شاعری

مجھ کو ہونا ہے تو درویش کے جیسا ہو جاؤں

مجھ کو ہونا ہے تو درویش کے جیسا ہو جاؤں منزلیں سب کے لئے اور میں رستہ ہو جاؤں کتنا دشوار ہے اک لمحہ بھی اپنا ہونا اس کو ضد ہے کہ میں ہر حال میں اس کا ہو جاؤں میں نے آنکھوں کو تری غور سے دیکھا ہے بہت یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ میں اندھا ہو جاؤں جو حرارت ہے بدن میں وہ ترے لمس کی ہے تو ...

مزید پڑھیے

یہ میں نے مانا کہ پہرہ ہے سخت راتوں کا

یہ میں نے مانا کہ پہرہ ہے سخت راتوں کا یہیں سے نکلے گا پھر قافلہ چراغوں کا یوں خوشبوؤں میں ڈبوئے ہوئے رکھوں کب تک گناہ کیوں نہ میں کر لوں قبول ہاتھوں کا چراغ پا ہے مری نیند ان دنوں مجھ سے میں کوئی شہر بسانے لگا تھا خوابوں کا ہرن سی چوکڑی بھرنے لگے گی ہر دھڑکن جو ذکر چھیڑ دوں اس ...

مزید پڑھیے

موسموں والے نئے دانہ و پانی والے

موسموں والے نئے دانہ و پانی والے ہم وہی لوگ وہی نقل مکانی والے ہاں بچا لیں گے یہی شہر کو جل جانے سے کچھ تو باقی ہیں ابھی شہر میں پانی والے رنگ کیا خوب جمے گا جو کبھی مل بیٹھیں اور کچھ لوگ طبیعت کی روانی والے اس لئے اور بھلا دیتا ہوں وعدے اکثر مجھ کو ملتے ہی نہیں یاد دہانی ...

مزید پڑھیے

ترے خلوص کے قصے سنا رہا ہوں میں

ترے خلوص کے قصے سنا رہا ہوں میں پرانا قرض ہے اب تک چکا رہا ہوں میں خدا کرے کہ وہی بات اس کے دل میں ہو جو بات کہنے کی ہمت جٹا رہا ہوں میں سفر کہاں سے کہاں تک پہنچ گیا میرا رکے جو پاؤں تو کاندھوں پہ جا رہا ہوں میں سماعتوں کے سبھی در یہاں مقفل ہیں نہ جانے کب سے صدائیں لگا رہا ہوں ...

مزید پڑھیے

وقت کے ہاتھوں حکایات انا بھول گئے

وقت کے ہاتھوں حکایات انا بھول گئے ہم وفا بھول گئے آپ جفا بھول گئے کس کو سمجھائیں یہ سمجھانے کی باتیں کب ہیں وصل کب یاد رہا ہجر میں کیا بھول گئے کیا چمن چھوڑا پلٹ کر نہیں دیکھا اس کو رنگ گل بوئے سمن باد صبا بھول گئے بجھ گئی شمع جنوں لٹ گئی بزم یاراں اہل دل سوزش جاں ہوتی ہے کیا ...

مزید پڑھیے

کبھی گل کے کبھی گلزار کے بوسے

کبھی گل کے کبھی گلزار کے بوسے جبیں کے چشم کے رخسار کے بوسے لہو کی سرخیوں میں پے بہ پے ہمدم مہکتے ہیں تری دیوار کے بوسے لہو کی سرکشی میرا مقدر ہے مجھے مرغوب ہیں تلوار کے بوسے فلک تکتا رہا حیرت سے اس کا منہ زمیں لیتی رہی رفتار کے بوسے ہوا میں سر بسر اعجاز ہے کوئی خلا میں ثبت ہیں ...

مزید پڑھیے

اب موت سے بچائے کہاں زیست کیا مجال

اب موت سے بچائے کہاں زیست کیا مجال پھیلے ہوئے ہیں جسم میں نیلی رگوں کے جال یوں تو نہیں کہ عمر گنوائی ہے دھوپ میں پھبتی سی کس رہے ہیں یہ سر کے سفید بال مہلت کسے ملے ہے یہاں لب کشائی کی آنکھوں میں ناچ ناچ کے تھکتے رہے سوال ملبوس تو بدن سے کبھی کا اتر چکا تب لطف آئے جسم سے کھنچ جائے ...

مزید پڑھیے

جلوہ چاروں اور تھا

جلوہ چاروں اور تھا بیچ میں اک مور تھا سیدھا سادا آدمی برتا تو چوکور تھا دہراؤں الفاظ کو آوازوں کا شور تھا مرضی اس کی چھوڑیئے اپنا کوئی زور تھا آنکھوں میں کیوں خوف تھا دل میں کوئی چور تھا میں دلی میں منتظر وہ پاپی لاہور تھا

مزید پڑھیے

لڑکھڑاتا ہوں کبھی خود ہی سنبھل جاتا ہوں

لڑکھڑاتا ہوں کبھی خود ہی سنبھل جاتا ہوں میں بھی رستوں کے ہی برتاؤ میں ڈھل جاتا ہوں منتیں مجھ سے کیا کرتے ہیں دریا آ کر اور میں پیاس چھپا کر کے نکل جاتا ہوں دن وراثت میں مجھے روشنی دے جاتا ہے وہ دیا ہوں کہ سر شام ہی جل جاتا ہوں چاک پہ آ کے نہیں چلتی ہے مرضی میری یہ بہت ہے جو کسی ...

مزید پڑھیے

ہستی کو تری بس ہے میاں گل کی اشارت

ہستی کو تری بس ہے میاں گل کی اشارت کافی ہے مرے نالے کو بلبل کی اشارت فتویٰ طلب اے یار نہ قاضی سے کروں میں توبہ شکنی کو ہے مری مل کی اشارت مل بیٹھ میری آنکھوں میں ہے ساعت نیک آج یہ چشم ترازو ہیں ترے تل کی اشارت ہے باعث جمعیت دل ایک جہاں کی اے شوخ پریشانیٔ کاکل کی اشارت تقویٰ کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 897 سے 4657