شاعری

موجود جو نہیں وہی دیکھا بنا ہوا

موجود جو نہیں وہی دیکھا بنا ہوا آنکھوں میں اک سراب ہے دریا بنا ہوا اک اور شخص بھی ہے مرے نام کا یہاں اک اور شخص ہے مرے جیسا بنا ہوا سمجھا رہے ہو مجھ کو مرا ارتقا مگر دیکھا نہیں ہے آدمی پہلا بنا ہوا اے انہماک چشم ذرا یہ مجھے بتا چاروں طرف زمین پہ ہے کیا بنا ہوا کرنے لگا ہے طنز ...

مزید پڑھیے

مانا کسی ظالم کی حمایت نہیں کرتے

مانا کسی ظالم کی حمایت نہیں کرتے ہم لوگ مگر کھل کے بغاوت نہیں کرتے کرتے ہیں مسلسل مرے ایمان پہ تنقید خود اپنے عقیدوں کی وضاحت نہیں کرتے کچھ وہ بھی طبیعت کا سکھی ایسا نہیں ہے کچھ ہم بھی محبت میں قناعت نہیں کرتے جو زخم دیے آپ نے محفوظ ہیں اب تک عادت ہے امانت میں خیانت نہیں ...

مزید پڑھیے

ہونٹوں کو پھول آنکھ کو بادہ نہیں کہا

ہونٹوں کو پھول آنکھ کو بادہ نہیں کہا تجھ کو تری ادا سے زیادہ نہیں کہا برتا گیا ہوں صرف کسی سیر کی طرح تونے مجھے سفر کا ارادہ نہیں کہا کہتا تو ہوں تجھے میں گل خوش نما مگر خوش رنگ موسموں کا لبادہ نہیں کہا رہتے ہیں صرف تنگ نظر لوگ جس جگہ اس شہر بیکراں کو کشادہ نہیں کہا باندھا ہر ...

مزید پڑھیے

مکاں سے دور کہیں لا مکاں سے ہوتا ہے

مکاں سے دور کہیں لا مکاں سے ہوتا ہے سفر شروع یقیں کا گماں سے ہوتا ہے وہیں کہیں نظر آتا ہے آپ کا چہرہ طلوع چاند فلک پر جہاں سے ہوتا ہے ہم اپنے باغ کے پھولوں کو نوچ ڈالتے ہیں جب اختلاف کوئی باغباں سے ہوتا ہے مجھے خبر ہی نہیں تھی کہ عشق کا آغاز اب ابتدا سے نہیں درمیاں سے ہوتا ...

مزید پڑھیے

ہے مستقل یہی احساس کچھ کمی سی ہے

ہے مستقل یہی احساس کچھ کمی سی ہے تلاش میں ہے نظر دل میں بیکلی سی ہے کسی بھی کام میں لگتا نہیں ہے دل میرا بڑے دنوں سے طبیعت بجھی بجھی سی ہے بڑی عجیب اداسی ہے مسکراتا ہوں جو آج کل مری حالت ہے شاعری سی ہے گزر رہے ہیں شب و روز بے سبب میرے یہ زندگی تو نہیں صرف زندگی سی ہے تھکی تو ایک ...

مزید پڑھیے

دیا نہیں ہے مجھے چھپ چھپا کے رونے تک

دیا نہیں ہے مجھے چھپ چھپا کے رونے تک نظر میں اس نے رکھے میرے گھر کے کونے تک میں کیا بتاؤں کہ بیتے ہیں کیا کڑے موسم شدید کرب سے گزرا ہوں سنگ ہونے تک وہ روشنی کی طرح تیز تیز چلتا ہے گزر نہ جائے کہیں آنکھ میں سمونے تک کوئی کرے گا نہیں دیکھ بھال پھولوں کی سب اہتمام بہاراں ہے بیج ...

مزید پڑھیے

دامن گل میں کہیں خار چھپا دیکھتے ہیں

دامن گل میں کہیں خار چھپا دیکھتے ہیں آپ اچھا نہیں کرتے کہ برا دیکھتے ہیں ہم سے وہ پوچھ رہے ہیں کہ کہاں ہے اور ہم جس طرف آنکھ اٹھاتے ہیں خدا دیکھتے ہیں کچھ نہیں ہے کہ جو ہے وہ بھی نہیں ہے موجود ہم جو یوں محو تماشا ہیں تو کیا دیکھتے ہیں لوگ کہتے ہیں کہ وہ شخص ہے خوشبو جیسا ساتھ ...

مزید پڑھیے

اک دن خود کو اپنے اندر پھینکوں گا

اک دن خود کو اپنے اندر پھینکوں گا میں شیشہ ہوں لیکن پتھر پھینکوں گا تو پھینکے گی جھیل میں پھول کلائیوں کے اور میں اپنی ذات کے کنکر پھینکوں گا تیری خوشبو بسی ہوئی ہر سلوٹ میں کھائی میں لے جا کر میں بستر پھینکوں گا خواب میں تیرے پھول بدن کو نوچوں گا اپنی چیخیں تیرے اندر پھینکوں ...

مزید پڑھیے

ریت آنکھوں میں بھر گیا دریا

ریت آنکھوں میں بھر گیا دریا کیسے آیا کدھر گیا دریا راستہ مل سکا نہ آنکھوں سے میرے اندر ہی مر گیا دریا میں تو پیاسا تھا خشک صحرا سا مجھ میں کیسے اتر گیا دریا اس کی آنکھوں کی دیکھ گہرائی خامشی سے گزر گیا دریا بات کتنی تھی مختصر اس کی وہ تو کوزے میں بھر گیا دریا پھر مقدر وہاں ...

مزید پڑھیے

کیسا طلسم آج یہ طاری ہے جسم میں

کیسا طلسم آج یہ طاری ہے جسم میں تیرا ورود شوق سے جاری ہے جسم میں تم بھی نہ جان پاؤ گے اس دل کا اضطراب تم نے تو ایک عمر گزاری ہے جسم میں اک سبز روشنی ہے جو گھیرے ہوئے مجھے آیت ضحی کی کس نے اتاری ہے جسم میں یہ میرا عشق ہے کہ جو زندہ ہے مجھ میں تو ورنہ تو ایک سانس بھی بھاری ہے جسم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3905 سے 4657