مجھ کو ہونا ہے تو درویش کے جیسا ہو جاؤں
مجھ کو ہونا ہے تو درویش کے جیسا ہو جاؤں منزلیں سب کے لئے اور میں رستہ ہو جاؤں کتنا دشوار ہے اک لمحہ بھی اپنا ہونا اس کو ضد ہے کہ میں ہر حال میں اس کا ہو جاؤں میں نے آنکھوں کو تری غور سے دیکھا ہے بہت یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ میں اندھا ہو جاؤں جو حرارت ہے بدن میں وہ ترے لمس کی ہے تو ...