شاعری

ہے گرم انتخاب کا بازار دیکھنا

ہے گرم انتخاب کا بازار دیکھنا اہل ہوس کے بکنے کی رفتار دیکھنا ہوں گے ستم کے ہاتھوں گرفتار بے گناہ توہین عدل بر سر دربار دیکھنا تاریخ اپنے خون سے لکھیں گے پھر ہمیں پیدا ہوئے ہیں پھر وہی آثار دیکھنا میرے وطن کی آن پہ آنے نہ دے گا آنچ کوئی تو ہوگا صاحب کردار دیکھنا دکھلائے گا یہ ...

مزید پڑھیے

کبھی جو خط مجھے لکھنا محبتیں لکھنا

کبھی جو خط مجھے لکھنا محبتیں لکھنا برا شگون ہے ہر دم شکایتیں لکھنا یہ زیست اور بھی نکھرے گی پیار کرنے سے جو میرے ہجر میں گزریں قیامتیں لکھنا تقاضہ تم سے کروں گی تو روٹھ جاؤ گے پسند کب ہے مجھے بھی شکایتیں لکھنا تم آتے جاتے رہو یہ بہت ہے میرے لئے نہ آ سکو جو کبھی تم قباحتیں ...

مزید پڑھیے

مزاج مستقل دینا شعور معتبر دینا

مزاج مستقل دینا شعور معتبر دینا جھکا پائے نہ جس کو وقت کا طوفاں وہ سر دینا مجھے عمر خضر دینا کہ عمر مختصر دینا مرے افکار لیکن زندۂ جاوید کر دینا جو اٹھے سمت ماضی وہ نظر میرا نہیں حاصل پس دیوار مستقبل جو دیکھے وہ نظر دینا مجاہد جنگ کے میداں کو جائے جس طرح گھر سے یہ منظر ذہن میں ...

مزید پڑھیے

کبھی شادماں کبھی پر الم تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

کبھی شادماں کبھی پر الم تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ کرم کے روپ میں اک ستم تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہی عہد رسم و رہ وفا وہ دل و نظر کا معاملہ مجھے یاد ہے مرے محترم تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہی غنچہ غنچہ و گل بہ گل وہی رخ بہ رخ وہی دل بہ دل کبھی تھے چمن کی بہار ہم تمہیں یاد ہو ہو کہ ...

مزید پڑھیے

کیا کرے حال دل بیاں کوئی

کیا کرے حال دل بیاں کوئی نہ رہا زیب داستاں کوئی پھر ہے قلب و نظر میں یکسوئی کاش آ جائے ناگہاں کوئی آنکھ شبنم کی دیکھتی ہے کسے چاندنی میں ہوا جواں کوئی شہر سے دور دن کا پھول کھلا دشت میں بھی ہے گلستاں کوئی دل بھی ہم راز آرزو نکلا اب نہیں اپنا رازداں کوئی چھوڑ دکھ سکھ کی منزلوں ...

مزید پڑھیے

موسم بدل سکے نہ ترے انتظار کے

موسم بدل سکے نہ ترے انتظار کے اب کے بھی دن گزر گئے یوں ہی بہار کے غم خیز و غم شناس مری پر شکوہ رات کب آؤگی پہاڑ سا یہ دن گزار کے آیا حضور یار سے شاعر کو یہ پیام آئے شراب‌ و شعر کا چوغا اتار کے دل میں ترے اتر نہ سکی میری کوئی بات لکھے ہیں لاکھ شعر غزل کے سنوار کے ایک مشت خاک بن کے ...

مزید پڑھیے

رات پھر جانب سحر آئی

رات پھر جانب سحر آئی کتنی دشوار رہ گزر آئی چاند تاروں کے پھول مرجھائے جب بھی شبنم کی آنکھ بھر آئی حسرتوں کا سفید فام کفن کون پہنے ہوئے کدھر آئی کس تمنا کی چشم آوارہ ٹھوکریں کھا کے در بدر آئی آج رنگ شفق عجیب سا تھا دل کی تصویر سی اتر آئی اک زمانہ ہوا خزاں گزرے دل اجڑنے کی اب ...

مزید پڑھیے

زنجیر میں ہیں دیر و حرم کون و مکاں بھی

زنجیر میں ہیں دیر و حرم کون و مکاں بھی ہے عشق ہمیں ان سے نہیں جن کا گماں بھی جو جسم کے ذروں میں خدا ڈھونڈ رہی ہے یوسف کی زلیخا میں ہے وہ روح تپاں بھی اس مہر خموشی میں نہاں روح تکلم اس سوئے ہوئے شہر کی ہے اپنی زباں بھی ہر لہر کے سینے سے لپٹتا ہے مرا دل منجدھار کے اس پار ہو ساحل کا ...

مزید پڑھیے

پتے نہیں کہیں ہری شاخ شجر نہیں

پتے نہیں کہیں ہری شاخ شجر نہیں اس شہر میں بہار کی کوئی خبر نہیں رنگ خزاں میں لاکھ ملاؤں دلوں کے رنگ موج شراب و شعر میں کوئی اثر نہیں ڈوبے پڑے ہیں قلزم خواب و خیال میں موج رواں کہاں ہے کسی کو خبر نہیں دریا میں موج بن کے کہاں تک رہے کوئی موج رواں بہ صورت دیوار و در نہیں اب منزل ...

مزید پڑھیے

بارہا ہو کے گئے ابر بہاراں خالی

بارہا ہو کے گئے ابر بہاراں خالی دشت میں پھول کھلے اور گلستاں خالی اب تو خلوت کدۂ عالم امکاں سے نکل اب یہاں کوئی نہیں عشق کا عنواں خالی پھر کسی جنت گم گشتہ کو دیکھا اس نے جسم پھر چھوڑ چلا جسم کا زنداں خالی وادیٔ زیست میں دل ڈھونڈھتا ہے نور کا رنگ چار سو گھورتی ہے چشم پریشاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4100 سے 5858