رخ سے فطرت کے حجابات اٹھا دیتا ہے
رخ سے فطرت کے حجابات اٹھا دیتا ہے آئنہ ٹوٹ کے پتھر کو صدا دیتا ہے عظمت اہل وفا اور بڑھا دیتا ہے غم مسلسل ہو تو پھر غم بھی مزا دیتا ہے دل دھڑکتا ہے تو پہروں نہیں سونے دیتا نیند آتی ہے تو احساس جگا دیتا ہے تم نے شاید کبھی اس بات کو سوچا ہوگا وقت ہاتھوں کی لکیریں بھی مٹا دیتا ہے جو ...