شاعری

جب تلک یہ سوچوں کا زاویہ نہ بدلے گا

جب تلک یہ سوچوں کا زاویہ نہ بدلے گا منزلیں نہ بدلیں گی راستہ نہ بدلے گا دیکھ کر لکیروں کو یہ کہا نجومی نے درد ہی مقدر ہے زائچہ نہ بدلے گا عشق کی طبیعت میں مستقل مزاجی ہے مشکلوں کو سہہ لے گا راستہ نہ بدلے گا اپنی اپنی فطرت کی سب لڑائی لڑتے ہیں خیر و شر کا آپس میں معرکہ نہ بدلے ...

مزید پڑھیے

تنگ ہوں گھر کی سنساہٹ سے

تنگ ہوں گھر کی سنساہٹ سے ہول اٹھتے ہیں ایک آہٹ سے کتنے ہی دل خریدتا ہے وہ ایک ہلکی سی مسکراہٹ سے سر ہواؤں میں رقص کرتے ہیں تیرے لہجے کی گنگناہٹ سے نیم مردہ سی خواہشیں اور مرے خواب جاگے ہیں تیری آہٹ سے فاطمہؔ یاد کس کی آئی ہے بھر گئی آنکھ جھلملاہٹ سے

مزید پڑھیے

رونق دل بڑھائے رکھتے ہیں

رونق دل بڑھائے رکھتے ہیں غم کو مہماں بنائے رکھتے ہیں رات خوابوں میں جاگنے کے لیے خود کو دن بھر سلائے رکھتے ہیں آخرش دل غروب ہوتا ہے جس قدر ہم بچائے رکھتے ہیں حسرتوں کے چراغ جلتے ہیں خود سے ہی لو لگائے رکھتے ہیں دل کی تنہائی انجمن اپنی سب سے دامن بچائے رکھتے ہیں

مزید پڑھیے

یہ زرد پتے یہ سرد موسم (ردیف .. ن)

یہ زرد پتے یہ سرد موسم کہر میں لپٹی اداس شامیں ہمارے کب اختیار میں ہے تمہارے ہاتھوں کو اب جو تھامیں چلو تمہیں یاد کرکے رو لیں ہم اپنا دامن ذرا بھگو لیں تمہاری خواہش میں جی رہے ہیں سو زہر تنہائی پی رہے ہیں

مزید پڑھیے

بس مجھے وہ شخص ہی اچھا لگے

بس مجھے وہ شخص ہی اچھا لگے جھوٹ بھی بولے تو وہ سچا لگے میں بسی ہوں اس کی ہر اک سانس میں بچھڑی تو مر جائے گا ایسا لگے میں کہیں ہوں وہ کہیں ہم ایک ہیں ہر جگہ بس وہ مجھے میرا لگے ماضی کی چوکھٹ پہ دستک دل کی ہے یاد اس کی اک ادائے پا لگے کون سا الزام نہ مجھ پر لگا آئنہ دیکھے وہ کب اچھا ...

مزید پڑھیے

جانے کیا تھی بات مجھے کچھ یاد نہیں

جانے کیا تھی بات مجھے کچھ یاد نہیں ختم ہوئی کب رات مجھے کچھ یاد نہیں دل میں جینے کی اک خواہش ہوتی تھی اب ہیں جو حالات مجھے کچھ یاد نہیں گرم رتوں میں میں نے دعائیں مانگی تھیں کب آئی برسات مجھے کچھ یاد نہیں بچپن میں اک کھیل تو میں نے کھیلا تھا جیت ہوئی یا مات مجھے کچھ یاد ...

مزید پڑھیے

جہان دل میں ہوئے انقلاب اور ہی کچھ

جہان دل میں ہوئے انقلاب اور ہی کچھ مری نگاہ نے دیکھے تھے خواب اور ہی کچھ ملے ہیں طالب ایفا کو کچھ نئے وعدے سوال اور ہی کچھ تھا جواب اور ہی کچھ ڈرا نہ نار جہنم سے مجھ کو اے واعظ مرے جنم میں لکھے ہیں عذاب اور ہی کچھ سجا کے لائے تھے کچھ لوگ نامۂ اعمال میان حشر ہوا احتساب اور ہی ...

مزید پڑھیے

وہ کہاں وقت کہ موڑیں گے عناں اور طرف

وہ کہاں وقت کہ موڑیں گے عناں اور طرف دل کسی اور طرف ہے تو زباں اور طرف ہیں ابھی اہل ہوس سود و زیاں کے ہی اسیر پھیرتے ہیں یوں ہی باتوں سے گماں اور طرف آہ سوزاں کو مری دیکھ نہ دیکھا ہوگا کہ ہوا اور طرف کی ہو دھواں اور طرف رخ رہا تا بہ سحر اور ہی جانب اپنا اور تھا مطلع انوار فشاں اور ...

مزید پڑھیے

کس طرح لب پہ ہنسی بن کے فغاں آتی ہے

کس طرح لب پہ ہنسی بن کے فغاں آتی ہے مجھ سے پوچھو مجھے پھولوں کی زباں آتی ہے زہر غم پیجے تو الفاظ میں رس آتا ہے دل کو خوں کیجے تو افکار میں جاں آتی ہے خیر ہو دل کی کہ پھر لے وہی چھیڑی اس نے جیسے کشتی کی طرف موج رواں آتی ہے شکن زلف بھی ہے حسن طرب میں گویا کھنچ کے ہر تان میں تصویر ...

مزید پڑھیے

ادھر موسم کی یہ خوش اہتمامی

ادھر موسم کی یہ خوش اہتمامی ادھر رندوں کی یہ حسرت بجامی ہوائیں چل رہی ہیں سنسناتی گھٹائیں اٹھ رہیں ہیں دھوم دھامی یہ ہے عکس ہلال اے موج ساحل کہ شمشیر بدن کی بے نیامی پھڑکتا جا مثال بال جبریل نہ چپ ہو اے دل اے میرے پیامی کھلے ہیں پانچ در اک سمت دریا نوشتے میں یہیں تھی ایک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 851 سے 4657