شاعری

رخ سے فطرت کے حجابات اٹھا دیتا ہے

رخ سے فطرت کے حجابات اٹھا دیتا ہے آئنہ ٹوٹ کے پتھر کو صدا دیتا ہے عظمت اہل وفا اور بڑھا دیتا ہے غم مسلسل ہو تو پھر غم بھی مزا دیتا ہے دل دھڑکتا ہے تو پہروں نہیں سونے دیتا نیند آتی ہے تو احساس جگا دیتا ہے تم نے شاید کبھی اس بات کو سوچا ہوگا وقت ہاتھوں کی لکیریں بھی مٹا دیتا ہے جو ...

مزید پڑھیے

اب صلیبیں شاہراہوں پر سجا دی جائیں گی

اب صلیبیں شاہراہوں پر سجا دی جائیں گی عکس رہ جائیں گے تصویریں ہٹا دی جائیں گی بات کرنے کو ترس جائیں گے ارباب وفا بندشیں اتنی زبانوں پر لگا دی جائیں گی جن کتابوں میں وفا کا ذکر آئے گا نظر صبر کیجے وہ کتابیں بھی جلا دی جائیں گی آپ اور تم کا تصور بھی فنا ہو جائے گا جتنی قدریں ہیں ...

مزید پڑھیے

کبھی شعور کبھی دل کبھی سخن مہکے

کبھی شعور کبھی دل کبھی سخن مہکے کہو وہ شعر کہ دنیائے فکر و فن مہکے عطا ہمیں بھی جو ہو جائے میرؔ کا انداز تو لفظ لفظ سے معنی کا پیرہن مہکے رہوں خموش تو پھولوں کو نیند آ جائے پڑھوں جو شعر تو لفظوں کا بانکپن مہکے لرزتے ہونٹوں کی وہ گفتگو تو یاد نہیں بس اتنا یاد ہے برسوں لب و دہن ...

مزید پڑھیے

حقیقتوں سے کبھی انحراف مت کیجے

حقیقتوں سے کبھی انحراف مت کیجے قصور جس کا ہو اس کو معاف مت کیجے کسی بزرگ کے چہرے پہ کچھ نہیں لکھا ادب تو کیجیے اس کا طواف مت کیجے خطا ہو آپ کی تو کیجیے اسے تسلیم خطا نہ ہو تو کبھی اعتراف مت کیجے معاہدہ ہو تعلق ہو انکساری ہو کبھی مزاج کے اپنے خلاف مت کیجے وہ گھر کا راز ہو یا ...

مزید پڑھیے

دل میں رہنا کبھی خوابوں کے نگر میں رہنا

دل میں رہنا کبھی خوابوں کے نگر میں رہنا تم جہاں رہنا محبت کے سفر میں رہنا خیر مقدم کے لئے آؤں گا میں بھی اک دن تم ابھی سلسلۂ شام و سحر میں رہنا وقت سمتوں کے تعین کو بدل سکتا ہے تم مرے ساتھ محبت کے سفر میں رہنا معجزہ یہ بھی ہے اس دور کے فنکاروں کا آگ سے کھیلنا اور موم کے گھر میں ...

مزید پڑھیے

بجز خیال غم محبت کوئی مرا ہم سفر نہیں ہے

بجز خیال غم محبت کوئی مرا ہم سفر نہیں ہے میں اب وہاں سے گزر رہا ہوں جہاں کسی کا گزر نہیں ہے الم بھی کب ساتھ چھوڑ جائے کسی کو اس کی خبر نہیں ہے بہار تو پھر بہار ٹھہری خزاں بھی اب معتبر نہیں ہے فضائیں نکہت میں ڈھل رہی ہیں وفا کا اقرار ہو رہا ہے خود اپنے جلووں میں وہ بھی گم ہیں ہمیں ...

مزید پڑھیے

خواب تیرے ہیں یہ خوابوں کا نگر تیرا ہے

خواب تیرے ہیں یہ خوابوں کا نگر تیرا ہے ذکر انفاس میں ہر شام و سحر تیرا ہے جلوہ ہر گام سر راہ گزر تیرا ہے آنکھ میری ہے مگر حسن نظر تیرا ہے بے ارادہ جو اٹھے ہیں وہ قدم میرے ہیں بے محابا جو گزرتا ہے سفر تیرا ہے میری بے ربط دعاؤں کو رسائی دے دے لفظ میرے ہیں مگر باب اثر تیرا ہے زندگی ...

مزید پڑھیے

ایک ہندوستانی کی مناجات

دلوں میں ہمارے محبت جگا دے رگ و پے سے نفرت کا جذبہ مٹا دے خدایا سبق ایکتا کا پڑھا دے ہمیں آج پھر بھائی بھائی بنا دے کہ آسان ہو جائے جینا ہمارا نگاہوں میں چمکے سکوں کا ستارہ ہر اک سمت میں آج ہلچل مچی ہے کہیں بیکلی ہے کہیں کھلبلی ہے کہیں آگ دیوار و در میں لگی ہے کسی گھر کی بنیاد میں ...

مزید پڑھیے

ہجرت

وہ آغوش جس میں پلے اور پل کر جواں ہم ہوئے ہیں اسے چھوڑنے کی تدابیر کرنے میں مصروف ایسے ہوئے ہیں کہ زنداں سے قیدی رہائی کی راہوں کی تعمیر کرنے میں مشغول ہوتے ہیں جیسے وہ آغوش جس میں جواں ہم ہوئے ہیں اسے چھوڑ کر دور جانے کے احساس سے جو خوشی مل رہی ہے کسی بھی طرح اس سے کمتر نہیں ہے جو ...

مزید پڑھیے

بہت خوبصورت ہمارا وطن ہے

بہت خوب صورت ہمارا وطن ہے انوکھا ہے سب سے نرالا وطن ہے سبھی رنگ کے پھول اس میں کھلے ہیں بہشتی مناظر بھی اس کو ملے ہیں کہیں رات رانی کی خوشبو بسی ہے کہیں پر چنبیلی کی نکہت گھلی ہے کہیں پر دھنک سات رنگی تنی ہے کہیں نور کی کوئی چادر بچھی ہے کسی سمت میں کوئی دریا رواں ہے کہیں کوہساروں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4102 سے 5858