شاعری

تم بھٹک جاؤ تو کچھ ذوق سفر آ جائے گا

تم بھٹک جاؤ تو کچھ ذوق سفر آ جائے گا مختلف رستوں پہ چلنے کا ہنر آ جائے گا میں خلا میں دیکھتا رہتا ہوں اس امید پر ایک دن مجھ کو اچانک تو نظر آ جائے گا تیز اتنا ہی اگر چلنا ہے تنہا جاؤ تم بات پوری بھی نہ ہوگی اور گھر آ جائے گا یہ مکاں گرتا ہوا جب چھوڑ جائیں گے مکیں اک پرندہ ...

مزید پڑھیے

ہے نیند ابھی آنکھ میں پل بھر میں نہیں ہے

ہے نیند ابھی آنکھ میں پل بھر میں نہیں ہے کروٹ کوئی آرام کی بستر میں نہیں ہے ساحل پہ جلا دے جو پلٹنے کا وسیلہ اب ایسا جیالا مرے لشکر میں نہیں ہے پھیلاؤ ہوا ہے مرے ادراک سے پیدا وسعت مرے اندر ہے سمندر میں نہیں ہے سیکھا نہ دعاؤں میں قناعت کا سلیقہ وہ مانگ رہا ہوں جو مقدر میں نہیں ...

مزید پڑھیے

گزر چکا ہے جو لمحہ وہ ارتقا میں ہے

گزر چکا ہے جو لمحہ وہ ارتقا میں ہے مری بقا کا سبب تو مری فنا میں ہے نہیں ہے شہر میں چہرہ کوئی تر و تازہ عجیب طرح کی آلودگی ہوا میں ہے ہر ایک جسم کسی زاویے سے عریاں ہے ہے ایک چاک جو موجود ہر قبا میں ہے غلط روی کو تری میں غلط سمجھتا ہوں یہ بے وفائی بھی شامل مری وفا میں ہے مرے گناہ ...

مزید پڑھیے

مری نظر مرا اپنا مشاہدہ ہے کہاں

مری نظر مرا اپنا مشاہدہ ہے کہاں جو مستعار نہیں ہے وہ زاویہ ہے کہاں اگر نہیں ترے جیسا تو فرق کیسا ہے اگر میں عکس ہوں تیرا تو آئنہ ہے کہاں ہوئی ہے جس میں وضاحت ہمارے ہونے کی تری کتاب میں آخر وہ حاشیہ ہے کہاں یہ ہم سفر تو سبھی اجنبی سے لگتے ہیں میں جس کے ساتھ چلا تھا وہ قافلہ ہے ...

مزید پڑھیے

تم انتظار کے لمحے شمار مت کرنا

تم انتظار کے لمحے شمار مت کرنا دیئے جلائے نہ رکھنا سنگار مت کرنا مری زبان کے موسم بدلتے رہتے ہیں میں آدمی ہوں مرا اعتبار مت کرنا کرن سے بھی ہے زیادہ ذرا مری رفتار نہیں ہے آنکھ سے ممکن شکار مت کرنا تمہیں خبر ہے کہ طاقت مرا وسیلہ ہے تم اپنے آپ کو بے اختیار مت کرنا تمہارے ساتھ ...

مزید پڑھیے

سامنے رہ کر نہ ہونا مسئلہ میرا بھی ہے

سامنے رہ کر نہ ہونا مسئلہ میرا بھی ہے اس کہانی میں اضافی تذکرہ میرا بھی ہے بے سبب آوارگی مصروف رکھتی ہے مجھے رات دن بیکار پھرنا مشغلہ میرا بھی ہے بات کر فرہاد سے بھی انتہائے عشق پر مشورہ مجھ سے بھی کر کچھ تجربہ میرا بھی ہے کیا ضروری ہے اندھیرے میں ترا تنہا سفر جس پہ چلنا ہے ...

مزید پڑھیے

کہاں تلاش میں جاؤں کہ جستجو تو ہے

کہاں تلاش میں جاؤں کہ جستجو تو ہے کہیں نہیں ہے یہاں اور چار سو تو ہے محاذ جنگ پہ کھلتے نہیں ہیں ہاتھ مرے میں کیا کروں کہ مقابل مرا عدو تو ہے بدل گیا ہے زمانہ بدل گئی دنیا نہ اب وہ میں ہوں مری جاں نہ اب وہ تو تو ہے کسی نے اٹھ کے یہاں سے کہیں نہیں جانا سجی ہے بزم کہ موضوع گفتگو تو ...

مزید پڑھیے

اگر چبھتی ہوئی باتوں سے ڈرنا پڑ گیا تو

اگر چبھتی ہوئی باتوں سے ڈرنا پڑ گیا تو محبت سے کبھی تم کو مکرنا پڑ گیا تو تری بکھری ہوئی دنیا سمیٹے جا رہا ہوں اگر مجھ کو کسی دن خود بکھرنا پڑ گیا تو ذخیرہ پشت پر باندھا نہیں تم نے ہوا کا کہیں گہرے سمندر میں اترنا پڑ گیا تو وہ مجھ سے دور ہوتا جا رہا ہے رفتہ رفتہ اگر اس کو کبھی ...

مزید پڑھیے

دیر تک چند مختصر باتیں

دیر تک چند مختصر باتیں اس سے کیں میں نے آنکھ بھر باتیں تو مرے پاس جب نہیں ہوتا تجھ سے کرتا ہوں کس قدر باتیں کیسی بیچارگی سے کرتے ہیں بے اثر لوگ با اثر باتیں دیکھ بچوں سے گفتگو کر کے کیسی ہوتیں ہیں بے ضرر باتیں سن کبھی بے خودی میں کرتے ہیں بے خبر لوگ با خبر باتیں اس کی عادت ہے ...

مزید پڑھیے

بنائی ہے تری تصویر میں نے ڈرتے ہوئے

بنائی ہے تری تصویر میں نے ڈرتے ہوئے لرز رہا تھا مرا ہاتھ رنگ بھرتے ہوئے میں انہماک میں یہ کس مقام تک پہنچا تجھے ہی بھول گیا تجھ کو یاد کرتے ہوئے نظام کن کے سبب انتشار ہے مربوط یہ کائنات سمٹتی بھی ہے بکھرتے ہوئے کہیں کہیں تو زمیں آسماں سے اونچی ہے یہ راز مجھ پہ کھلا سیڑھیاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3907 سے 4657