منظر ہوش سے آگے بھی نظر جانے دے
منظر ہوش سے آگے بھی نظر جانے دے جا رہا ہے یہ مسافر تو ادھر جانے دے تیری آواز کی پرواز میں ہے میرا وجود اپنی گفتار کے پردوں میں بکھر جانے دے نہ کوئی چشم تمنا نہ کوئی دست دعا زندگی تو مجھے بے لوث گزر جانے دے تیرے قابل بھی نہیں تیرے مقابل بھی نہیں ہم سفر ساتھ مجھے اپنے مگر جانے ...