شاعری

صدائے قیس شوق دشت پیمائی نم دانم

صدائے قیس شوق دشت پیمائی نم دانم نہ جانے کون سی کل کھینچ کے لائی نمی دانم فقیروں کو مرے شاہانا خلعت سے نوازا ہے عقیدت ہے یا رنگ ذات آرائی نمی دانم کھڑے ہیں راستے میں ہاتھ باندھے پیڑ صف بستہ ہوا کیوں چاندنی کے دوش پر آئی نمی دانم وجود خاک سے لپٹے رہے پہلو کے انگارے بدن کی آگ ...

مزید پڑھیے

بھول کر تو سارے غم اپنے چمن میں رقص کر

بھول کر تو سارے غم اپنے چمن میں رقص کر جاگ اے درویش جاں میرے بدن میں رقص کر ڈال کر چادر وفا کی تو مزار عشق پر دار منصوری پہ آ اس پیرہن میں رقص کر تو گریباں چاک جو نکلا ہے غم کی بھیڑ میں جا چلا جا چھوڑ سب تو اس کے من میں رقص کر بارگاہ حسن میں جھک کر سلامی پیش کر باندھ کر گھنگرو گلوں ...

مزید پڑھیے

سفینہ غرق ہوا میرا یوں خموشی سے (ردیف .. ا)

سفینہ غرق ہوا میرا یوں خموشی سے کہ سطح آب پہ کوئی حباب تک نہ اٹھا سمجھ نہ عجز اسے تیرے پردہ دار تھے ہم ہمارا ہاتھ جو تیرے نقاب تک نہ اٹھا جھنجھوڑتے رہے گھبرا کے وہ مجھے لیکن میں اپنی نیند سے یوم حساب تک نہ اٹھا جتن تو خوب کیے اس نے ٹالنے کے مگر میں اس کی بزم سے اس کے جواب تک نہ ...

مزید پڑھیے

دل اور طرح آج تو گھبرایا ہوا ہے

دل اور طرح آج تو گھبرایا ہوا ہے اے بے خبری چونک کوئی آیا ہوا ہے سلگے ہوئے بوسے یہ ہوا کے ہیں فنا کے دل خوف سے ہر پھول کا تھرایا ہوا ہے تاکہ نہ نگاہوں کو اندھیرے نظر آئیں آئینہ اجالوں نے یہ چمکایا ہوا ہے اے رات نہ فاخر ہو ستاروں کی چمک پر وہ چاند بھی تیرا ہے جو گہنایا ہوا ہے

مزید پڑھیے

ساحل انتظار میں تنہا (ردیف .. ے)

ساحل انتظار میں تنہا یاد وہ لہر لہر آئے مجھے دشت دیوانگی کے ٹیلوں پر رقص کرتی ہوا بلائے مجھے اجنبی مجھ سے آ گلے مل لے آج اک دوست یاد آئے مجھے بھول بیٹھا ہوں میں زمانے کو اب زمانہ بھی بھول جائے مجھے اک گھروندا ہوں ریت کا پیہم کوئی ڈھائے مجھے بنائے مجھے ایک حرف غلط ہوں ہستی ...

مزید پڑھیے

دل گرفتہ ہوں جہاں شاد ہوں میں

دل گرفتہ ہوں جہاں شاد ہوں میں ایک مجموعۂ اضداد ہوں میں تیرا میرا ہے گماں کا رشتہ تو ہے میری تری ایجاد ہوں میں تجھ کو یہ غم کہ گرفتار ہے تو مجھ کو یہ رنج کے آزاد ہوں میں کوئی رستہ ہے نہ کوئی منزل گرد ہوں اور سر باد ہوں میں تن تنہا کا ہوں اپنے ناصر خود کو پہنچی ہوئی امداد ہوں ...

مزید پڑھیے

کدورت سے غبار آلودہ آئینہ نہیں رہتا

کدورت سے غبار آلودہ آئینہ نہیں رہتا مرے چہرے پہ کوئی دوسرا چہرہ نہیں رہتا غموں کی دھوپ سے چہرے وہاں مرجھائے رہتے ہیں تری زلف معنبر کا جہاں سایہ نہیں رہتا کوئی منظر بھی ہو افسردہ افسردہ سا لگتا ہے تصور میں کسی کا جب رخ زیبا نہیں رہتا در و دیوار سے یہ کیسی ویرانی ٹپکتی ہے تری ...

مزید پڑھیے

زمانہ صورت دیوار کیوں ہے

زمانہ صورت دیوار کیوں ہے یہ خاموشی سر بازار کیوں ہے ادھر کچھ روز سے ہاتھوں میں اپنے بجائے شاخ گل تلوار کیوں ہے یہاں ہر راستہ ہے صاف سیدھا مگر ہر شخص کج رفتار کیوں ہے جو بستی چین سے سوتی تھی شب بھر وہ بستی خوف سے دو چار کیوں ہے بتاؤ بک گئے تم بھی نظرؔ کیا مقفل اب لب اظہار کیوں ...

مزید پڑھیے

ایک آنسو میں ترے غم کا احاطہ کرتے

ایک آنسو میں ترے غم کا احاطہ کرتے عمر لگ جائے گی اس بوند کو دریا کرتے عشق میں جاں سے گزرنا بھی کہاں ہے مشکل جان دینی ہو تو عاشق نہیں سوچا کرتے ایک تو ہی نظر آتا ہے جدھر دیکھتا ہوں اور آنکھیں نہیں تھکتی ہیں تماشا کرتے زندگی نے ہمیں فرصت ہی نہیں دی ورنہ سامنے تجھ کو بٹھا بیٹھ کے ...

مزید پڑھیے

ہر طرف حد نظر تک سلسلہ پانی کا ہے

ہر طرف حد نظر تک سلسلہ پانی کا ہے کیا کہیں ساحل سے کوئی رابطہ پانی کا ہے خشک رت میں اس جگہ ہم نے بنایا تھا مکان یہ نہیں معلوم تھا یہ راستہ پانی کا ہے آگ سی گرمی اگر تیرے بدن میں ہے تو ہو دیکھ میرے خون میں بھی ولولہ پانی کا ہے ایک سوہنی ہی نہیں ڈوبی مری بستی میں تو ہر محبت کا مقدر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3906 سے 4657