شاعری

منظر ہوش سے آگے بھی نظر جانے دے

منظر ہوش سے آگے بھی نظر جانے دے جا رہا ہے یہ مسافر تو ادھر جانے دے تیری آواز کی پرواز میں ہے میرا وجود اپنی گفتار کے پردوں میں بکھر جانے دے نہ کوئی چشم تمنا نہ کوئی دست دعا زندگی تو مجھے بے لوث گزر جانے دے تیرے قابل بھی نہیں تیرے مقابل بھی نہیں ہم سفر ساتھ مجھے اپنے مگر جانے ...

مزید پڑھیے

دیکھا نہیں وہ آدمی تنہا کہوں جسے

دیکھا نہیں وہ آدمی تنہا کہوں جسے وہ آج تک ملا نہیں اپنا کہوں جسے صدیوں سے انتظار ہے اس ایک شخص کا آئے ہو کتنی دیر سے اتنا کہوں جسے نظریں ترس کے رہ گئیں تا عکس آبشار دیکھا نہیں ہے پانی کا قطرہ کہوں جسے کون و مکاں میں موجزن ہے تیری آگہی اک لمحہ بھی ملا نہیں تیرا کہوں جسے دریا ہوں ...

مزید پڑھیے

پل بھر کا مہمان

کون آیا ہے یہ کس نے پھونک کر رکھے قدم دہلیز پر چپ چاپ چوروں کی طرح رات کی تاریکیوں میں سرسراہٹ سانپ کی سانس کو سینے کے اندر روک لو سن نہ لے قدموں کی آہٹ دل کی دھڑکن کو کہو چپ سادھ لے دل کا در وا تو نہ تھا پر وہ تو دروازے سے اندر آ گیا اس نے دستک بھی نہ دی ایک سائے کی طرح ہے ساتھ ...

مزید پڑھیے

دوست رخصت ہو گئے

دوست رخصت ہو گئے ان سے ملاقاتیں گئیں باتیں گئیں شہر تھا آباد جن کے دم قدم سے وہ ہماری چاندنی راتیں گئیں مرنے والے مر گئے زندہ مگر ہم بھی نہیں وہ تو غسل آخری لے کر ہوئے پھر تازگی سے آشنا نتھرے ستھرے اوڑھ کر اپنی سفیدی کے کفن کافور کی خوشبو کو نتھنوں میں سمائے سو گئے آرام سے ٹھنڈے ...

مزید پڑھیے

وجود اور ابن آدم

۱ ہم کسی اور ستارے سے یہاں آئے تھے یاد رکھنا تھی یہی بات مگر بھول گئے ہم نے جب چاند پہ رکھا تھا قدم یاد آیا تھا ہمیں اس کا بدن ہم مگر اپنوں کی باتوں میں مگن وادیٔ یاد کی گہرائی میں اترے ہی نہیں کاش اس لمحے کی آواز کو ہم سن لیتے پھر ہمیں وقت کے چنگل سے رہائی ہوتی غار کے پار سفیدی نہ ...

مزید پڑھیے

آرزو

ڈھم ڈھم ڈھم ڈھم ڈھولک باجے چھم چھم چھم چھم بھالو ناچے ٹھمک ٹھمک کر مادھو ناچے مٹک مٹک کر راگھو ناچے چھوٹا بھیا بھٹو ناچے ہر پنجرے کا مٹھو ناچے سونڈ اٹھا کر ہاتھی ناچے ہاتھی کا ہر ساتھی ناچے ہن ہن کر کے گھوڑا ناچے گھوڑے کا ہر جوڑا ناچے بھابھی ناچے بھیا ناچے تاتا تاتا تھیا ...

مزید پڑھیے

ترا حسن ہے وہ صہبا کہ کوئی مثال کیا دے

ترا حسن ہے وہ صہبا کہ کوئی مثال کیا دے کبھی تشنگی بجھا دے کبھی تشنگی بڑھا دے یہ جہاں ہے اک تماشہ کوئی دوست ہے نہ دشمن وہی آگ روشنی دے وہی آشیاں جلا دے یہ طریق دلبری ہے کہ ادائے دلنوازی کسی جرم پر نوازے کسی جرم پر سزا دے ابھی ظلمت خرد میں ہے وفا کی تابناکی یہ چراغ بجھ نہ جائے ...

مزید پڑھیے

غم دیتے ہیں تو اضطراب نہ دے

غم دیتے ہیں تو اضطراب نہ دے زندگی دے مگر عذاب نہ دے مسکرانے کے ہیں کئی مفہوم مسکرا کر کوئی جواب نہ دے اس کی تعبیر کس سے پوچھوں گا میری آنکھوں کو کوئی خواب نہ دے خود شناسی مٹائے دیتا ہے عیش اتنا بھی بے حساب نہ دے مجھ کو جو چاہے دے سزا لیکن مصلحت کی کوئی نقاب نہ دے تیری ضد ہے یہی ...

مزید پڑھیے

یا رب دل و نظر پہ مسلط کبھی نہ ہو

یا رب دل و نظر پہ مسلط کبھی نہ ہو وہ بے خودی کہ جس میں شعور خودی نہ ہو اتنا نہ دور جاؤ حد اختلاف سے ممکن ہے پھر وہاں سے کبھی واپسی نہ ہو دل میں خلوص ہو تو ہو اک مستقل خلوص وہ کیا خلوص ہے جو کبھی ہو کبھی نہ ہو ترک تعلقات کی اک شرط یہ بھی تھی دل ٹوٹ جائے اور کوئی آواز بھی نہ ہو جی ...

مزید پڑھیے

تیری تصویر کو دھندلا نہیں ہونے دیں گے

تیری تصویر کو دھندلا نہیں ہونے دیں گے زندگی ہم تجھے رسوا نہیں ہونے دیں گے سر پہ ہر لمحہ رہیں گے ترے آنچل کی طرح تو غزل ہے تجھے تنہا نہیں ہونے دیں گے جن مکانوں سے ہے منسوب خدا کی عظمت ان مکانوں میں اندھیرا نہیں ہونے دیں گے جان جاتی ہے چلی جائے بلا سے لیکن ہم محبت کو تماشا نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4101 سے 5858