موجود جو نہیں وہی دیکھا بنا ہوا
موجود جو نہیں وہی دیکھا بنا ہوا آنکھوں میں اک سراب ہے دریا بنا ہوا اک اور شخص بھی ہے مرے نام کا یہاں اک اور شخص ہے مرے جیسا بنا ہوا سمجھا رہے ہو مجھ کو مرا ارتقا مگر دیکھا نہیں ہے آدمی پہلا بنا ہوا اے انہماک چشم ذرا یہ مجھے بتا چاروں طرف زمین پہ ہے کیا بنا ہوا کرنے لگا ہے طنز ...