹھنڈے ہیں پیار لٹانے والے ہیں آنکھ دکھانے والے ہیں ناز اٹھانے والے ہیں ڈانٹ پلانے والے ہیں دلی میں کیوں رہتے ہیں دلی میں کیا کرتے ہیں کھانا کون بناتا ہے ان کو کون ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4103 سے 5858